Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Kanwal Ejaz

Paragraph Story

Kanwal Ejaz

سات سال……..کے طویل انتظار کے بعد وہ حویلی لوٹ آیا تھا…….
وہی حویلی جہاں کی فضا میں بچپن کی حسیں یادیں بسی تھیں…..
وہی حویلی جہاں دل نے الگ انداز سے دھڑکنا سیکھا تھا… وہی جہاں آنکھوں نے خواب چنے تھے….
وہی جہاں دل کی نگری اجڑی تھی…. وہی جہاں کے کونے کونے میں خوابوں کے ٹوٹے کانچ بکھرے تھے…..
حویلی میں قدم رکھتے ہی کیا کیا نا یاد آیا تھا اسے….. .بعد ضبط بھی آنکھیں نم ہو گی تھیں… دل پھر سے رو رہا تھا…

اسکے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ….
اس سے سامنا نا ہو جس کی خوشی کے لیے وہ سب چھوڑ کر گیا تھا وہ……….. جو اس کے دل کی دھڑکن میں بستی تھی….

لیکن…….
شاید قسمت کو کچھ اور ہی قبول تھا
اس کا رب اس کا سامنا سب سے پہلے کروانا ہی اس سے چاہتا تھا……جس سے نا ملنے کی وہ دعا کر رہا تھا…….

وہ اپنے دھیان میں باہر لان میں آئ تھی جب نظر اندر بڑھنے والے انسان پر ٹھر سی گئ تھی……
آنکھوں نے جیسے پلک جھپکنے سے انکار کر دیا تھا…..
پاؤں ایک بھی قدم آگے بڑھانے سے انکاری تھے……….

دل کی حالت ایسے جیسے ابھی رک جائے گا……..
مقابل شخصیت کی حالت بھی کچھ مختلف نا تھی……
دونوں فریق کے دل تو ایک تھے لیکن تھے دونوں میلوں کے فاصلے پے…..
اگر ایک کی آنکھیں ساکت تھیں تو دوسرے کی آنکھوں میں کرب ہی کرب تھا………
ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے وہ اگے بڑھنے ہی لگا تھا جب اس کی پرنم سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرای تھا…سات سال کے بعد اس کی آواز سن کر اسے ایسے لگا تھا جیسے تمام تکلیف دور ہو گئ ہوں..زندگی کی نی نوید سنا دی گئ ہو…….
“کیسے ہو”……یہی دو الفاظ ادا کیے تھے بس اس نے…..

آج وہ اس کا حال پوچھ رہی تھی…. وہ. جس نے اسے مرنے کی سند سنائ تھی…….. وہ جس نے اسے اس کی زندگی سے دور جانے کو کہا تھا………
“تم کیسی ہو… “جواب نا دے کر سوال کیا تھا اس نے….
اس کے سوال پر پل بھر کو اس کی نظریں اٹھی تھیں
اس ایک پل میں کیا کیا نا تھا اس کی آنکھوں میں..

کرب , نارسائ کا دکھ,اجڑی ویران سی آنکھین جن میں زندگی کی کوئ رمق باقی نا ہو……

وہ نظر جھکا گیا تھا…… دل درد سے بھر گیا تھا…. ..
ضبط جواب دے گیا تھا….. نظریں جھکاے اس نے قدم اندر جانے کو بڑھا دیے تھے……..
پیچھے وہ… ویران آنکھیں لیے ایک بار پھر خود سے دور جاتے دیکھ رہی تھی….. اسے جسے پہلے اس نے خود ہی دور کیا تھا………………..اور اب اس کی خوشی کے لیے ہی تو وہ جا رہا تھا………………..
تحریر ››››› کنول اعجاز….

Related posts

Leave a Comment