Tujh Sa Kisi Ko Na Paya Afsana By Bint E Nazeer

Tujh Sa Kisi Ko Na Paya

Bint E Nazeer

 

میں نے جب ہوش سنبھالا ہمیشہ بابا کو یہی کہتے سنا۔
کاش کوئی بیٹا ہوتا۔
ہم تین بہنیں تھیں۔اللہ نے بابا کو اولاد نرینہ کی نعمت سے محروم رکھا تھا۔
یہ نہیں تھا کہ وہ ہمیں لاڈ پیار نہیں کرتے تھے۔بہت پیار کرتے تھے وہ ہم تینوں سے۔کبھی کسی چیز کی کمی نہیں محسوس ہونے دی۔
بس ایک حسرت تھی ان کے دل میں بیٹے کی۔
کبھی کبھی مجھے دکھ ہوتا تو بابا سے کہتی
کیا ہوا جو بیٹا نہیں ہے ہم آپکی بیٹیاں تو ہیں۔آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔
وہ کہتے۔
میری خواہش تھی بیٹے کی۔جو بڑھاپے میں میرا سہارا بنے۔
ہم ہیں نا آپ کا سہارا۔
اور وہ مسکرا کر کہتے
تم نہیں سمجھو گی۔
میں اور بابا بہت اچھے دوست تھے میں ہر بات بابا کے ساتھ شئیر کرتی تھی۔بہنوں کی شادی کے بعد میں ان سے زیادہ منسلک ہو گئی۔
میں چھوٹی ہونے کی وجہ سے زیادہ لاڈلی بھی تھی اور موڈی بھی۔جس چیز کی طلب ہو وہ مجھے نہ ملے تو میرا موڈ آف ہو جاتا تھا۔
اگر کبھی بابا کوئی چیز میرے لیے بازار سے لانا بھول جاتے تو فوراً میرا موڈ آف ہو جاتا۔
بابا ناراض ہو کر کہتے۔
باپ کی قدر نہیں ہے تمہیں۔بوڑھا ہوں بھول جاتا ہوں اگلی بار جاؤں گا تو لے آؤں گا۔
اور میں کہتی۔
آپ کو ہمیشہ میری چیزوں کی یاد نہیں رہتی۔
باپ مرے گا تو کہو گی اس نے میرے لیے کچھ نہیں کیا نہ کچھ لا کر دیا۔
ایسا تو نہ کہیں بابا۔ ان کی اس بات پر میں غمگین ہو جاتی۔

بابا جب اپنے کندھے پر گھر کا سودا سلف اٹھا کر لاتے تو مجھے احساس ہوتا کہ ہمارا بھائی ہوتا تو وہ ان کی مدد کرتا۔عورت کیسے بار بار بازار جا سکتی ہے۔ذرا سی بات اسکے دامن کو میلا کر سکتی ہے۔ایک بار بدنامی کا داغ لگ جاۓ تو ڈھنڈورا پیٹنے والوں میں اپنے سب سے آگے ہوتے ہیں۔مر بھی جائیں تو لوگ برائی سے ہی یاد کرتے ہیں۔اللہ بخشے فلاں شخص نے یہ کام کیا تھا۔
ترس آتا تھا مجھے بوڑھے باپ پہ۔مگر میں ان کی گھر میں خدمت کے علاوہ کیا کر سکتی تھی۔
پھر ایک دن اچانک بابا کی طبیعت خراب ہو گئی۔امی جان انہیں قریبی ہسپتال لے کر گئی۔ڈاکٹر نے جو ادویات دی ان سے بھی انہیں کچھ فرق نہیں پڑا۔آہستہ آہستہ ان کی صحت گرتی جا رہی تھی۔
امی جان نے بے بس ہو کر میرے چچا جان کو کال کی۔مگر انہوں نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔اس دن مجھے شدت سے احساس ہوا کاش میرا کوئی بھائی ہوتا۔اتنا بے بس نہ ہوتی میں۔کیسے بڑے ہسپتالوں کے چکر لگاؤں۔
ایک گاؤں کی رہنے والی سادہ سی لڑکی کو شہر کی چالاکیوں کا کیا پتہ۔
آخر امی جان پڑوس سے ایک لڑکے کو لے کر بڑے ہسپتال گئی۔بابا جان کے سارے ٹیسٹ ہوۓ تق پتہ چلا انہیں ٹی بی ہے۔کوئی نہیں تھا جو بابا جان کے پاس رکتا۔آخر بابا کو گھر لے آۓ۔
باقاعدہ ادویات لے کر بھی انہیں کوئی فرق نہ پڑا۔امی جان نے پھر چچا جان سے رابطہ کیا۔مگر چچا جان نے یہ کہہ کر امید توڑ دی۔
فلحال مصروف ہوں۔پانچ سات دنوں بعد لے جاؤں گا۔
آخر کب جب میرا باپ مر جاۓ گا تب۔
میں بلک بلک کر روئی۔خدا سے رو رو کر بابا کی صحت یابی کی دعا مانگی۔
بڑے بہنوئی نے بابا کو ہسپتال میں ایڈمٹ کروا دیا۔
جب وہ ڈسچارج ہو کر گھر آۓ تو میں انہیں پہچان نہ سکی کہ یہ وہی میرے بابا ہیں میرے۔
کتنے کمزور ہوگئے تھے ۔
میں بابا سے چھپ کے روتی کہیں بابا حوصلہ نہ ہار دیں۔
ایک منٹ کی دوری بھی مجھ سے برداشت نہیں کرتے تھے میں ہر وقت ان کے پاس بیٹھی رہتی۔
میری کوئی بہن بھی ان کے پاس جاتی وہ کہتے۔
میری چھوٹی بیٹی کو بھیجو اسکی موجودگی سے مجھے سکون ملتا ہے۔
اور پھر ایک شام بابا نے مجھے اپنے پاس بلایا شاید آخری بار۔
بابا زندگی ہار گئے تھے۔
میری آنکھیں خشک ہو گئی۔بس دل و دماغ پر ایک ہی بات سوار تھی کہ میں نے خدا کو ہر چیز کا واسطہ دیا۔مگر پھر بھی ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ۔ابھی تو مجھے بابا سے بہت سی باتیں کرنی تھی بہت سا وقت گزارنا تھا۔میرے چچا جان نے مجھے سینے سے لگا کر کہا۔میں ہوں نا تمہارا چچا میری بیٹی ہو تم۔
وہ وقت بھی گزر گیا۔مگر بابا کوئی پل کوئی لمحہ ایسا نہیں جب یاد نہ آۓ ہوں۔
میں سوچتی تھی میرے بابا کو کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی۔مگر نہیں مری زندہ ہوں کھاتی ہوں پیتی ہوں ہنستی ہوں مسکراتی ہوں۔کوئی نہیں مرتا جینا پڑتا ہے۔
قدر آ گئی تھی بابا کی جب عید پہ کوئی سر پہ دلاسہ دینے والا نہ تھا۔
جب مشکل میں کوئی حوصلہ دینے والا نہ تھا۔
جب پیار سے کوئی بلانے والا تھا۔
بہت قدر آئی۔
ہاں تسلیاں دلاسے سب دیتے ہیں مگر ساتھ کوئی نہیں دیتا۔جب خوش ہوں گے تو ساری دنیا ہمارے قدموں میں ہو گی۔سب باتیں کریں گے سب وقت دیں گے۔
مگر جب آپکو کوئی دکھ ہوگا آپکو اپنوں کی ضرورت ہوگی یہ لوگ اجنبی بن جائیں گے جیسے ہمیں جانتے ہی نہیں۔
ماں باپ زندہ ہوتے ہیں تو ہر رشتہ ہم سے جڑا رہتا ہے مگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہ رہے تو ہر رشتہ اجنبی بن جاتا ہے۔سب چھوڑ دیتے ہیں۔تعلق توڑنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔
تیرے بعد یہاں سب کو آزمایا بابا
تجھ سا یہاں کسی کو نہ پایا بابا
ختم شد
میرا یہ افسانہ لکھنے کا مقصد یہ تھا اپنا زیادہ وقت والدین کیساتھ گزاریں ماں اور باپ دونوں کے ساتھ۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو جنت کا دروازہ تبھی کھلے گا جب باپ راضی ہو گا۔یہ بے نام رشتے سب کے سب مطلب کے ہیں اس دنیا میں ماں باپ لے علاوہ کوئی ہمدرد نہیں ہوتا۔انکی ضرورتوں کو پورا کریں۔ان کی دعائیں آپکو دنیا اور آخرت میں کامیاب کریں گی۔

Related posts

Leave a Comment