Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Mehreen Saleem

Paragraph Story

Mehreen Saleem

ہوا کے دوش پر بدمست بادل چھا رہے تھے کوئ پونے پانچ کے قریب ٹائم ہونے والا تھا سردیوں کے دن تھے…. ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی وہ شام دسمبر کی ٹھنڈی شام تھی ۔۔۔۔

ریحان صاحب عصر کی نماز سے فارغ ہوکر اپنی گیلری میں جا کھڑے ہوئے اور سامنے ناگن کی طرح بل کھاتی سڑک سے آتی ہر گاڑی کو تکتے… کہیں وہ انکے بنگلے کے پاس تو نہیں رک رہی !!

لیکن ہر گاڑی زناٹے سے چلی جاتی۔۔۔۔

وہ کبھی گھڑی کو دیکھتے تو کبھی موبائل کو ۔۔۔۔آخر کو کال بھی نہیں لگ رہی۔۔۔۔ انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا وہ کوئ آدھ گھنٹے سے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہ شلوار قمیض میں ملبوس تھے سردی سے بچاو کے لیے موٹی جیکٹ پہن رکھی تھی۔۔۔ نظر کمزور ہونے کے باعث عینک بھی چڑھائ ہوئ تھی !! وہ کافی سلجھے ہوئے لگ رہے تھے۔۔۔۔

اب کہ جب قدموں نے جواب دے دیا تو تھک ہار کر لوٹنے لگے ہی تھے کہ ایک عا لیشان سیاہ کلر کی کار انکے بنگلے کے عین سامنے آ رکی ۔۔۔۔

انکے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آگئ۔۔۔۔

اس کار سے سوٹڈ بوٹڈ کوئ21 سال کی عمر کا لڑکا اترا…

جیل سے بال سیٹ کیے ہوئے تھے اور ہڈ والی جیکٹ پہنے وہ انتہائ ڈیسنٹ لگتا تھا۔۔۔۔

(ریحان صاحب دروازے کی طرف دوڑے ناجانے آج کتنے سالوں بعد اسے دیکھنے جارہے تھے!!!)

اس لڑکے نے گارڈ سے پوچھا!! کیا یہ ریحان صاحب کا گھر ہے ۔۔۔۔

گارڈ نے اثبات مین سر ہلایا۔۔۔

سر آپ چابی مجھے دے دیں میں خود پارک کرلونگا ۔۔۔۔گارڈ نے تعظیمن کہا۔۔۔۔۔

اس لڑکے نے چابی دے دی اور فرنٹ ڈور کھولا !!

ماما آجائیں ۔۔۔ ریحان انکل کا گھر آگیا ہے۔۔۔۔

وہ محترمہ اپنا لہنگا سنبھالتی اتری جو گرے کلر کے لانگ فراک میں ملبوس تھی اور شال شانوں پر لٹکائ ہوئ تھی اونچی ہیل کی سینڈل پہنی ہوئ تھی سیاہ بھوری آنکھین اور یہ کھڑی ناک انکے حسن میں چار چاند لگا دیتی تھی۔۔۔!!!!!

وہ اتر کر دروازے کے پاس پہنچی جہان ریحان صاحب اپنی بیٹی زویا کو لے کر انکے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔

ریحان صاحب انتہائ گرم جوشی کے ساتھ ان سے ملے ۔۔۔۔۔

ودیعہ یہ دیکھو یہ زویا ہے!! ریحان صاحب نے اپنی بہن کو مخاطب کرکے کہا جن سے وہ 20 سالوں کے بعد مل رہے تھے۔۔۔۔

زویا اتنی بڑی ہوگئ!!! ماشاء اللہ

اور یہ میرا بیٹا روحان!!!۔۔۔۔ ودیعہ نے اشارہ کیا۔۔۔

ریحان صاحب روحان کے گلے لگے اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔۔۔۔

ارے اندر تو آو ساری باتیں کیا یہیں کرینگے۔۔۔۔

ریحان صاحب بولے!!

زویا!! تم روحان کو اسکا کمرہ دکھاو میں ودیعہ کے ساتھ باہر لان میں بیٹھا ہوں۔۔۔۔

اوکے بابا ۔۔۔زویہ نے تعظیمن سر ہلایا!!!

وہ دونوں بھائ بہن لان میں آمنے سامنے کرسی پر براجمان تھے۔۔۔بیچ میں گول میز پر ملازم نے کافی کے مگ رکھے ہوئے تھے سامنے کی طرف دیکھو تو راہداری تھی جس میں طرح طرح کے گملے پڑے ہوئے تھے جو لان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے اور ماحول کو اپنی خوشبو سے مہکا رہے تھے۔۔۔۔

ودیعہ تم نے کیوں سارا تعلق توڑ دیا!! ریحان صاحب نے خاموشی توڑی۔۔۔۔۔۔

بس حالات ہی کچھ ایسے تھے!!! اگرچہ میں نے پسند کی شادی کی لیکن گھر والوں نے مجھ سے سارے تعلقات توڑ دیے ۔۔۔ اور نادیہ بھابھی کا رویہ بھی مجھے کچھ سہی نہ لگا اللہ انہین جنت نصیب کرے ۔۔۔۔ ریحان صاحب نے آمین کہا ۔۔۔ وہ انکی اہلیہ تھی!!

اسلیے فراز کے کہنے پر ہم اسلام آباد شفٹ ہوگئے بابا نے کہا تھا کہ اپنی شکل مت دکھانا مجھے!!! اس وقت آپ بھی نہیں تھے آپکی جاب دبئ میں تھی میں بہت اکیلی ہوگئ تھی بھائ!!۔۔۔۔

بس اسی لیے میں نے کنارہ کرلیا!! ودیعہ نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔

لیکن میں غلط تھی بابا درست کہتے تھے ۔۔۔۔فراز تو مجھے شادی کے دو سال بعد ہی چھورڑ کر چلے گئے۔۔۔۔ کسی اور ملک ۔۔۔۔ کوئ خیر خبر نہیں ۔۔۔اتنا بڑا دھوکا!!!

پھر میں کس منہ سے بابا کے پاس آتی ۔۔۔۔

اب تو نادیہ بھابھی بھی نہیں رہی بابا بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔۔۔۔۔

اور آپکے اسرار پر اب مجھ سے رہا نہ گیا اسلیے دوڑتی ہوئ چلی آئ !!!

۔۔۔ ودیعہ نے اپنی آنسوں سے بوجھل ہوتی پلکوں کو صاف کیا!!!

اچھا اب جو ہوا اسے ہم بدل نہیں سکتے ۔۔۔۔

جی بھائ آپ بتائیں ۔۔۔

میرے لائک کوئ کام!!!

ودیعہ نے بات بدلی!!

ودیعہ اصل میں بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کہ بابا کی دو ملز تھی ان میں سے ایک انہوں نے اپنے پوتے کے نام کی تھی!!! اور ایک تمہارے کیونکہ تم انکی اکلوتی بیٹی تھی!!!

اب چونکہ بابا نہیں رہے اور تم بھی اسلام آباد شفٹ ہوگئ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔

تو؟؟ ودیعہ نے تجسس سے پوچھا!!

یہ مل زویا کے نام کردو ۔۔۔۔ انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا!!!

لیکن بھائ اس پر روحان کا حق ہے۔۔۔ وہ اپنے دفاع میں بولی۔۔۔۔

دیکھو ودیعہ تم جانتی ہو فراز کو بابا بلکل پسند نہیں کرتے تھے اسلیے وہ اپنی جایئداد اسکی اولاد کے نام ہرگز نہیں کرینگے اور وہ وصیت کرکے گئے تھے کہ وہ مل تم زویا کے نام کردو۔۔۔۔

تم نے انکی حیات میں تو انہیں کوئ خوشی دی نہیں نہ ہی انکا مان رکھا جبکہ فراز سے شادی کرکے بھاگ گئ۔۔۔ اب جب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو انکی وصیت کا ہی مان رکھ لو۔۔۔۔۔۔ وہ کرخت لہجے میں بولے۔۔۔۔

دل پر گہری ضرب لگی تھی لیکن۔وہ اپنے تاثرات چھپائے کہنے لگی۔۔۔۔

ٹھیک ہے بھائ لائیں دیں پیپرز کہاں سائن کرنے ہیں!!!

یہاں اور یہاں۔۔۔۔ ریحان صاحب سائن کروا کر اٹھ گئے۔۔۔

اچھا ودیعہ تم فریش ہوجاو بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔۔ ریحان صاحب رخصت ہوگئے۔۔۔۔

اب کی بار ضبط کے سارے بند ٹوٹ چکے تھے آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے ودیعہ کا بھروسہ آج مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا 20 سال پہلے جب روحان ایک سال کا تھا اور فراز اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا تب وہ ٹوٹی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔روحان کی اکیلی پرورش کی ۔۔۔۔ لیکن آج وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔
!!اسے لگا تھا کہ اسکے زخموں پر مرحم رکھا جائیگا !!! مگر ہائے قسمت !!! آج بھی اس کی دکھتی رگ پر چوٹ کردی گئ تھی!!!۔۔۔۔۔ اس سے اسکا حق چھین لیا گیا تھا!!! اور وہ کچھ نہ کرسکی!!!!۔۔۔۔۔

اسے لگا کہ ۔۔اتنے سالوں بعد بھی اسکے جرم کی معافی اسے نہیں ملی تھی۔۔۔۔۔!!!!!
آخر کو خود غرضی سبقت لے گئ تھی!!!۔۔۔۔

Related posts

Leave a Comment