Soda By Sumaira Hameed Complete Novel

” میری بات“
”حیات ممکن ہے“ میرا پہلا ناولٹ تھا اور ”سودا“ پہلا ناول، اور یہ میری پہلی کتاب ہے۔”حیات ممکن ہے“ ایک چھوٹے سے واقعہ پر جو کہ میرے علم میں آیا تھاپر لکھا گیا اور” سودا“ انسان کی ازلی لالچ پر جو کہ نسل در نسل کسی نے کسی روپ میں انسانوں میں پائی جاتی رہی ہے پر لکھا گیا۔ ”سودا“ ناول لکھتے ہوئے مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید قارئین اعتراز اٹھائیں کہ کوئی باپ اپنی ماں اپنی اولاد بیچ سکتے ہیں لیکن میں نے یہ جانا کہ قارئین بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جو بیچتا ہے وہ باپ یا ماں نہیں وہ تو وہ انسان ہے جو خود کو اپنی خواہشوں کے ہاتھوں خرید کر بیچ ڈالتا ہے۔
”سودا“ ناول کو کلاسک بھی کہا گیا اور خوفناک بھی۔ جو بھی ہے اس کا لفظ لفظ معاشرے کے قلم نے لکھا ہے، معاشرے کی ہی تختی پر لکھا ہوا ہے۔

اس کے لفظوں کو میں نے معاشرے کی ہی تختی سے سمیٹا ہے، اور اسی سیاہی سے لکھا ہے۔ یہ ایک لکھاری کے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کا ”سودا“ تو کر ہی رہے ہیں نا؟؟ کہیں سچائی کا کہیں ایمان کا۔

۔۔ کہیں اپنے انسان نہ ہونے کا۔
حیات ممکن ہے میں جرأت مند گوگی کا کردار میرا پسندیدہ ہے اور” سودا‘ میں چاند کا۔ قارئین کا کہنا ہے کہ یہ چاند ہی تھا جس نے نوری اور جاوید کو اس راہ پر ڈالا۔ میں یہ کہتی ہوں کہ چاند نوری اور جاوید کا آئینہ بنا، جس میں نوری اور جاوید کا اصل سامنے آیا۔ نوری اور جاوید مٹی سے بنے خاک سے بھی گئے۔
چند لفظ اور جملے لکھ کر کوئی لکھاری نہیں بن جاتا، میں بھی نہیں بنی۔
سودا کو پڑھئے اور مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں مجھے خوشی ہو گی اگر آپ اچھی یا بری رائے مجھ تک پہنچائیں گے۔

سمیرا حمید

سودا

مکمل ناول

”او موری میّا مجھے معاف ہی رکھیو ، ہیجڑے تو یہ رہے…“ گونج دار آواز اٹھی ، انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا اور دونوں مہندی لگے ہاتھ عین اس کے منہ کے سامنے رکھ کر زور دار تالی بجائی ، ہتھیلی پر ہتھیلی دے ماری… کمال کی مار ماری… ساتھ ڈھول زور دار بجا…
اوموری میّا…
ڈھول…
تالی…
تینوں آوازیں ڈوب ابھر رہی تھیں ، زور پکڑ لیتی تھیں کان کے پردے پھاڑے ڈال رہی تھیں ، مسام در مسام تہہ در تہہ کھال میں سرایت کرتی جا رہی تھیں پھر بھی نفس کی اصل سے کہیں دور پرے تھیں۔
وہ بت بنی کھڑی تھی ، سرخ ریشمی جوڑے میں گہرا کیٹلا سنگھار کئے ، الجھے ملجھے بالوں کو کھولے دوپٹے کو کس کر کمر میں ایک گرہ اور ایک پھول باندھے وہ دونوں ہتھیلیوں کو طبل کی صورت پیٹ رہا تھا… وہ منادی کرنے والا ، وہ بھانڈا پھوڑنے والا کیسے جی جان سے تالی پے تالی پیٹ رہا تھا ، ایک پیر کو اٹھائے اس کے گرد گول گول گھوم کر ناچ رہا تھا۔

ارے او میّا… ارے سن ری…
وہ چلانے لگی… وہ ناچتا ہی رہا ، تالی کی آواز نے زور پکڑ لیا… ڈھول بلند بانگ سارے راز کھولنے لگا ، الجھے ملجھے بال… گہرا سنگھار ، گڈ مڈ ہونے لگے ، گول گول گھومتی زمین بھی اسی کے ساتھ پیر اٹھا کر ناچنے لگی۔
سن ری میّا… بدھائی کون لے اڑیا…
ادھر آ… دیکھ… بدھائی کون لے اڑیا…
اس کے گرد گول گول گھوم کر وہ چلانے لگا… جانے کس جہنم کا دروغہ تھا… بت بنی کھڑی نوری چلانے لگی ، خوف سے خاک کے ساتھ خاک ہونے لگی… چلاتی ہوئی ہی ہڑبڑا کر اٹھی۔
جاوید خراٹے لے رہا تھا
بدھائی کون لے اڑا؟
اس کی نظر جاوید پر ٹکی رہی۔
”ہیجڑے تو یہ رہے“
نظر جاوید پر ہی ٹکی رہی… وہ ہانپ رہی تھی تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔ سہم کر خود میں سمٹ رہی تھی۔ یہ گرو اس کی جان لے گا اسی ڈر سے وہ سوئی نہیں تھی آدھی جان نوری کی نکل چکی تھی اب پوری لے کر ہی وہ ٹلے گا ، رات کا پہلا پہر ہی گزارا تھا اور وہ ایسے ہانپ رہی تھی جیسے اپنی پیدائش کے دن سے ہی بھاگی پھر رہی ہو اور کائنات کے حشرات اس کے پیچھے اسے نوچ کھانے کیلئے لگے ہوں۔
وہ اٹھ کر باہر بھاگی چھوٹے سے لان میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ ٹھنڈی گھاس پر تپتے پیر رکھے ، رات جاڑے کی ہی تھی لیکن وہ سردی سے نہیں کپکپا رہی تھی۔
موری میّا…
اس نے سر تھام لیا حشرات اُسے نوچ کھا رہے تھے۔ “نوری“ کوئی اسے جھٹکے دے رہا تھا وہ بڑبڑائی کہ وہی آ گیا۔
”جا جا کر اندر سو“ جاوید جھنجھلایا ہوا سا کہہ کر چلا گیا اس نے خوف سے اندر کی طرف دیکھا۔
”وہ آیا کہ آیا“ اپنے کمرے میں وہ جا نہ سکی اسی کمرے میں جس میں ساٹھ ہزار کا بیڈ ، چالیس ہزار کی دو کرسیاں اور بارہ ہزار کا ایک چھوٹا سا سیاہ چمکدار پالش والا میز رکھا تھا۔ جس کے فرش پر بائیس ہزار کا یہ ذرا سا قالین بچھا تھا۔ سفید چمکتے ماربل پر گہرا سبز قالین اور بھی بہت کچھ تھا اس کمرے میں ، اس کی الماری میں ، جوتوں کے خانوں میں ، زیورات کے ڈبے میں ، اس سارے گھر میں ، کچن کی الماریوں میں ، فریج کے خانوں میں ، بہت جمع کیا تھا ان دونوں نے ، گھر بھر میں بہت کچھ تھا ، بہت کچھ ان کے پیٹ میں جا چکا تھا ، پیٹ سے سارے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا تھا… خون سے خون بنا تھا… گوشت سے گوشت بنا تھا… وہ کس کمرے میں جائے اور سو جائے؟ اس میں اُس میں یا اوپر والے میں یا کسی بھی کمرے میں چلی جائے’ نہیں وہ ہر جگہ ہے جہاں جہاں وہ سوئی ہے ، اگر وہ اڑ کر آسمان پر جا سوئی تو وہ وہاں بھی ضرور آئے گا اور وہیں تو آئے گا… ان کا گریبان چاک کرئے گا…
خوب دھائیاں دے گا… انہیں ہیجڑا کہنے والا…
دن کا اجالا پھیل رہا تھا وہ اندر آئی اور دونوں بچیوں کے بیڈ پر جگہ بنا کر لیٹ گئی دونوں کے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھ کر۔
بچے فرشتے ہوتے ہیں نا…؟ شاید کوئی فرشتہ انہیں بھی بچا لے… کس سے؟ نوری کو نوری سے… نوری کو نوری کے ہی شر سے…
”شر جو پھوٹ کر پھیل گیا ان میں“
شر جس سے انہوں نے پناہ نہ مانگی
نوری اور جاوید نے…
دونوں بہت سال پہلے اپنے گاؤں سے بھاگ آئے تھے۔ وہی ذات پات ، برادری ، غیر برادری کا مسئلہ۔ نوری کا ابا اس کا رشتہ کہیں اور پکا کر رہا تھا۔
نوری نے رات سے دن نہ ہونے دیا اور بھنک پڑے ہی اس نے جاوید کے کان بھرے اور وہ دونوں شہر بھاگ آئے۔۔ چھ سات ماہ درباروں کے مہمان خانوں میں سوتے جاگتے رہے۔ جاوید کام کرنے چلا جاتا رات کو وہیں آ جاتا ، دونوں نے نکاح کیا ایک بیٹی ہوئی اور دونوں ایک کمرے کے خستہ حال گھر میں رہنے لگے۔ کمرہ اتنا چھوٹا کہ ہاتھ اٹھاؤ تو چھت چھولو… بیٹھے بیٹھے چاروں دیواروں کو پکڑ لو ، بارش ہو تو کمرے سے ہی پانی بھر لو۔
پانی بھی گندی نالیوں اور گٹر کا… دونوں نوالے گن گن کر کھاتے ، محبت کیلئے قربانی دے رہے تھے، ایک وقت کا کھاتے تھے تو اگلے تین چار وقت بھوکے رہتے تھے۔ گاؤں کا فقیر شہر کے غریب سے بھلا ہوتا ہے ، گاؤں میں بھوکوں مرنے کی نوبت نہیں آتی۔ رحمت ہے اللہ کی خاص گاؤں والوں کے ساتھ شہر والوں کی طرح اناج نہیں گنتے۔
جاوید چار چار پراٹھے کھانے والا سوکھی روٹی سے بھی گیا ، دیسی مرغیاں کھانے والا قربانی کے گوشت سے بھی گیا۔
غربت بہت بری ہوتی ہے بری کیا غلیظ ہوتی ہے ، شیطان پر سارے الزام ایسے ہی تھوپ دیئے جاتے ہیں۔ شیطان کا اگلا نام غربت ہے۔ یہ جو انسانیت کی معراج کے قصے لکھنے والے ہیں نا یہ غریب نہیں ہیں ورنہ وہ ضرور طے کرتے کہ غربت میں شیطانیت ہی معراج ہوتی ہے۔
جاوید سبزی کی ریڑھی لگانے لگا گلی گلی محلے محلے پھیری کرتا… دو پیسے کی سبزی لینے آئی عورتوں سے لمبی لمبی باتیں کرتا ایک دن ایک زنانہ سا آدمی گھر لے آیا۔
”بھابھی جی سلام“ انداز بھی زنانہ تھا۔
”رشید ہے یہ“ جاوید بلاوجہ ہی مسکرائے جا رہے تھا سبزی منڈی جانے کی بجائے اسے اٹھا لایا تھا۔
رشید ذرا سا مسکرایا۔
رشید… کون رشید؟؟
رشید عرف چاند… رشید ولد… شیش ولد لاپتہ محلہ چوک چوبارہ…
”اتنی سی ہی ہے یہ تو“ اسے دیکھ کر رشید نے چٹکی بنائی دو انگلیوں سے
”تیرے پاس دو پیسے بھی نہیں کہ اسے کھلا سکے؟ جاوید اپنے پیلے دانتوں سے ہنسنے لگا۔
”چل تجھے منڈی لے کر چلوں“
جاوید رشید کے ساتھ جھٹ منڈی چلا گیا واپس آیا تو تازہ پھلوں کے کریٹ ساتھ تھے… دونوں اس پر ٹوٹ پڑے… حلق تک بھر لیا خود کو
چند دن گزرے تو وہ پھر آیا۔
”ہاں اب ٹھیک ہے… رنگت بھی نکھر گئی ہے“ جاوید کے کان میں سرگوشی کی۔
”پکی ہے نایہ…؟؟

جاوید نے سر ہلایا ”تو فکر ہی نہ کر تو باپ ضرور بنے گا میں تجھے باپ ضرور بناؤں گا۔“
سچی…؟ رشید چاند نے جاوید کی پیشانی چوم لی،کندھے پر ہمہ وقت دھرے چیک کے رومال سے آنکھیں صاف کیں اپنی۔ داڑھی نہیں تھی لیکن شیو بڑھی ہوئی تھی اسی پر لجاحت سے ہاتھ پھیرتا رہا… بائیں ہاتھ کو سینے پر باندھے رکھتا نیچے کی طرف جھکے لٹکایا ہوا سا۔ دائیں ہاتھ کو sتیز تیز چلاتا،اشارہ کرتا جیسے باتوں کے خاکے بنا رہا ہو،چال زنانہ نہ تھی بس انداز میں ہی کچھ جھک دکھائی دے جاتی۔
چند سال ہوئے وہ اپنی بنیاد چھوڑ چکا تھا۔ پہلے گاہک ڈھونڈتا تھا اب خود گاہکوں کی صف میں آکھڑا ہوا تھا۔ کرائے کے گھر میں رہتا تھا شاذہی گھر سے باہر نکلتا تھا… گز بھر لمبی زبان والے جاوید سے سبزی لیتے مڈبھیڑ ہو ہی گئی… ایک کی زبان چلی ایک کی کھلی… دونوں کی خوب بنی۔

چند ہفتے جاوید نے نوری کو بکرے کا گوشت کھلایا،دیسی مرغیاں،دیسی انڈے،پھل،دودھ… خشک میوے لاکر دیئے نوری رات دن اس طرح کھاتی کہ مانوں پھر کچھ ملے گا ہی نہیں… اور کیا معلوم ملتا ہی نا… وہ جمع کرنے کے حق میں تھی لیکن پیٹ میں،اتنا کچھ کھا کر وہ مردانہ ڈکاریں مارتی… جاوید کھی کھی ہنستا۔
”او بس… او بس…“ ایک دو …… جڑ دیتا۔
اس رات بھی نوری ڈکاریں مارنے کی تیاری کر رہی تھی،بکرے کے گوشت کی ہڈیاں بوٹیاں چبا رہی تھی۔
”رشید کو ایک بچہ چاہئے“ جاوید ران کی بوٹی کو دانتوں سے نوچ نوچ کر ایسے کھا رہا تھا جیسے آج بکرے کی ہر نسل ختم کرکے ہی اٹھے گا آج وہ سب کھا جائے گا۔ اس سب کچھ کھا جانے کے دوران بچے والی بات اس نے ایسے کی جیسے نوری کو منڈی میں سبزیوں کے بھاؤ کے بارے میں بتایا ہو۔
”میں نے کہا میں تجھے باپ ضرور بناؤں گا۔“ اس نے انگلی سے دانت میں پھنسی بوٹی نکال کر دوبارہ چبائی۔
”تو کیسے؟ نوری گوشت کھانے میں اتنی مگن نہ ہوتی تو ذرا حیران ہو لیتی۔
”ہم ہیں نا“ اس نے دائیں آنکھ ماری۔
کسی کا بچہ اٹھا کر دے گا اسے کیا؟
”کسی کا کیوں… یہ ہے نا“ جاوید نے اس کے پھولے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا،نوری نے نان کے ٹکڑے کو پٹخا منہ میں دبی بوٹی تھوکی۔
”ہوش میں ہے تو جاوید؟“
”تجھ سے زیادہ ہی ہوش والا ہوں۔“
”کسے دینے کی بات کر رہا ہے تو؟“
”اپنے بچے کو؟؟“
”کون سے تیرے بچے ہیں جنہیں تو دے گا؟؟“
”یہ جو تیرے پیٹ میں ہے“ وہ بھلا مانس بکرے کی نسل کے در پر تھا نوری بھڑکی جا رہی تھی۔
”کُتی سمجھا ہے مجھے کہ بچے جنتی جاؤں اور تو اٹھا کر دے دے“
”نوری“ جاوید دھاڑا۔

”تیرا ہے یہ بچہ؟ تیرا اکیلی کا ہے؟ میرا ہے یہ بچہ…“
”تو اپنے پیٹ میں رکھتا نا“
الٹے ہاتھ کا تھپڑ پڑا نوری کے گال پر وہ بھڑک کر اٹھ کھڑی ہوئی“ کتے تو نے مجھے مارا؟؟
”ہاں مارا اور ماروں گا… سمجھتی نہیں،اگر تیرا باپ ڈھونڈتا آ گیا ہمیں تو تیرے وہ بھائی تو ہمیں دیکھتے ہی مار دیں گے۔“
تو؟ نوری پھنکاری۔
اری او پاگل نہ سر چھپانے کیلئے جگہ ہے نہ جی داری کیلئے روپیہ،میں نے تیرا ساتھ نبھایا کہ نہیں؟ تجھے بھگا لایا ورنہ تیرا باپ تو اس کتے کی شکل والے سے تیرا رشتہ کر رہا تھا“ تو؟ نوری کی آواز کی لے نہیں بدلی۔
”تو کی بچی،نالی سے بھی گندے گھر میں سڑ رہے ہیں گھر بدل لیں گے،بڑے شہر چلے جائیں گے رشید پورے پانچ لاکھ دے رہا ہے۔“
تازہ تازہ بکرے کا گوشت کھائی نوری حیرت سے گم سم ہو گئی آنکھیں کھل کر پھیل گئیں۔
پانچ لاکھ؟؟ نوری نے سوال کیا۔ جاوید دلیر ہوا
”جی ہاں جی پانچ لاکھ“ جاوید نے دیدے مٹکائے گاؤں میں تیری میری کرنے والی عورتوں کی طرح۔
”اور یہ سارے پھل فروٹ بھی وہی لا رہا ہے۔ یہ گوشت اور باڑے کا خالص دودھ… تو کیا سمجھی وہ مجھے یارانے میں کھلا رہا ہے؟“
نوری سوچ میں غرق ہو گئی۔
”وہ آدمی ٹھیک نہیں ہے۔“
”بڑا نیک ہے وہ“
رشید جاوید کو سب صاف صاف بتا چکا تھا،رہی نیک ہونے کی بات وہ تھا یا نہیں لیکن پانچ لاکھ میں اسے نیک بنا دینے میں جاوید کا کیا جاتا تھا۔
”بہت بھلا مانس ہے سچی“
”میں کیوں دوں اپنا بچہ؟؟“
”پھر وہی بات کی… اپنا اکیلی کا نہ بول میرا بھی ہے۔ پگلی،بات سمجھتی ہی نہیں یتیم خانے والے تو اسے گھسنے بھی نہ دیں بچے کیلئے بتا رہا تھا ایک دو جگہ گیا تھا،بہت گھن چکر بنا بے چارہ ایک تو پیسے لے کر بھاگ گئی،دو چار اور دھوکے ہوئے،کہتا ہے کسی ماں کی آہیں نہیں لوں گا۔
ہاں جو ماں خوشی سے اس کی گود میں ڈال دے ورنہ ہزار بچے اسے… ادھر ادھر کسی کا بچہ نہ اٹھا لیتا… سمجھتی ہی نہیں،بڑا دکھی ہے نوری… کہہ رہا تھا اسے پڑھائے گا لکھائے گا ڈاکٹر بنائے گا،لڑکی نہیں مانگ رہا،لڑکا چاہیے،پائی پائی جمع کر کے رکھی ہے اس کیلئے،گھر بند کئے روتا تڑپتا رہتا ہے۔ بہت بھلا ہے ہزاروں مزاروں پر جاتا ہے،چادریں چڑھاتا ہے،اس دن اذان ہو رہی تھی بولا جاوید چپ کر جا اذان کے وقت نہیں بولتے۔
اب خود دیکھ لے کتنا نیک ہے۔ بڑا دلارا ہے قسم سے کیا تو اور میں ایسے نیک ہیں؟ تو نے تو کبھی خود نماز نہیں پڑھی پھر پیسے والا بھی ہے اچھی طرح سے بچہ پالے گا… شہزادوں کی طرح رکھے گا۔ تڑپ اٹھتا ہوں میں اس کے دکھ سن کر،انسان ہوں میں بھی رونا آتا ہے اس کا حال سن کر…“
جس وقت رشید جاوید کے ہاتھوں نیک ثابت کیا جا رہا تھا ٹھیک اسی وقت رشید ہاتھ جوڑے دربار میں کھڑا تھا۔
پہلے اس نے چادر چڑھائی پھر اس نے پھول پھینکے پھر اس نے تبرک تقسیم کیا اور پھر ہاتھ جوڑ کر ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے جیسا ہو گیا اور گھنٹوں کھڑا ہی رہا وہ ظاہر کے کس حال میں ہے یہ خیال جاتا رہا وہ باطن کے جس ہیر پھیر میں تھا یہی احساس غالب رہا۔
”میری بھی تو آس کوکھ خالی ہے“
ہر خواہش ایک کوکھ ہوتی ہے صدیوں بانجھ رہنے والی عورت کی کوکھ جو زمین و آسمان ہلا دینا چاہتی ہے لیکن کوکھ کو بھر لینا چاہتی ہے یہی کوکھ ہر انسان کے اندر اپنی اپنی شکل میں کروڑوں بار جنم لیتی ہے سب اشکال جدا تو رشید کی بھی جدا…
”کورا کھوکھلا مرد ہوں تو کیا،چاند ہوں تو کیا… ٹیسیں اٹھتی ہیں،ان ٹیسوں کو سرور دلانے کا من کرتا ہے،سینے سے لگانے کا۔
میاں کی میں نہیں کرنے والا… میری کون کرے گا؟ میری بھی کوئی نہ کرے… لہر میں جھوم جانا چاہتا ہوں…“ وہ سسکنے لگا وہ جھوٹ بول رہا تھا۔
اس کے پاس کوئی بڑی دلیل نہیں تھی خدا کو دینے کیلئے،ایسی دلیل جسے التجا میں شامل کیا جاتا کہ التجا پُراثر بن جائے،یکدم اس نے ہر دلیل کو پرے پھینکا۔
”کچھ اور مانگا تو منہ کالا ہو میرا،مسجد بھیجوں گا اسے داڑھی رکھے گا حاجی بنے گا قسم پنج تن پاک کی،واسطہ ہے پیر و مرشد کی… اسے اپنی راہ ضرور بنا رہا ہوں پر اس پر جان نثار کر دونگا… اسے تیری راہ والا بنا دونگا… قرآن کھول کھول کر پڑھے گا…“
وقت گزرتا رہا رشید وہیں ہاتھ جوڑے کھڑا رہا وہ ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ہاتھ پھیلائے نہیں وہ مانگ نہیں رہا تھا وہ التجا کر رہا تھا حق سے مانگنے اور التجا میں بہت فرق ہے یہ فرق بہت خاص ہے۔
دعا بہت بڑا مان ہوتی ہے رشید نے خود کو اس مان کے قابل نہ سمجھا،گاہکوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرنے والے نے خود کو اس مان کے قابل نہ سمجھا۔ کوئی دیکھ لے اور پوچھ بیٹھے کہ اتنی دیر سے بت بنے کس جوگ کا روگ لئے کھڑے ہو تو؟ رشید کیا بتائے کہ ”ماں بننا چاہتا ہوں اور باپ بھی… دل کا ارمان ہے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتا ہوں… شادی کے قابل نہیں،باپ بن نہیں سکتا پھر بھی بچہ چاہتا ہوں۔

چند سال ہوئے اس نے لاہوری کوٹھا چھوڑا تھا۔ بڑا گھاک دلال تھا رشید چاند… گاہکوں کو ایسے گھیرتا جیسے گڑ آپو آپ مکھیاں گھیر لیتا ہے… تازہ تازہ پر پرزے نکالتے اس کا جھوٹا پانی پیتے اس کے ہاتھ سے نمک چاٹتے،نائیکہ بھر بھر بنک میں پیسے رکھواتی رشید چاند کی بلائیں لیتی۔
اب رشید کے کانوں میں اسی نائیکہ کی بیٹھی بیٹھی پھٹی ہوئی آواز گونجتی تھی،گاہکوں کی بھرمار اور ایسی باتیں جو وہ سن چکا تھا اور کہہ چکا تھا اور جو ان کیلئے کہنی سنی جائز اور دوسروں کیلئے غلیظ ترین گردانی جاتی تھیں اسے ہر پل سنائی دیتیں۔
گھوم گھوم کوٹھا اس کے سر پر سوار ہوتا بازاریوں کی بازاری اندر باہر ہونے لگتی… اسے کوئی چاہئے تھا کہ اسے اس بازار سے نکال لاتا… اتنا پاگل بھی نہیں ہو گیا تھا لیکن بہت کچھ بدل گیا تھا،زندگی بھر دلالی سے لگا رہا اب خواہش سے لگ گیا تھا جو کام نہیں کیا تھا اب وہ کرنا چاہتا تھا اولاد والا بننا چاہتا تھا۔
رات دن گھر میں بند رہتا،اٹھ جاتا تو معلق ہو جاتا،سو جاتا تو کھو جاتا،ہوش میں آتا تو رونے لگتا اس کا حال برا تھا برے حال سے ہی زندہ تھا۔

رشید کے گھر کا دروازہ بج رہا تھا،ٹانگیں پسارے دیوار کے ساتھ سر ٹکائے پڑا تھا ،منہ اور آنکھیں صاف کرکے اٹھا۔
”مان گئی بھابھی جی؟ جاوید پر نظر پڑتے ہی جھٹ پوچھا بھابھی جی کو مناننے کیلئے ہی تو اندر اتنے جتن سے بین ڈال رہا تھا۔“
”مان جائے گی تو فکر نہ کر،ورنہ میں اسے گاؤں بھیج دونگا۔“
”نہ… نہ… ایسا نہ کرنا… نہ کبھی نہ…“
”تیرے پاس پیسے ہیں بھی کہ نہیں؟“ جاوید کی آنکھیں سکڑیں” چیک بک دکھاؤں؟“
”ہاں!“ جاوید چیک بک دیکھ کر ہی ٹلا۔
”بڑا پیسہ ہے نوری اس کے پاس دو دو بنکوں میں پیسے رکھے ہیں۔“
”تو؟ نوری کو کوئی اور سوال ہی نہ کرنا آیا اب تک یہ تو بار بار تو تو کسے سنائی ہے؟ جاوید چیک بک دیکھ آیا تھا اب بھی نہ بھڑکتا۔

”تو کیا کرؤں؟ وہ رونے لگی“ نہیں دل مانتا،خراب آدمی ہے نہ جانے اسے کیا سے کیا بنا دے… پھر بھی کیوں دوں اسے اپنا بچہ… ضروری ہے کیا؟
”پگلی ابھی تک نہیں سمجھی؟ ہمارے پاس ہے کیا؟ دوسرے بچے کو کیسے پالیں گے،یہ گڑیا کی طرف دیکھ،شہر میں رہ کر بھی تجھے عقل نہیں آئی یہ جو بارشوں میں کیڑے نکلتے ہیں نا ان جیسی ہے اپنی یہ گڑیا،شہریوں کے بچے دیکھے ہیں کبھی؟ یہ محلے والے ہمیں منہ نہیں لگاتے چوڑے سمجھتے ہیں ہمیں،میں دکان کھول لوں گا گروی پر ایک اچھا گھر لے لیں گے یہ بچہ دن بدل دے گا ہمارے،چار وقت اچھا ہم بھی کھا لیں گے،ابھی تو یہ دنیا میں آیا بھی نہیں تجھے کہاں کا انس ہو گیا اس سے… پگلی وہ اسے پڑھائے گا لکھائے گا کیا ہم پڑھا سکیں گے اسے ہم تو کھلا بھی نہیں سکیں گے،سوچ پگلی یہ خود بھی کھا لے گا ہمیں بھی چار نوالے کھلا دے گا۔

نوری چپ ہی رہی،آج کل اسے کھانا نہیں پکانا پڑتا تھا جاوید روز بازار سے ہی لے آتا تھا ہر طرح کے گوشت ہی آ رہے تھے،مچھلی،تکے،کباب… کڑاہی،روسٹ،کوفتے،پالک گوشت،قیمہ بھرے نان… ہزار قسمیں تھیں گوشت کے پکانوں کی،وہ دن گئے جب دونوں کو نمک کے ساتھ بھی روٹی کھانی پڑ جاتی تھی اب ذرا تیز نمک والا گوشت ایک طرف کر دیتے تھے کہ کڑوا ہے،نوری کبھی کبھار ادھر ادھر کے گھروں سے بچا کھچا سالن لے آتی تھی پھر محلے والوں نے جو سالن پھینکنا ہوتا وہ انہیں دے جاتے وہ سونگھے بنا کھا جاتے۔
چند ہفتوں بعد بارش ہوئی آس پاس کے گٹر بھر کر ابلنے لگے،انکے گٹر جتنے گھر میں غلیظ پانی بھر گیا،بدبو متلی سے نوری مرنے کے قریب ہو گئی کیا کچھ نہیں بہہ رہا تھا اس پانی میں،توبہ،توبہ… اب اس بدبو اور غلاظت میں گزارا نہیں ہوتا تھا پیٹ میں جو جو کچھ بھر بھر کر ڈالا تھا باہر آنے کو تھا۔
رشید آیا دیکھ کر چلا گیا پھر آیا سامان نکال کر باہر رکھا،سامان بھی کیا دو چارپائیاں اور چند برتن،دونوں کو لے کر ایک خالی گھر میں آ گیا دو کمروں کا صاف ستھرا گھر تھا،سامان وہاں لاکر جمایا۔
”خوش بھابھی جی؟ پہلی بار نوری سے ہی بات کی تھی نوری نے سر ہلا دیا۔“
”دو ضرورت مند اکٹھے ہو گئے رشید اور جاوید“
جاوید نے سبزی کی ریڑھی لگانی ہی چھوڑ دی رزق گھر بیٹھے ہی مل رہا تھا باہر نکل کر کمانے کی کیا ضرورت تھی۔ تھا ہی نکما جاوید اس کے بھائی گاؤں میں جانوروں کی طرح رات دن کام کرتے اور وہ ادھر ادھر تانک جھانک میں رہتا،اب کہاں کا کام؟ رشید کھلا رہا تھا انہیں۔
شروع شروع میں جاوید ایک چھوٹے ہوٹل میں رات دن برتن دھونے پر لگا تھا پھر ٹیبل مین بن گیا،بھاگ بھاگ کر ایک سے دوسرے میز تک جاتا،خالی جگ بھرتا،گندے میز گاہک کے جانے کے بعد صاف کرتا، آڈر پر آڈر لیتا… رات کو سوجھے ہوئے پیر لے کر گھر آتا دو قدم بھی چلا نہ جاتا اگلے دن پھر کئی سو قدم چلنا پڑتا دوڑنا پڑتا…
”شہر کے لوگ“ جاوید گندی گالی دے کر کہتا ”سالے اتنا کام لیتے ہیں اور چند سکے پکڑا دیتے ہیں۔

اب ٹھیک تھا،لاہور شہر کی ہیرا منڈی کا دلال رشید اسے لاکھوں تھما رہا تھا… اب ٹھیک تھا سب۔“
رشید آ جاتا تو نوری کو دیکھ کر خفا ہوتا۔
”پرے ہٹو“ جھاڑو چھین کر خود لگانے لگتا،برتن دھو جاتا،بستروں کی چادریں جھاڑتا،جاوید موڑھے پر بیٹھا دانتوں میں تیلی پھیرتا رہتا اور مسکرا مسکرا کر نوری کو چڑاتا۔
ایک بار آیا تو جوسر لے آیا کہ تازہ تازہ جوس نکال کر پیئو،نوری سے زیادہ جاوید جگ بھر بھر پی جاتا،دودھ میں کیلے ڈالو،آدم ڈالو جو جی میں آئے ڈالو گھماؤ اور پی جاؤ ،جاوید کو گھمانا آ گیا اب سب کچھ گھومنے گا۔
”بھابھی جی کے پیر دبا دے“ ایک دن رشید جاوید کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جاوید گلا پھاڑ کے ہنسا۔
”جا تو دبا دے یہ کام بھی تو کر دے“ رشید کو سانپ سونگھ گیا۔
”اب کے کہا تو زبان کھینچ لوں گا قسم پنج تن پاک کی“
جاوید سچ مچ ڈر گیا۔
”بازاری تو میں ہوں پر لگتا ہے نتا تو بھی نہیں“
جاوید اندر تک بھڑک اٹھا لیکن پانچ لاکھ کا سوچ کر چپ رہا،چپ رہنا پڑا ورنہ اتنی بڑی بات پر ہاتھ پکڑ کر باہر کرتا،کنڈی لگاتا،آرام کرتا لیکن کمینی ہنسی ہنس کر چپ رہا۔
خالص دودھ،تازہ جوس اور ملک شیک پینے والی نوری پانی پیتی تو متلی ہوتی،دال روٹی کا سوچتی تو دل باہر کو آتا،پکا پکایا آ رہا تھا چولہے کے پاس جانے کا خیال بھی نہ آتا۔ جاوید گھر ڈھونڈ رہا تھا تین لاکھ میں سودا ہوا رشید نے جھٹ تین لاکھ نکال کر پکڑا دیئے۔
نوری جاوید کو کبھی نفرت سے دیکھ ہی لیتی رشید کو نہ دیکھا جاتا،ایک دن تعویز لے آیا… گلے میں پہننے کو،نوری نے پہن لیا… جمعرات کے جمعرات مزار پر لے جاتا نوری کے ہاتھ سے تبرک تقسیم کرواتا،مزار کی دہلیز پر رکھا نمک نوری کو چاٹنے کیلئے کہتا،ہر بار دربار کی جالی میں دھاگا باندھ آتا،جانے کہاں کہاں سے دم شدہ پانی لاکر اسے پلاتا وہ اس ذی روح کی طرح ہو گیا جو آسمان کی اور بے قراری سے دیکھے جاتا ہے،بے چینی سے اس دھانے کو کھوجتا ہے جس میں سے اس کی جھولی بھری جاتی ہے آسمان کو شک ہونا ہی ہے اسے شک ہونا ہی پڑے گا… وہ جھولی اٹھائے گھوم گھوم کر اس دھانے کو کھوج رہا ہے… رو رہا ہے،تڑپ رہا ہے۔
ایک جمعرات نوری زنانے حصے سے دعا مانگ کر مردانے میں جاوید کو ڈھونڈنے آئی،احاطے میں کونے میں لگے درخت کے نیچے وہ دونوں ٹانگیں پھیلائے درخت کے تنے سے سر ٹکائے مردوں کی طرح پڑا تھا آنسو گریبان میں جذب ہو رہے تھے۔ دو چھوٹے بچے اس سے چند قدم دور کھڑے اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ بندر تماشہ کر رہا ہو اور اس تماشے میں بندر وہ ہو،ذرا ذرا دیر بعد ہوا میں ہاتھ گھمانے لگتا… نوری اس کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی… غوں غاں کی آوازیں بھی نکال رہا تھا… منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔
”رشید بھائی“ نوری نے ڈرتے ڈرتے آواز دی جتنا اسے رشید پر ترس آیا اتنا ہی وہ ڈر گئی۔ رشید بھائی بدستور معلق ہی رہے۔
”رشید بھائی“ نوری نے آواز ذرا تیز کی ذرا سا جھک کر اس کا شانہ ہلایا… ذرا دیر لگی رشید چونک کر اپنے آپ میں آیا اسے ایسے دیکھا جیسے شرمندہ ہو اور اگلی نظر بے حد شرم لئے ہوئے تھی۔
”اونگھ نے جھپٹ لیا تھا“ وہ کھوکھلی ہنسی ہنسا۔
کھلی آنکھیں اور اونگھ،نوری کا جی چاہا اپنے پلو سے اس کی آنکھیں پونچھ ڈالے… اس کے سر پر وہ تھپکی دے جو اسے سکون کی نیند جگا دے۔
جس کمرے میں نوری پڑی کراہ رہی تھی اسی کمرے کی چھت پر رشید ہاتھ جوڑے لڑکے کیلئے التجا کر رہا تھا کبھی وہ ایک ٹانگ اٹھا لیتا کبھی ہاتھ چھوڑ جھولی اٹھا لیتا۔
رات کا دوسرا پہر تھا جاوید نے رشید کو آواز دی۔
”تیری مراد بر آئی“ جاوید آواز دبا کر چلایا۔
”میری مراد بر آئی“ رشید ہچکی دبا کر شکر بجا لایا،بھاگا نیچے۔
”جانکل جا دوبارہ کبھی ہمیں اپنی شکل نہ دکھانا“
پاک ناموں کا ورد کرتے ہوئے رشید نے اپنے بازوؤں میں بچے کو تھام لیا اور سینے سے لگائے اپنے گھر کی طرف بھاگا۔ وہ سارے انتظام پہلے ہی کر چکا تھا بچہ لیتے ہی شہر سے نکل گیا۔
###
نوری کئی دن خاموش سی رہی ریت نبھا رہی تھی یا رسم وہی جانتی تھی چند دن اس نے اس کھیل کو کھیلا،چلنے پھرنے لگی تو جاوید اسے اپنے ساتھ بازار لے گیا جس چیز پر ہاتھ رکھا وہ لے کر دی۔ فریج،ٹی وی،بیڈ،میز کرسی،کپڑے،برتن،سب مل گیا،اپنی سکینڈ ہینڈ موٹر سائیکل پر جاوید اسے لئے گھومتا،بازاروں میں ہوٹلوں میں،پارکوں میں،نئی نئی چیزیں کھلائیں،نوری نے کبھی سمندری جھینگا نہیں کھایا تھا وہ تک کھا لیا نوری شیر کا گوشت کھانا چاہتی تو جاوید اس کا بھی سوچ لیتا ارادوں کا پکا تھا جاوید۔
نوری دنوں میں ہٹی کٹی ہو گئی روز نئے نئے کپڑے پہن لیتی رات کو چند بار رو لیتی،پھر خود ہی چپ کر جاتی،شاموں اور دوپہروں میں آہیں بھرتی جاتی اور سیب کیلا کھائے جاتی اور جلدی جلد چکنے فرش پر گیلا کپڑا لگائے جاتی۔
شیشے کے سامنے بیٹھتی آنکھوں کے گرد حلقے دیکھتی منا یاد آ جاتا اور پھر کوئی نا کوئی کریم اٹھا کر منہ پر لگا لیتی۔
رشید نے پانچ لاکھ کا کہا تھا پورے آٹھ لاکھ دے کر گیا تھا۔ اتنا مہنگا گوشت کا لوتھڑا خرید کر لے گیا تھا، پاگل ہی تھا۔
منے کی پیدائش کے تین دن بعد ایک ٹولہ ان کے گھر آن دھمکا۔ جاوید نے تو صاف انکار کیا کہ ان کے یہاں کوئی بچہ وچہ نہیں آیا کہاں منہ اٹھائے چلے آ رہے ہو… کہیں اور دفعان ہو جاؤ۔
گرو بھڑک اٹھا یہ زور سے تالی پیٹی“ اے لو جی… پیسے دھیلے پر سواہ ڈال بچے سے ہی انکاری ہو رہا ہے… اے بابو ہم پکے کام کرتے ہیں لاؤں کیا اس دائی کو تیرے منہ پر… پھر بولے گا کوئی بچہ وچہ نہیں ہے… بول بانکے سجیلے بولے گا کہے گا کہ بچہ نہیں ہے… کیسا باپ ہے رے تو… ہاے موری میّا… کیسے منہ پھاڑ کر کہہ رہا کوئی بچہ نہیں ہے… ذرا آواز اس طرف کو منہ کرکے نکال آس پڑوس اکٹھا کر… دادا نانا تو یہاں کوئی نظر نہیں آ رہا دو پیسے محلے والے ہی دے دیں گے۔
”میں کہتا ہوں نکل یہاں سے سنا نہیں تو نے؟ نہیں نچوانا ہمیں تمہیں… نکلو یہاں سے ہیجڑوں…“ جاوید نے جھک کر گھنگھرو باندھتی چٹکی کو لات ماری وہ دھڑام فرش پر گری ”اے“ چٹکی نے گالی دی تیوری چڑھی اور لپک کر اس کی گردن دبوچنے کے درپے ہوئی۔
”اے پرے ہٹ چٹکی… آئے ہائے… اے بابو…“ گرو بھڑک اٹھا،ہتھیلی پر ہتھیلی یہ زور سے ماری چٹکی بھی شامل ہوئی ڈھولکی استاد بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا سب زور زور سے تالیاں پیٹنے لگے۔
تالی کا یہ ردھم ہیجڑے غم و غصے،دکھ اور سوگ میں جگاتے ہیں۔
”بابو بانکے سجیلے بیٹھے بٹھائے بچہ نگل رہا ہے“ وہ صحن سے اندر کمرے میں جانے لگا جاوید نے لپک کر اسے پرے دھکا دیا۔ چٹکی پھر دیوار کے ساتھ جا لگی دھکا کھا کر گرو بدلے میں جاوید کو پرے پھینک کر اندر کمرے میں گھس گیا۔ نوری چارپائی پر لیٹی تھی اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکی۔ تالیوں کی گونج کمرے میں پھیل گئی دروازے میں جاویڈ ڈھولکی استاد سے الجھ رہا تھا ہٹا کٹا استاد جاوید کے گلے پڑ رہا تھا۔
”اے چٹکی یہ رہی زچہ… اے بی بی خدا مبارک کرے“ گرو نے دونوں ہاتھوں سے نوری کی بلائیں لیں۔

”ذرا چاند کے ٹکڑے کے درشن تو کرواؤ،آٹا چینی،چادر منے کا ہاتھ لگوا کر دے دیو،یہ تیرے والا تو بھڑکی جا رہا ہے ،ہمارا بھی حق ہوتا ہے،ناچ لیں گے گا لیں گے ہزار پانچ سو لے کر چلے جائیں گے ،اے ہے چٹکی چل شروع ہو یہ رہی زچہ لا بھئی دے بچہ گود میں بیٹھا کر ایسی لوری دونگی سارے رونے بھول جائے گا… گوری کے ہاتھوں میں کھیل لیا تو سدا ہی کھیلے گا،راج کرے گا راج تیرا سپوت… لا دے…“
”نہیں ہے منا“ نوری سے کہا ہی نہ گیا کہ مر گیا منا،جس طرح نوری چلائی ایک پیر کو اٹھائے دوسرے کو گھومائے ناچ کرتی چٹکی ہاتھ پیر روک کر اسے دیکھنے لگی،گرو کو تو آگ لگی خوب لگی ہاتھ بڑھا کر نوری کا بستر ٹٹولا،گڑیا ڈر کر رونے لگی۔
جاوید گالیاں نکال رہا تھا ،نوری بستر میں دبکی جا رہی تھی اسے گرو سے ڈر لگ رہا تھا۔

”اے بی بی بچہ دے کہاں ہے؟“ گرو کی اصلی تیز آواز اب نکلی نوری کا رنگ فق ہو گیا۔
”لڑکا ہوا ہے گھر سونا پڑا ہے نہ کوئی دادی دادا نہ نانی ماموں اتنے بھی غریب نہیں لگتے“ اس نے ہاتھ لہرا کر درو دیوار کی طرف اشارہ کیا۔
”دو دن پہلے رات کو بچہ آیا پیارا سا چاند سا منا ،اب کہاں گیا… بابا رات گئی بات گئی بچہ کیوں گیا؟ اے چٹکی پتا کر کہاں گیا منا،کہاں چھپایا ہے چاند؟؟ چٹکی جھٹ چارپائی کے نیچے جھک گئی۔
”یہاں تو نہیں“ چٹکی نے دونوں بھنویں مٹکائیں انگلی کو تھوڑی پر رکھا،ہاتھ کا انگوٹھا لہرایا۔
”کہاں گیا؟“ تالی پر تالی زور دار بجی۔
”اے منے تو ہی بول کہاں چھپا ہے… ارے او منے… اے منو… آجا میرے لال…“
نوری کے کان پھٹنے کے قریب ہو گئے اس کا جی چاہا کہ وہ اس زور سے چلائے کہ اس کا دل پھٹ جائے اور وہ مر جائے۔ چٹکی اور گرو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
گڑیا کا رونا تیز ہو گیا نوری نے اسے بھی پچکارا چٹکی نے بڑھ کر گڑیا کو اٹھا لیا۔
”ہیجڑے ضرور ہیں بابو الو کے پٹھے نہیں ہیں“ گرو جاوید کی طرف گھوما جاوید ٹھنڈا پڑ گیا اندر آیا نرمی سے بولا۔
”اس کی بہن بے اولاد تھی وہ لے گئی۔“
”اور یہ اتنے دل گردے والی تھی کہ اپنا پہلا ہی بیٹا بہن کی جھولی میں ڈال دیا۔“ تالی بجا کر ہنسنے کا انہیں موقعہ ملا۔
“ دوسروں کو اولاد دینے والی بہت دیکھی ہیں جناب عالیٰ لیکن پہلا پھول کسی کو دیتے نہیں دیکھا چل آ اس کی بہن کے ہاں چلتے ہیں وہاں سے بدھائی دلوا ہمیں… چل آ…“ گرو نے جاوید کا بازو پکڑ کر گھسیٹا۔
”چل آ…“
”وہ دوسرے شہر رہتی ہے گوجرانوالہ“ جاوید ہکلا گیا۔
”چل ٹھیک ہے،اپنی برادری وہاں بھی بہتیری ہے تو پتا دے میری برادری بدھائی لیں گی۔

”بڑے حاجی نمازی ہیں وہ… تمہیں گھسنے نہیں دیں گے“ تالی بجا کر ہنسنے کا ایک اور شاندار موقعہ انہیں ملا۔
”حاجی نمازی سب ہمارے سجن… بدھائی دیتے کسی کو گناہ نہیں لگتا،سبھی گناہ ہم نے اپنے سر لے لئے ہیں تو بے فکر ہی رہ… پتا لکھ یہاں…“ اس نے ہاتھ آگے کیا۔
”نکل یہاں سے کتے…“ جاوید پھر بھڑک اٹھا ان کا کیا لیا… گرو اس سے زیادہ بھڑک اٹھا اپنی پاٹ دار آواز میں دہائیاں دینے لگا… تالیاں پیٹتا صحن میں آ گیا اور چلا چلا کر منا منا کرنے لگا۔
”کھا گئے… دبا گئے… دفنا گئے… جلا ڈالا یا بیچ ڈالا… کہاں گیا منا… او موری میّا ہیجڑے تو ہم بدبخت ہیں۔ یہ بدھائی کون لے اڑا؟ کون کھا گیا گوری کی بدھائی؟ کس کے پیٹ میں گئی بدھائی،چیل کوے لے اڑے… گدھ نوچ کھائے… تو بول میّا کہاں گیا تیرا منا“ وہ نوری کی طرف لپکا۔
نوری کی گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔
زچہ پر نحوست برس رہی ہے باپ پر پھٹکار پڑی ہے… منا ان کے ساتھ کیا کر گیا… جنازہ اٹھا نہ قبر بنی… منا کہاں ہچکیاں روکے پڑا ہے… اے منے تو ہی بتا…“
استاد زمین پر بیٹھا ڈھولکی بجا رہا تھا گوری اور چٹکی صحن میں گول گول گھوم کر دہائیاں دے رہی تھیں سر کو مست ملنگ جھٹکے دے رہی تھیں… کھلے دروازے سے محلے والے اندر آ چکے تھے جو اندر نہیں آئے تھے وہ دروازے سے باہر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھ رہے تھے… آس پڑوس والے چھتوں پر بھی چڑھے تھے… جاوید نے سب کو نکال باہر کیا دروازہ بند کیا ذرا عقل سے کام لیا دو ہزار نکال کر گرو کے آگے کئے۔
”یہ لو اور جاؤ“
”بھیک لینی ہوتی تو ہیجڑے نہ بنتے“ گرو نے غصے سے جاوید کا ہاتھ جھٹکا۔
کیا سمجھا ہے تو نے ہمیں… گالی دیتا ہے دھکا دیتا ہے… ماں بہن کی کر رہا ہے… ہمیں ذلیل کر رہا ہے؟ بابو تیری دال میں بہت کچھ کالا ہے گوری کو بہت سے لوگوں نے ٹھڈے مارے دھتکارا پر تیری دھتکار گوری ہمیشہ یاد رکھے گی تجھے ہمیشہ گوری پھٹکارتی رہے گی… ان پیسوں کو اپنی اور اپنی جورو کی گودی میں رکھ،منا تو رہا نہیں جسے تو گودی میں لئے لئے گھومے… اے منے… اے چاند تجھے آسمان لے اڑا… زمین نگل گئی… کیا ہوا تیرے ساتھ… کہاں گیا وے تو…؟
منا منا کرتا وہ چلا گیا رات گئے تک گھر میں منا منا ہوتی رہی محلے والوں سے جان پہچان نہیں تھی لیکن باری باری بہانے بہانے سے سب آئے جاوید نے سب کو نکال باہر کیا،فساد وقفے وقفے سے چلتا رہا۔
پہلی فرصت میں گھر بدلا وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا پرچون کی دکان کھول لی۔ دکان پر ایک لڑکا دن بھر بیٹھا رہتا اور جاوید نے ایک سکول میں کینٹین کا ٹھیکہ لے لیا،اچھا خاصا بڑا سکول تھا،ٹھیک ٹھاک منافع ہونے لگا۔
جاوید کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑنے اور پھیلنے لگیں،گر سیکھ گئیں تھیں،جاوید رات گئے گھر آتا تو کھانے سے پہلے پیسے گنتا،نہانے سے پہلے کل آنے والے پیسوں کا حساب کرتا اور سونے سے پہلے پھر سے آ چکے اور آنے والوں کا حساب پاک کرتا… اس معاملے میں وہ سستی نہیں کرتا تھا اس معاملے میں وہ پکا تھا قائم تھا۔
نوری کوفتے بناتی یا کھیر… جاوید کو ہر چیز میں پیسوں کا ہی مزا آتا۔ اس کا ہاتھ پکڑتا مانو جیسے سونے کے پہاڑ کی ڈلی مٹھی میں لے لی ہو… دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش رہتے تھے… اچھا کاروبار بن گیا پیٹ تین وقت سے زیادہ بار بار بھرنے لگا۔ منے نے جہاں جانا تھا وہ تو چلا گیا،پہلا سودا ٹھکانے لگا۔
###
منافع تھوڑے سے زیادہ جمع ہو گیا تو اس نے ایک اچھے علاقے کے بڑے سکول کا ٹھیکہ لے لیا۔
گھاگ تو وہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ کینٹین سے سٹاف روم تک گھسنے لگا بلاوجہ کی علیک سلیک بڑھانے لگا۔ سارا وقت اپنے آپ میں ہی گم رہتا۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا۔ اسے پیسہ کمانا آ گیا تھا اب جو گر سیکھ لیا تھا اسے زنگ تو نہیں لگنے دینا تھا نا،ہوٹلوں میں برتن دھوئے،ٹیبل مین بنے،گلی گلی سبزی کی ریڑھی گھماتے اس کی زبان کی کئی نوکیں نکل آئیں تھیں۔
آئے دن کھانا کھاتے سٹاف کی میڈموں کی باتیں کرتا،اس کی سنا اُس کی سنا… یہ بتا وہ بتا… نوالے ڈالے جاتا منہ چر چر چلائے جاتا۔
”چھ سال ہو گئے میڈم گوہر کی شادی کو“ پہلی رات کی بات۔
”یہ اونچی لمبی گوری چٹی میم صاحب…“ آنے والے دنوں کی بات۔
”امریکہ تک گئی علاج کروانے… بڑی نازک مزاج ہے بی بی صاحبہ چائے کے کپ سے ایک قطرہ بھی چھلک جائے تو چائے نہیں پیتی پرے کھسکا دیتی ہے… چلتی ایسے ہے جیسے راج پاٹ کی مالک ہو… اور بولتی تو ایسے ہے قسم خدا پاک کی کہ لٹ پٹ جانے کو جی کرتا ہے…“ کہہ کر جاوید ایویں ہنسا۔
”میڈم کی چائے تو بناتا ہے؟ نوری الٹی ہی بات پکڑتی تھی۔
”میں کیوں بنانے لگا سکول کا باورچی بتا رہا تھا“ جاوید جل بھن گیا مجال ہے یہ نوری کہ کبھی اشارے سمجھ جائے۔
”تو اس سے میڈم کی باتیں پوچھتا ہے؟“ نوری کو اپنے مرد کی پڑی تھی۔
”نہیں پاگل“ وہ چڑ گیا ”مجھے معلوم ہو جاتا ہے بہت کچھ آپو آپ ہی“ جھوٹ بولا اسے آپو آپ معلوم کرنا پڑتا تھا۔
”تو کیوں پتا کرتا پھرتا ہے اس کے بارے میں“ نوری جی جان سے جلی بیٹھی تھی۔ جاوید نے ہاتھ کا نوالہ پلیٹ میں پٹخا۔
”کیا سنے گی مجھ سے؟“
”کتنے پیسے دے رہی ہے وہ؟ نوری جم کر بولی نوری سبھی اشارے جان گئی تھی دونوں ایک ہی دھرتی کی خاک تھے۔ اک دوجے میں گڈ مڈ تھے۔
جاوید نے نوالہ اٹھا لیا سوچا کھا کر ہی بات کرے منہ کھول کر نوالہ اندر کیا آرام سے دانتوں تلے دبایا۔
”اتنی جلدی کا ہے کی ہے…؟“
منہ چلتا رہا… نوالہ پستا رہا۔
نوری اسے چار سال تک چھپا چھپا کر گھر کے گودام میں لاتی رہی تھی اس کی رگ رگ سے واقف ہوتی جا رہی تھی،اب اس کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
”کہتی ہے گلشن اقبال میں تین مرلے کا ایک پلاٹ ہے“ جاوید کوئی ڈرتا تھا نوری سے۔ اسے تو بیچنے کے سبھی گرآنے لگے تھے۔ بچت کا اندازہ ہو چکا تھا،پیسے سے عشق ہو گیا تھا۔
پہلے بھوک تھی اب ہوس تھی،پہلے چھپا تھا اب کھل چکا تھا،نفس کے ساتھ تو تکرار کا وقت گزار چکا تھا اب تو اسے بیچ کھانے کا وقت آیا تھا۔ وہ پردے چاک کئے کھل کھلا چکا تھا۔
”کہیں دور پہاڑوں پر،گاؤں،قصبوں میں اور دور صحراؤں میں چھوٹی بڑی ڈھکی چھپی بستیوں میں رہنے والے بڑا سمندر سمندر کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں پہلے یہ بڑے سمندر کو دیکھیں گے تو کیسا لطف آئے گا۔
پانی سے پیر بھیگیں گے تو کیسا لگے گا۔ وہ رات دن سمندر سمندر ہی کرتے پھرتے ہیں،آہیں بھرتے ہیں،تگ و دو کرتے ہیں،آنے جانے والوں سے سمندر کا احوال پوچھتے ہیں۔ سمندری ہواؤں کا سوچ سوچ مست ہوتے ہیں…
پھر جب وہ خود سمندر کے کنارے تک آ جاتے ہیں تو خوف کھا جاتے ہیں متلی ہونے لگتی ہے سمندری ہوا بری لگنے لگتی ہے… سمندر منہ کھول نگل لینے والا نظر آتا ہے۔
اور کچھ جو سمندر سے خوف کھائے ہوتے ہیں وہ پانی میں ڈبکی پر ڈبکی لگا رہے ہوتے ہیں… بس یہی ہے انسان… جب تک دور ہے پتا نہیں کہ وہ کیا ہے… سمندر جو کہ وقت،زمانہ،حالات،خواہشات سے قریب جانے پر ہی پتا دیتا ہے کہ انسان کا اصل کیا ہے۔
جاوید گاؤں کا تھا شہر میں چھوٹے بڑے کام کئے… تب تک معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا ہے،رشید کے ملتے ہی دھل کر اصل ہو گیا۔
بہروپ سے روپ میں آ گیا۔
رشید کے بعد نوری کو بتائے بغیر وہ ایک اور گاہک کی تاک میں تھا۔ سکول کے ملازموں سے پوچھتا پھرتا تھا۔ یہاں وہاں بھی بہت زبان کے جال پھینک رکھے تھے کوئی تو پھنسے گا۔ ایک اور پھنس ہی گیا… میڈم گوہر…
ان کی بے اولادی کا پتا چلا تو اس نے باقاعدہ ان پر نظر رکھنی شروع کر دی،ان سے علیک سلیک بڑھائی،ان کے گھر تک جا پہنچا،عادت کی بہت اچھی تھیں،سکول میں وائس پرنسپل تھیں،جوان تھیں خوبصورت تھیں… اور سب سے بڑھ کر بہت بھولی تھیں۔
”یتیم خانے سے کیوں نہیں لیتی؟“ کیا سوال کیا تھا نوری نے،مطلب میری ہی دکان پر کیوں آئے ہو۔
”کہا تو ہے گند میں ہاتھ نہیں ڈالتی،حلال کا چاہیے انہیں“
جاوید ساتھ ساتھ آرام سے دل لگا کر کھانا کھا رہا تھا وہی بکرے کا بھنا گوشت اور فرائی مچھلی… کتنے آرام سے ”کاروباری“ باتیں کر رہا تھا۔
”تجھے شرم نہیں آتی؟ نوری کو کچھ شرم آ ہی گئی۔

”کاہے کی شرم… منہ میں زبان حلق میں ہاتھ ڈال کر کھینچ لوں گا… فائدہ اٹھاتی ہے میری نرمی کا…“
”ایک کا بھاؤ چکا لیا نا اب سب کو بھاؤ سے لگائے گا؟“
”ہاں! لگاؤں گا سب کا… بھلے کا کام ہے ضرور کروں گا… بھلا کرتا ہوں لوگوں کا،دل تڑپتا ہے ان کے دکھوں پر۔“
”بھلے کے نام پر پیسے کیوں لیتا ہے؟“
خوشی سے دیتے ہیں وہ… کمینہ نہیں ہوں میں،تو کیا جانے بے اولادی کا غم… تیری تو کوکھ ہری بھری رہتی ہے۔“
”اجڑ بھی جاتی ہے“ نوری کو پھر سے منا یاد آیا۔
”کہاں کا اجڑنا… عیش نہیں کر رہی؟“

”وہی تو کہہ رہی ہوں… عیش کر رہے ہیں نا… گاؤں سے نکلے تو چار چار وقت روٹی نہیں ملتی تھی مانگ مانگ کر بھی کھائی اب چار مہینے کا راشن رکھا ہے باورچی خانے میں پکانے کو… گھر بھرا پڑا ہے…“
”یہ سب میری محنت سے آیا ہے۔“
نوری کو آگ ہی لگ گئی“ بچہ تو نے جنا تھا؟“ دونوں فیصلہ کروانا چاہتے تھے کہ یہ عیش دراصل کس کی وجہ سے تھا۔
”دونوں کی وجہ سے“
ہاں تو میں جن لیتا… کس پے اترا رہی ہے اتنا پیچھے سے لائی ہے یہ بچے؟؟
”پیچھے سے لاتی تو تجھے سودے کرنے دیتی؟ جاوید نے لپک کر اس کی چٹیا پکڑی چار پانچ گالیاں دیں اور پٹخ کر چلا گیا وہ چیخ چیخ کر رونے لگی… تھوڑی دیر بعد جاوید آیا،اسے اٹھایا،بٹھایا… منہ آنکھیں صاف کیں اور جڑ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
”تو میری نوری نہیں؟“
جب دونوں میں پیار کی پینگیں بڑھنی شروع ہوئی تھیں تو جاوید اسے نہ جانے دینے کیلئے… ہاتھ پکڑنے کیلئے… پاس بٹھانے کیلئے اور ایسے ہی بہت سے ڈھکے چھپے کام کروانے کیلئے لاڈ سے کہا کرتا تھا اور نوری فوراً اترا کر کہتی تھی ”نہیں“ مطلب ہاں… پکی ہاں… وہ وہی عورت تھی جس کی ناں ہی ہاں ہوتی ہے… وہ عورت بھی جو جلدی مان جاتی ہے اور خاص کر وہ عورت جو اپنے مرد کی مانتی ہے۔

”میری محبت پر شک ہے تجھے نوری؟ بے چاری میڈم کا سوچ… ان کے دکھ… محبت کی شادی کی تھی،دوسری بیوی ہے اپنے صاحب کی… شوہر خود تو اولاد والا ہے یہ اکیلی تڑپتی ہے کہہ رہی تھی کہ بچے کو کینیڈا لے جا کر پڑھاؤنگی ،خود سوچ کینیڈا میں جا کر پڑھے گا ہمارا بچہ… انگریز بنے گا انگریز… گاڑی… گھر… ہمارے پاس نہ سہی اس کے پاس تو ہوگا… اتنی بے چاری نہ بن اس عورت کا بھی سوچ تو بھلا کر دے گی اس کا تو تیرا کیا جائے گا الٹا ہمارے بچے کا ہی فائدہ ہوگا… میں تو اپنے بچے کا ہی سوچ رہا ہوں… خوش ہوں کہ جو ہم نہیں دے سکتے وہ کوئی تو دے گا… ہمارے بچے بڑے آدمی بن جائیں گے… یہ تھوڑی سی قربانی کی ہی بات ہے… ماں باپ کیا نہیں کرتے اولاد کیلئے… اپنا آپ بیچ ڈالتے ہیں… بیچ چوراہے میں نیلام کر ڈالتے ہیں خود کو…“
نوری سنتی رہی اٹھ کر نہ گئی۔
جاوید نے اس کے گرد بازوؤں کا حلقہ تنگ کر دیا نوری اس حلقے میں خوشی سے مدغم ہو گئی اسی حلقے میں رہنے کیلئے وہ گاؤں سے بھاگ نکلی تھی۔
”مجھ سے تو بھی میڈم کا دکھ دیکھا نہیں جاتا… ورنہ یہ گڑیا تین کی ہوئی ہے نا ابھی اسی کی بات کر لیتا ہوں۔“
نوری نے فوری ہاتھ بڑھا کر جاوید کا منہ بند کر دیا۔
”گڑیا کا نام مت لے جاوید۔“
”چل پھر تو اس کی تیاری کر… دل سے سے سمجھ لے تو نے کسی اور کا رکھا ہے۔

کس کا؟ نوری نے اتنا بڑا طنز کیا جاوید کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا۔“
دیکھ نوری مجھے ایسے طیش نہ دلا… قسم خدا پاک کی،میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں گا… دکان اور کاروبار ہیں میرے پاس… کہاں جائے گی تو… بہت عورتیں مجھے اور نہیں تو یہ فٹ پاتھوں،چوکوں میں جو بنجار نہیں جھولتی پھرتی ہیں نا انہی میں سے ایک کو گھر لا بٹھاؤں گا… تجھے سکھ کھلتا ہے دکھ تجھے بھلے… باہر نکل کر گلی گلی جا کر کمانا پڑے نا تو تجھے پتا چلے… یہاں گھر بیٹھی تو سارا دن ٹی وی دیکھتی رہتی ہے یا سوتی رہتی ہے… ایویں کم عقلیاں نہ کر… بھولی پگلی… سمجھ میری بات… تو مجھ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ہے… تو عورت ہے… میں مرد ہوں… تجھے نہیں مجھے پتا ہے کیا کرنا ہے…
اب جاوید نے اسے سینے سے لگا لیا نوری عین اس کے دل کی دھڑکن سے جا لگی۔
”یاد نہیں گاؤں کی حاجن بی… اوپر تلے کے اپنے دو بیٹے دے دیئے تھے ایک تو ساتھ والی کو دیا تھا جو ہر وقت حاجن بی سے لڑتی رہتی تھی روتی پیٹتی رہتی تھی رات دن بین ڈالتی تھی میڈم کی طرح ہی دکھی تھی۔ حاجی بی نے خود سے ہی لے جا کر اس کی جھولی میں ڈال دیا… یاد کر… یہ سامنے کا ہی گھر تھا نا حاجن بی کا… تو کیا سانپ لوٹتے ہونگے ان کے سینے پر؟ کیسے راضی باضی تھیں وہ… کیسا نور برستا تھا۔
ان میں… گاؤں بھر نے تعریف کی… تو کیا وہ بچہ دینے سے بری بن گئیں؟ حاجن بی سے کچھ سبق سیکھ… دوسروں کی آس مراد ہم سے پوری ہو جائے تو کیا برا ہے؟ میں تو بھئی اسی میں راضی بارضا ہوں…“
”جاوید کے دل کی دھڑکنیں سنتے نوری اونگھنے لگی۔“
نوری بمشکل سترہ سال کی تھی جب وہ جاوید کے ساتھ گاؤں سے بھاگی تھی۔ جاوید ہٹا کٹا بیس بائیس کا ہوگا پر چھ سات سال اور بڑا ہی لگتا تھا اپنی اصل عمر سے۔
گاؤں میں ان کا چکر بہت دیر رہا۔ بہت جگہوں پر ملے بہت کونوں میں چھپے۔ جاوید کہتا ”سارے گاؤں کو آگ لگا دوں گا اگر نوری کے گھر کوئی اور بارات لایا۔“ بارات تو خیر کسی کی نہ آئی،دونوں اپنی بارات لے کر شہر آ گئے۔
جس رات جاوید نے اسے کہا کہ شہر بھاگ چلتے ہیں اسی رات کے پچھلے پہر دونوں بھاگ گئے… سوچنا کیسا؟ سورج کے اشارے پر جس طرح دن نکلتا ہے ایسے ہی نوری جاوید کے اشارے پر چلتی تھی،گاؤں میں اس نے اپنی پکی سہیلی کو بھی ہوا لگنے نہیں دی کہ اس کا جاوید کے ساتھ چکر ہے۔
اتنے سال اس کے گھر والے اسے چپ چپیتی گائے سمجھتے رہے… وہ دو دو گھنٹے جاوید کے ساتھ گزار آتی اور اماں بے فکر رہتی“ ہوگی دس بارہ سہیلیوں میں سے کسی ایک کے پاس۔ وہی اماں اسے رات کے پچھلے پہر اپنی دو آنکھوں سے بھاگتے ہوئے دیکھ لیتی تو بھی یقین نہ کرتی کہ یہ نور فاطمہ بھاگی جا رہی ہے۔ سارا دن زبان منہ میں دیئے بھیڑ بکریوں کی طرح کام کرنے والی نوری… خاندان کے ہر چھوٹے بڑے لڑکے کو بڑھ بڑھ کر بھرا جی بھرا کہنے والی کسی چھوکرے کے ساتھ رات گئے بھاگ رہی ہے،نوری کیلئے بس جاوید ہی ناخدا تھا،جی جان لگا کر اس کی پرستش کرتی۔
گھر سے بھاگ آئی تھی ایک بار نہیں سوچا تھا غلط کر آئی ہوں،جائز ناجائز،غلط درست کے چکروں میں پڑنے والی نہیں تھی وہ۔
جاوید خود تو خیر کیا ڈرتا اسے ضرور ڈرا کر رکھتا اس کے باپ اور بھائیوں سے ۔ وہ اسے کہتا کہ وہ تو بھاگ جائے گا گردن تو نوری کی پکڑی جائے گی… نوری ڈر جاتی جاوید منہ کھول کر پرانے انجن کی سی آواز لئے ہنسنے لگتا… نوری سو سو بار پوچھتی،قسمیں لیتی۔
”تو مجھے چھوڑ کر بھاگے گا تو نہیں… بتا بول…“اور وہ انجن چلائے ہی جاتا اور جب وہ رونے لگتی،تو بریک لگا کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتا۔”اگر تیرے بھائیوں نے میری گردن دبوچ لی تو… تو بھاگ جائے گی کیا۔“نوری فوراً سر نفی میں ہلا دیتی ساتھ جینے مرنے کی قسمیں ابھی یاد تھیں۔”پھر میں کیسے بھاگ سکتا ہوں تو میری نوری… میں تیرا انور،بات ختم“
جاوید نوری کو سینے سے لگائے پیار کی لوری سنا رہا تھا۔
جو عورت محبت میں غرق ہو جاتی ہے وہ جائز ناجائز سے تو پرے ہی ہو جاتی ہے نا… وہ محبت ہی کئے جاتی ہے… محبت ہی کئے جاتی ہے… کسی کام کی نہیں رہتی اسی لئے کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کر پاتی۔ وہ عورت جو محبت کو ہی دین ایمان بنا لیتی ہے… مرد کو خدا اور سر جھکانے کو عبادت… ایسی عورت کسی کام کی نہیں رہتی۔
اب یہ نہیں تھا کہ جاوید ہی بے غیرت تھا نوری اپنی سہیلیوں کی نظریں بھٹکا کر بندے،ہار چرانے والی… ان کی چیزیں اٹھا کر پلو میں دبا کر بھاگ جانے والی بھابھیوں کے میکے سے آئے مربے،مرونڈے چوری چھپے منہ بھر بھر کھانے والی… بے ایمان نوری… دور پرے کی پھوپھی خالہ یا اپنی سگی بہنوں کے جاتی تو چھوٹی بڑی ہزاروں چیزیں اٹھا لاتی۔
حاجن بی قرآن خوانی کرواتیں تو سستی کی ماری ایک صفحہ پڑھتی دو چھوڑ دیتی باقی کا سارا وقت ہونٹ ایسے ہی ہلائے جاتی ساتھ ساتھ تھوڑا اونگھ لیتی یا ذرا اوٹ میں ہو کر سپارہ ہاتھ میں لئے جاوید سے ہوئی ملاقات کو یاد کر لیتی۔ اماں کہتی نوری ابالے پر ابالا آ جائے،دودھ اچھی طرح سے کڑھ جائے تو ہی چولہے سے اتاری… وہ ایک ہی بار ابال کر ایک طرف رکھ دیتی پھر سچی قسمیں کھاتی کہ اتنا تو کڑھ گیا تھا دودھ تبھی تو اتارا… اب اللہ جانے دودھ کے ساتھ کیا بنی،میں نے تو ابال لیا تھا کئی بار،آئیں بائیں شائیں۔
اس نوری میں بہت چور در تھے… بہت بڑے تھے بہت گھنے تھے۔ ایسے ہی نہیں اماں کے فرشتوں کو بھی سلا کر وہ جاوید سے کئی کئی بار مل آتی تھی۔ صحن میں بھائی سو رہے ہوتے اور وہ سامنے کے ہی دروازے سے جاوید کو لاکر گودام تک لے جاتی۔ بوریوں کے پیچھے گھپاسی بنا رکھتی تھی وہیں جاوید اور وہ دونوں جڑ کر بیٹھے ہوتے،پچھلے پہر جاوید چلا جاتا اور مجال ہے کہ کوئی اتنی سی شکایت بھی کر جائے کہ رات کو کوئی اٹھ کر چل رہا تھا۔
بڑی بھابھی ذرا تیز تھیں ادھر ادھر نظر رکھتی تھیں انہیں بھی اندھا کئے بیٹھی تھی نوری… گودام کی گھپا میں وہ جاوید کے ساتھ لپٹی رہتی… اسے کھلاتی… پیار کی لوری سناتی…

”وہی تو کہہ رہی ہوں… عیش کر رہے ہیں نا… گاؤں سے نکلے تو چار چار وقت روٹی نہیں ملتی تھی مانگ مانگ کر بھی کھائی اب چار مہینے کا راشن رکھا ہے باورچی خانے میں پکانے کو… گھر بھرا پڑا ہے…“
”یہ سب میری محنت سے آیا ہے۔“
نوری کو آگ ہی لگ گئی“ بچہ تو نے جنا تھا؟“ دونوں فیصلہ کروانا چاہتے تھے کہ یہ عیش دراصل کس کی وجہ سے تھا۔
”دونوں کی وجہ سے“
ہاں تو میں جن لیتا… کس پے اترا رہی ہے اتنا پیچھے سے لائی ہے یہ بچے؟؟
”پیچھے سے لاتی تو تجھے سودے کرنے دیتی؟ جاوید نے لپک کر اس کی چٹیا پکڑی چار پانچ گالیاں دیں اور پٹخ کر چلا گیا وہ چیخ چیخ کر رونے لگی… تھوڑی دیر بعد جاوید آیا،اسے اٹھایا،بٹھایا… منہ آنکھیں صاف کیں اور جڑ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
”تو میری نوری نہیں؟“
جب دونوں میں پیار کی پینگیں بڑھنی شروع ہوئی تھیں تو جاوید اسے نہ جانے دینے کیلئے… ہاتھ پکڑنے کیلئے… پاس بٹھانے کیلئے اور ایسے ہی بہت سے ڈھکے چھپے کام کروانے کیلئے لاڈ سے کہا کرتا تھا اور نوری فوراً اترا کر کہتی تھی ”نہیں“ مطلب ہاں… پکی ہاں… وہ وہی عورت تھی جس کی ناں ہی ہاں ہوتی ہے… وہ عورت بھی جو جلدی مان جاتی ہے اور خاص کر وہ عورت جو اپنے مرد کی مانتی ہے۔

”میری محبت پر شک ہے تجھے نوری؟ بے چاری میڈم کا سوچ… ان کے دکھ… محبت کی شادی کی تھی،دوسری بیوی ہے اپنے صاحب کی… شوہر خود تو اولاد والا ہے یہ اکیلی تڑپتی ہے کہہ رہی تھی کہ بچے کو کینیڈا لے جا کر پڑھاؤنگی ،خود سوچ کینیڈا میں جا کر پڑھے گا ہمارا بچہ… انگریز بنے گا انگریز… گاڑی… گھر… ہمارے پاس نہ سہی اس کے پاس تو ہوگا… اتنی بے چاری نہ بن اس عورت کا بھی سوچ تو بھلا کر دے گی اس کا تو تیرا کیا جائے گا الٹا ہمارے بچے کا ہی فائدہ ہوگا… میں تو اپنے بچے کا ہی سوچ رہا ہوں… خوش ہوں کہ جو ہم نہیں دے سکتے وہ کوئی تو دے گا… ہمارے بچے بڑے آدمی بن جائیں گے… یہ تھوڑی سی قربانی کی ہی بات ہے… ماں باپ کیا نہیں کرتے اولاد کیلئے… اپنا آپ بیچ ڈالتے ہیں… بیچ چوراہے میں نیلام کر ڈالتے ہیں خود کو…“
نوری سنتی رہی اٹھ کر نہ گئی۔
جاوید نے اس کے گرد بازوؤں کا حلقہ تنگ کر دیا نوری اس حلقے میں خوشی سے مدغم ہو گئی اسی حلقے میں رہنے کیلئے وہ گاؤں سے بھاگ نکلی تھی۔
”مجھ سے تو بھی میڈم کا دکھ دیکھا نہیں جاتا… ورنہ یہ گڑیا تین کی ہوئی ہے نا ابھی اسی کی بات کر لیتا ہوں۔“
نوری نے فوری ہاتھ بڑھا کر جاوید کا منہ بند کر دیا۔
”گڑیا کا نام مت لے جاوید۔“
”چل پھر تو اس کی تیاری کر… دل سے سے سمجھ لے تو نے کسی اور کا رکھا ہے۔

کس کا؟ نوری نے اتنا بڑا طنز کیا جاوید کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا۔“
دیکھ نوری مجھے ایسے طیش نہ دلا… قسم خدا پاک کی،میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں گا… دکان اور کاروبار ہیں میرے پاس… کہاں جائے گی تو… بہت عورتیں مجھے اور نہیں تو یہ فٹ پاتھوں،چوکوں میں جو بنجار نہیں جھولتی پھرتی ہیں نا انہی میں سے ایک کو گھر لا بٹھاؤں گا… تجھے سکھ کھلتا ہے دکھ تجھے بھلے… باہر نکل کر گلی گلی جا کر کمانا پڑے نا تو تجھے پتا چلے… یہاں گھر بیٹھی تو سارا دن ٹی وی دیکھتی رہتی ہے یا سوتی رہتی ہے… ایویں کم عقلیاں نہ کر… بھولی پگلی… سمجھ میری بات… تو مجھ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ہے… تو عورت ہے… میں مرد ہوں… تجھے نہیں مجھے پتا ہے کیا کرنا ہے…
اب جاوید نے اسے سینے سے لگا لیا نوری عین اس کے دل کی دھڑکن سے جا لگی۔
”یاد نہیں گاؤں کی حاجن بی… اوپر تلے کے اپنے دو بیٹے دے دیئے تھے ایک تو ساتھ والی کو دیا تھا جو ہر وقت حاجن بی سے لڑتی رہتی تھی روتی پیٹتی رہتی تھی رات دن بین ڈالتی تھی میڈم کی طرح ہی دکھی تھی۔ حاجی بی نے خود سے ہی لے جا کر اس کی جھولی میں ڈال دیا… یاد کر… یہ سامنے کا ہی گھر تھا نا حاجن بی کا… تو کیا سانپ لوٹتے ہونگے ان کے سینے پر؟ کیسے راضی باضی تھیں وہ… کیسا نور برستا تھا۔
ان میں… گاؤں بھر نے تعریف کی… تو کیا وہ بچہ دینے سے بری بن گئیں؟ حاجن بی سے کچھ سبق سیکھ… دوسروں کی آس مراد ہم سے پوری ہو جائے تو کیا برا ہے؟ میں تو بھئی اسی میں راضی بارضا ہوں…“
”جاوید کے دل کی دھڑکنیں سنتے نوری اونگھنے لگی۔“
نوری بمشکل سترہ سال کی تھی جب وہ جاوید کے ساتھ گاؤں سے بھاگی تھی۔ جاوید ہٹا کٹا بیس بائیس کا ہوگا پر چھ سات سال اور بڑا ہی لگتا تھا اپنی اصل عمر سے۔
گاؤں میں ان کا چکر بہت دیر رہا۔ بہت جگہوں پر ملے بہت کونوں میں چھپے۔ جاوید کہتا ”سارے گاؤں کو آگ لگا دوں گا اگر نوری کے گھر کوئی اور بارات لایا۔“ بارات تو خیر کسی کی نہ آئی،دونوں اپنی بارات لے کر شہر آ گئے۔
جس رات جاوید نے اسے کہا کہ شہر بھاگ چلتے ہیں اسی رات کے پچھلے پہر دونوں بھاگ گئے… سوچنا کیسا؟ سورج کے اشارے پر جس طرح دن نکلتا ہے ایسے ہی نوری جاوید کے اشارے پر چلتی تھی،گاؤں میں اس نے اپنی پکی سہیلی کو بھی ہوا لگنے نہیں دی کہ اس کا جاوید کے ساتھ چکر ہے۔
اتنے سال اس کے گھر والے اسے چپ چپیتی گائے سمجھتے رہے… وہ دو دو گھنٹے جاوید کے ساتھ گزار آتی اور اماں بے فکر رہتی“ ہوگی دس بارہ سہیلیوں میں سے کسی ایک کے پاس۔ وہی اماں اسے رات کے پچھلے پہر اپنی دو آنکھوں سے بھاگتے ہوئے دیکھ لیتی تو بھی یقین نہ کرتی کہ یہ نور فاطمہ بھاگی جا رہی ہے۔ سارا دن زبان منہ میں دیئے بھیڑ بکریوں کی طرح کام کرنے والی نوری… خاندان کے ہر چھوٹے بڑے لڑکے کو بڑھ بڑھ کر بھرا جی بھرا کہنے والی کسی چھوکرے کے ساتھ رات گئے بھاگ رہی ہے،نوری کیلئے بس جاوید ہی ناخدا تھا،جی جان لگا کر اس کی پرستش کرتی۔
گھر سے بھاگ آئی تھی ایک بار نہیں سوچا تھا غلط کر آئی ہوں،جائز ناجائز،غلط درست کے چکروں میں پڑنے والی نہیں تھی وہ۔
جاوید خود تو خیر کیا ڈرتا اسے ضرور ڈرا کر رکھتا اس کے باپ اور بھائیوں سے ۔ وہ اسے کہتا کہ وہ تو بھاگ جائے گا گردن تو نوری کی پکڑی جائے گی… نوری ڈر جاتی جاوید منہ کھول کر پرانے انجن کی سی آواز لئے ہنسنے لگتا… نوری سو سو بار پوچھتی،قسمیں لیتی۔
”تو مجھے چھوڑ کر بھاگے گا تو نہیں… بتا بول…“اور وہ انجن چلائے ہی جاتا اور جب وہ رونے لگتی،تو بریک لگا کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتا۔”اگر تیرے بھائیوں نے میری گردن دبوچ لی تو… تو بھاگ جائے گی کیا۔“نوری فوراً سر نفی میں ہلا دیتی ساتھ جینے مرنے کی قسمیں ابھی یاد تھیں۔”پھر میں کیسے بھاگ سکتا ہوں تو میری نوری… میں تیرا انور،بات ختم“
جاوید نوری کو سینے سے لگائے پیار کی لوری سنا رہا تھا۔
جو عورت محبت میں غرق ہو جاتی ہے وہ جائز ناجائز سے تو پرے ہی ہو جاتی ہے نا… وہ محبت ہی کئے جاتی ہے… محبت ہی کئے جاتی ہے… کسی کام کی نہیں رہتی اسی لئے کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کر پاتی۔ وہ عورت جو محبت کو ہی دین ایمان بنا لیتی ہے… مرد کو خدا اور سر جھکانے کو عبادت… ایسی عورت کسی کام کی نہیں رہتی۔
اب یہ نہیں تھا کہ جاوید ہی بے غیرت تھا نوری اپنی سہیلیوں کی نظریں بھٹکا کر بندے،ہار چرانے والی… ان کی چیزیں اٹھا کر پلو میں دبا کر بھاگ جانے والی بھابھیوں کے میکے سے آئے مربے،مرونڈے چوری چھپے منہ بھر بھر کھانے والی… بے ایمان نوری… دور پرے کی پھوپھی خالہ یا اپنی سگی بہنوں کے جاتی تو چھوٹی بڑی ہزاروں چیزیں اٹھا لاتی۔
حاجن بی قرآن خوانی کرواتیں تو سستی کی ماری ایک صفحہ پڑھتی دو چھوڑ دیتی باقی کا سارا وقت ہونٹ ایسے ہی ہلائے جاتی ساتھ ساتھ تھوڑا اونگھ لیتی یا ذرا اوٹ میں ہو کر سپارہ ہاتھ میں لئے جاوید سے ہوئی ملاقات کو یاد کر لیتی۔ اماں کہتی نوری ابالے پر ابالا آ جائے،دودھ اچھی طرح سے کڑھ جائے تو ہی چولہے سے اتاری… وہ ایک ہی بار ابال کر ایک طرف رکھ دیتی پھر سچی قسمیں کھاتی کہ اتنا تو کڑھ گیا تھا دودھ تبھی تو اتارا… اب اللہ جانے دودھ کے ساتھ کیا بنی،میں نے تو ابال لیا تھا کئی بار،آئیں بائیں شائیں۔
اس نوری میں بہت چور در تھے… بہت بڑے تھے بہت گھنے تھے۔ ایسے ہی نہیں اماں کے فرشتوں کو بھی سلا کر وہ جاوید سے کئی کئی بار مل آتی تھی۔ صحن میں بھائی سو رہے ہوتے اور وہ سامنے کے ہی دروازے سے جاوید کو لاکر گودام تک لے جاتی۔ بوریوں کے پیچھے گھپاسی بنا رکھتی تھی وہیں جاوید اور وہ دونوں جڑ کر بیٹھے ہوتے،پچھلے پہر جاوید چلا جاتا اور مجال ہے کہ کوئی اتنی سی شکایت بھی کر جائے کہ رات کو کوئی اٹھ کر چل رہا تھا۔
بڑی بھابھی ذرا تیز تھیں ادھر ادھر نظر رکھتی تھیں انہیں بھی اندھا کئے بیٹھی تھی نوری… گودام کی گھپا میں وہ جاوید کے ساتھ لپٹی رہتی… اسے کھلاتی… پیار کی لوری سناتی…

”ٹھیک ہیں سب“
”کہاں گئے ہیں سب“
”جاوید اندر کیوں نہیں آیا“ وہ یہ سوال کرنے لگیں نوری اٹھ کھڑی ہوئی کار میں بیٹھ کر بلاوجہ گڑیا کو مارا۔
”اب نہیں لاؤں گا تجھے… عزت سواہ کر دی میری،ابا کو دیکھا تھا گوبر کے پاس بیٹھا رہا گند میں… حقہ گڑگڑاتا رہا مچھر مکھی کی بھنبھناہٹ سنتا رہا ہمیں کتا سمجھ کر ہش بھی نہ کیا۔“ جاوید سارے راستے بکتا رہا۔
نوری چپ رہی اس کے گھر والوں کو بھی گالیاں دیتا رہا۔
نوری نے کام والی کو ساری چیزیں اٹھوا دیں۔ اسے منہ کھول کر حیرت کے اظہار کا سلیقہ بھی نہ آیا۔ جھپٹ کر چیزیں نکل گئی کہ باجی سیٹھا گئی ہے کہیں عقل ہی نہ پکڑ لے۔
گاؤں کا اپنا راستہ نوری بھاگ کر بند کر آئی تھی نا… اس پر لگا تالا بھی کل دیکھ آئی تھی تسلی ہو گئی تھی۔

جاوید نے پستول والی الماری کو تالا لگا دیا وہ تو گھر کو ہی تالا لگا کر بھاگ لئے تھے اس کے پیچھے خاک آئیں گے۔
نوری کا خیال تھا کہ اس کے بھائی گاؤں گاؤں پھرے ہونگے اسے ڈھونڈتے ریلوے اسٹیشن،لاری اڈے جانے کہاں کہاں مہینوں کھپتے رہے ہوں گے۔ نوری مل جائے کہیں نوری مل جائے مارنا ہی ہے لیکن پکڑ میں تو آئے۔
انہوں نے تو اسے اتنی وقعت بھی نہ دی کہ ڈھونڈ کر مار ہی ڈالیں۔ انہوں نے شاید زمین تھوکا ہوگا۔
”اخ تھو… اماں سمجھ لے وہ کبھی اس گھر میں رہی ہی نہیں،پیدا ہی نہیں ہوئی… بھاگ گئی ہے نا… اولاد والی ہو گی تو اولاد اس سے بھاگے گی… بار بار بھاگے گی… ایک بار کی بھاگی بار بار بھاگتی ہے۔
ٹھکانے بدلتی ہے… بدلتی ہی رہے گی۔“
بھائیوں نے ٹرنک میں سے کپڑے نکال کر آگ لگا دی ہوگی ہر نشان مٹا دیا ہوگا اس کا۔ اگر جو کوئی اس کا پوچھ ہی لیتا ہوگا تو صاف کہتے ہونگے۔
”کون نوری؟ ہم تو نہیں جانتے… ہم سے نہ پوچھو…“
اماں نے جہیز کا سامان نکال نکال نائین یا چمارن کو اٹھوا دیا ہوگا اور ابا اس نے زمین پر دو تین بار چپل ماری ہوگی۔
”میرے لئے تو یہ گو موت ہوئی۔“
ابا کی جب کسی سے لڑائی ہوتی وہ زمین پر تھوک کر دو تین بار چپل مار کر دو چار گالیاں دے کر کہتا۔ ”لو یہ پڑا ہے یہ… کر لو جو کرنا… پھر کبھی ابا اس کی طرف پرت کر نہ دیکھتا۔ تو اب وہ بھی ان سب کیلئے گو موت ہوئی… گند… اس کا ابا کتنی جلدی اس کی اصلیت جان گیا خود نوری کے جاننے سے بھی پہلے وہ جان گیا کہ وہ غلاظت کا ڈھیر ہے… ایسی غلاظت جسے ڈھیر پانی سے بہا دیا جاتا ہے ورنہ بدبو آتی ہے۔
###
نوری ایک بیٹی کی ماں بن گئی اس میں رچ بس گئی،بیٹے کیلئے آہیں ضروری بھرتی،مانو کی جگہ اس کے بیٹا ہوتا تو اس کا دل خوش ہو جاتا،گڑیا سکول جانے لگی،مہینے میں ایک بار نوری پارلر چلی جاتی،بال بھی رنگوا لئے تھے۔
کئی بار جاوید نے بتایا کہ بیگمات کیسے چلتی ہیں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ایسے جیسے ہوا میں ہلکورے لے رہی ہوں،تو بھی ایسے چلا کر،وہ ویسے تو خاک چلتی ہاں کچھ قریب قریب ضرور ہو گئی تھی باہر نکلتی تو چال کو قابو میں رکھتی اور گھر آتے ہی گم کئے سانس کی طرح چال کو ایک دم سے کھلا چھوڑ دیتی۔
بہت سی چیزوں کا ملغوبہ بن گئی تھی۔ بال رنگوانے میں کٹوانے میں،برقع پہننا ہے نقاب نہیں کرنا،جھینگا چٹخارے کے لیے کھانا ہے پیٹ بھرنے کیلئے نان کباب کھانے ہیں، جھینگنے سے زبان بھرتی ہے پیٹ نہیں… بے شک زبان بھرنے والے کھانوں سے پیٹ بھر کر حلق تک آ جاتا۔
کام والی کام کر جاتی تو اس کی چندی آنکھوں کو گند نظر آنے لگتا،پانی کا پائپ لگا کر فرش دھونے بیٹھ جاتی۔
دل کرتا تو کھانا پکا لیتی پھر چکھتی تو بدمزہ لگتا اور وہ بدمزہ کھانا کام والی مزے سے کھا جاتی۔ نوری جاوید کو فون کرکے بازار سے ہی منگواتی،پیزا کا آڈر دینا بھی آ گیا تھا نوری کو پانچ سو کا پیزا لانے والے کو تین سو روپیہ ٹپ پکڑا دیتی… اگلے دن پیٹ بھر کر پیزا کام والی ہی کھاتی باجی نوری نے ذرا سا چکھا ہی ہوتا تھا۔
جاوید سیدھا سادا ہی رہا،گھر آتا،نان کباب،مچھلی،گوشت،سلاد،کھیر،گاجر کا حلوہ،دس بندوں جتنا لے آتا خوب ٹھس ٹھسا کر کھاتا اوپر سے دو گلاس پانی پیتا پیٹ پر ہاتھ پھیرتا ڈکار لیتا پیسوں کا حساب کتاب کرتا اور سو جاتا۔
وہ روز کا روز ایک ہی رہا۔
صبح کام والی آتی تو میز پر رات کا بچا کھانا اٹھا کر شاپر میں ڈال کر جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتی، روز اُسے اتنا کھانا مل جاتا تھا کہ اسے روز ہی پکانا نہیں پڑتا تھا ایک ذرا سی خواہش تھی اس کی کہ رات کو اگر یہ کھانا ڈھانپ دیا جائے تو ذرا سا کھٹکا بھی جاتا رہے… لیکن وہ اس ذرا سے کھٹکے کے ساتھ ہی کھا لیتی تھی۔
اکثر رات کو نوری اُٹھ بیٹھتی… نہ جاننے کے احساس کو لئے رونے لگتی،کبھی ایک بار بھی نہیں ہوا تھا کہ جاوید نے آنکھ کھول کر اسے دیکھا ہو اسے پچکار کر سو جانے کیلئے کہا ہو۔ وہ گڑیا کے بستر پر آ جاتی اسی کے ساتھ سو جاتی ورنہ جاگتی رہتی۔ مانو سادھو سی بچی تھی بمشکل ہی روتی،بھوکی ہو کر بھی نہ مچلتی … پڑے خود ہی سو جاتی،گڑیا الگ ہی تھی عجیب ہی باتیں کرتی۔
”اماں بدبو… نہاتی نہیں ہو کیا؟ نئی نئی سکول جا رہی تھی تو نئی نئی باتیں کرنے لگی تھی۔ نوری خود کو تسلی دیتی دوبارہ پھر سے نہا لیتی صاف کپڑے پہنتی کہاں کی بو پھر… پر گڑیا پھر بھی باز نہ آتی۔
”اماں تمہارے دانت میں خون لگا ہے” ایک آدھ میں کیڑا لگا تھا گڑیا کو خون نظر آ رہا تھا۔ جاوید گدھے کی طرح ہچکوں ہچکوں کرنے لگا۔
”ہاں خون ہی ہے گڑیا… تیری ماں خون پیتی ہے… چڑیل ہے یہ بڑے لوگوں کو مر کھاتی ہے“ ہچکوں ہچکوں میں اکیلی تو نہیں مار کھاتی… نوری پھنکاری۔
جاوید نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے گھورا۔
”اب بول نا… کہہ کہ ہم سب اورھ بلائیں ہیں مل کر کھا رہے ہیں“جاوید غصے سے اٹھ کر چلا گیا لیکن نوری کو منا منی یاد آ گئے۔ ایسے وقت وہ ٹی وی کی آواز اونچی کر دیتی تھی یا پرس اٹھا کر بازار چلی جاتی،کپڑے جوتے خریدتی دکان داروں سے بلاوجہ بحث کرتی اٹھ کر چلی جاتی پھر واپس آکر وہی چیز خرید کر گھر لے آتی۔
گھر آنے تک منا منی بھول چکی ہوتی۔ کپڑے ساتھ لگا لگا کر دیکھتی جوتے جیولری پہن پہن کر شیشے کے آگے کھڑی رہتی۔
نوری عورت ہی بنی رہتی… کھانے پینے والی گڑیا… بیاہ بیاہ رچانے والی گڑیا… سبھی کھیل کھیلنے والی گڑیا۔
اس گڑیا کو اب صرف ایک بیٹا چاہیے تھا جلد سے جلد… سبھی کچھ تھا صرف ایک بیٹا ہی نہیں تھا۔ بیٹے کی پیاس لگ گئی تھی اسے بیٹا بیٹا کرتی رہتی ہر وقت… امید سے تھی بہت خوش رہتی تھی ہزار طرح کی چیزیں منگوا کر بچوں میں بانٹتی،منت کا پیالہ اٹھایا… چادر مان لی دیگیں مان لی…
جاوید بہت چپ چپ رہتا اسے گنگناتے دیکھ لیتا تو چڑ جاتا۔
”بند کر اپنے یہ سُسر“ وہ ڈر کر اپنے سُسر بند کر لیتی پھر بھی خوش ہی رہتی جی بھر کر خریداری کر رہی تھی۔ جاوید کو ایک دن دکھانے بیٹھ گئی سب،جاوید نے سارے شاپر اٹھا کر الماری میں رکھ کر تالا لگا دیا،وہ منہ کھول کر اسے دیکھنے لگی۔
”تالا کیوں لگایا“ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
”ابھی انہیں تالے میں ہی رہنے دے… دیکھیں گے کب باہر نکالنا ہے“جاوید سگریٹ سلگا کر سوٹے لگانے لگا۔

”ایک اور گاہک… ایک اور سودا۔“ نوری بت بن گئی۔
کیسے دل لگا کر کام کرتا تھا جاوید… فارغ رہتا ہی نہیں تھا… اس کا باپ اسے ایک ہی گالی دیا کرتا تھا ”کم ذات“ گالی چھوٹی تھی بہت گہری تھی۔
”وہ ذات کا کمینہ اور خواص کا شیطان تھا۔“
باہر ہی باہر گندم کی کئی بوریاں بیچ کر کھا گیا تھا۔ ابا کو پتا چل ہی گیا کہ گودام میں سے گندم جا کہاں رہی ہے۔
وہ گھر کو ہی بیچ کھانے والوں میں سے تھا۔ اماں کی سونے کی بالیاں،بڑی چھوٹی پیٹی میں رکھے پتل تابنے کے بڑے بڑے پتیلے… لوہے کی بالٹیاں،چمٹے،گلاس،جگ،گھر والے کسی شادی،مرگ میں جاتے اور وہ پیچھے کچھ نہ کچھ بیچ کر کھا جاتا۔ گھر کا کاٹھ کباڑھ تو وہ سامنے ہی سائیکل پر لاد لاد کر کباڑیے کے پاس لے جاتا… باقی کا سب ادھر ادھر ہو جاتے تو نکال کر لے جاتا۔
اماں کا چاندی کا لوٹا تھا کبھی کبھار وضو کیلئے استعمال کر لیتی تھیں ایک دن وہ لے اڑا اماں نے دو تھپڑ لگائے۔
”وضو کی چیز بھی نہ چھوڑی بدذات تو نے۔“
وہ ہر چیز پر نظر رکھتا کہ کیا کیا بک سکتا ہے اٹھا اٹھا کر چیزیں دیکھتا یہ اتنے کی نکل جائے گی وہ اتنے کی نکلے گی… موقعے کی تاک میں رہتا گھر والوں کی لعن طعن سے ذرا نہ گھبراتا۔
اگر کوئی بیوپاری بن جائے تو وہ اپنے سونے کا بستر اور پہنے کپڑے بھی بیچ ڈالتا ہے۔ مول کھرے کرنا ایسا نشہ ہے کہ پیسہ بے شک زمین میں دبا دے یا دریا میں بہا دے مول کھرے کرنے سے باز نہ آئے۔ اپنے گاؤں کے گھر میں لوٹے گلاس پر نظر رکھ کر دل ہی دل میں اس کا بھاؤ لگانے والے جاوید نے اب ایک ہی زمین پر نظر رکھ چھوڑی تھی مول بھی اسے معلوم تھا اور تول بھی۔
”ذات کا کمینہ خواص کا شیطان۔“
کوئی بیگم تھیں جن کے بنگلے پر جاوید انڈے ڈبل روٹی کی ترسیل کیلئے جاتا تھا۔ جانتا تو وہ ہر بنگلے کی ہر بیگم کو تھا۔ آنکھیں جو تراش لی تھیں اپنی اب سب پر نظر رکھتا تھا۔
بیگم کی سہیلی تھی امریکہ میں… چند سال ہوئے تھے شادی کو،لڑکی بانجھ تھی معجزے سے ہی ماں بن سکتی تھی۔ خاندان سے چھپا کر بیٹھے تھے دونوں میاں بیوی۔
جاوید نے بیگم سے بات طے کر لی۔ بیگم اور سہیلی مریم رابطے میں تھے۔ میڈیکل چیک اپ کی رپورٹس امریکہ فیکس ہونے لگیں،نوری ذرا مہنگے کلینک لے جائی جانے لگی۔ مریم اور اس کا شوہر سیاحت کا کہہ کر امریکہ سے نکلے پیرس گھومنے وہاں سے جرمنی ترکی کو پار کرتے پاکستان آ گئے… مریم نے امریکہ فون کرکے اپنے امید سے ہونے کا بتا دیا… مزید یہ کہ سفر منع ہے بے بی لے کر ہی امریکہ آئیں گے۔
یہ تو اتنی بڑی آسامی تھی کہ جاوید کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ کیا مانگے؟ کتنا مانگے؟ کیا چھوڑے کیا لے…
جاوید مریم اور اسفند سے ملا بے حد خوبصورت تھے دونوں،اپنا کہہ کر بچہ گود لے جا کر خاندان والوں کی گود میں ڈالنے والے تھے۔ پہلے انہوں نے کاغذات بنوائے بچے کی سپردگی کے۔
اب اتنے بھی الو کے پٹھے نہیں تھے امریکہ سے آئے،دنیا گھومے تھے،جانتے تھے کوڑیوں کے بھاؤ رلتے ہیں بچے تیری دنیا میں جتنے چاہے اٹھا لو۔
وہ تو انہیں عین وقت پر ان کی منصوبہ بندی کے مطابق چل رہا تھا تو دو پیسے دے بھی رہے تھے۔
چند لاکھ پاکستانی روپے ہاتھ میں تھمائے،دستخط کروائے اور یہ وہ جا۔ جاوید تو دیکھتا ہی رہ گیا اس کی تو ایک نہ چلی،ان کی انگریزی گٹ پٹ اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ بیگم ہی درمیان میں رہی۔
جاوید کا منہ کڑوا ہو گیا،چند لاکھ امریکن ڈالرز کی جگہ وہ اسے پاکستانی پیسے دے گئے تھے۔
جاوید بچھتایا مول ٹھیک سے نہیں کمایا۔
رہا نہ وہ سیدھا سادا گاؤں کا دیہاتی جسے سب شہری الو بنا جاتے ہیں سو سو گالیاں دی انہیں نوری سے بھی منہ ماری ہوئی،بیگم کا بھی سر کھایا اس نے سولہ آنے کی بات منہ پر ماری۔
”دو پیسے کی چیز تھی وہ تو لاکھوں میں لے گئے۔“
”میرا بچہ دو پیسے کا تھا“ جاوید برا مان گیاچلانے لگا۔
”دو پیسے کا نہ ہوتا تو قارون کے خزانے پر بھی کسی کو نہ دیتے“ کمال کی بات کر دی تھی بیگم نے ایسے ہی بنگلے میں نہیں رہ رہی تھی۔
”بدشکلوں والے یہ امیر لوگ مر کیوں نہیں جاتے۔“
اس بار نوری مہینوں روتی رہی اس بار بیٹا تھا پر جاوید نے اس کی سنی نہ کچھ سوچا،کلینک سے بیٹا لے کر نکل گیا کار میں تھے وہ تینوں،لڑکا لیا،چیک دیا… دستخط وہ پہلے ہی لے چکے تھے اور سودا ختم۔
جاوید کا اندر ٹھنڈا تھا چنگاری نوری کے اندر بھڑکی۔ جاوید سے بہت مار کھائی پیار سے سمجھایا… منایا… نہیں مانی تو خوب مارا۔

کون کسے الزام دیتا کسے گناہ گار کہتا خود کو بری کیسے کرتا،نوری کیسے جاوید کی طرف انگلی کرتی باقی کی چار خود اس کی طرف اٹھتیں۔ نوری کس کو جا کر کہتی کہ جاوید کو روکو،اپنے باپ کو یا جاوید کے باپ کو؟ دونوں کے باپ دونوں کو دھتکار چکے تھے وہ کس کے پاس جاتی اور جاتی بھی کیوں؟
وہ تو نوری بنی رہی جاوید کی محبوبہ،اب جاوید کو کون روکتا مل کر کھیل شروع کیا تھا اب ایک بھلے سے پیچھے ہٹ جائے،دوسرا تو کھیلے گا اپنی مرض اپنی چاہ سے۔
اس ایک منے پر ہی بس نہیں ہوتی ڈھلتی عمر کی ایک وکیل بیوہ فاخرہ نے ایک لڑکی لے لی۔ جاوید نے دی تو اس نے لے لی۔
پشتوں سے خاندانی دشمنی چلی آ رہی تھی دو بہن بھائی ہی بچے تھے بھائی بیرون ملک جا کر لاپتہ ہو گیا تھا سالوں بعد بڑی بہن سے رابطہ کر لیتا ڈر ہی رہتا کہ کوئی رابطہ اسے لے ہی نہ ڈوبے ساری جائیداد پر قبضہ ہو چکا تھا سب کی جانیں جا چکی تھیں۔

فاخرہ کا شوہر بھی اسی دشمنی کے ہاتھوں قتل ہوا بس اسی قتل کیلئے آواز اٹھا رہی تھی انصاف چاہتی تھی سالوں سے جی جان لگا کر مقدمہ لڑ رہی تھی شوہر کے قاتلوں کو سزا دلوا کر ہی چھوڑنا چاہتی تھی… اپنی پریکٹس بھی تھوڑی بہت چل رہی تھی ایک بار خود کشی کی کوشش بھی کر چکی تھی۔ جاوید کا آنا جانا تھا اس کی اجاڑ کوٹھی میں۔ جاوید نے ہی سمجھایا کہ اپنی اجاڑ زندگی کو آباد کر لے کوئی بچہ لے کر پال لے۔
”ایک بار گئی تھی ایک ادارے سے بچہ لینے خاندانی دشمنی کی تاریخ کا سن کر انکار کر دیا ایک نے ضمانت مانگی کہ میں بچے کی سکیورٹی کی ضمانت دے دوں میری اپنی جان کی ضمانت نہیں ہے چوکیدار آئے دن بھاگ جاتے ہیں،بھائی ملکوں ملک بھاگ رہا ہے،میرا تو ایسے منہ چھپا کر بھاگے پھرنے کو جی نہیں چاہتا،شوہر کے گھر کو چھوڑ کر کیسے چلی جاؤں… موت تو جب آئے گی کسی بھی جگہ آ جائے گی۔
اس اکیلی،دکھیاری بیوہ عورت کو جاوید نے اپنی بیٹی دے دی تاکہ اس کی زندگی میں بہار آ جائے۔ امیر دیوالیہ بھی ہو جائے تو فقیر نہیں بنتا… جاوید نے ایسے ہی بچی نہیں دی تھی۔ میڈم فاخرہ کو۔ وہ بھی فقیر نہیں ہوئی تھی اپنی طرف سے کچھ نہیں دیا تھا لیکن گھر کی ہر چھوٹی بڑی چیز بیچ آنے والے کیلئے وہ بہت تھا… بہت تھا۔
پلاسٹک کے برتن بنانے والی فیکٹری تھی فی الحال بند تھی۔
جاوید نے چپکے سے جا کر جائزہ لیا جاوید کا حلقہ احباب کم نہیں تھا وہ تو عورت تھی کیا قبضہ چھڑواتی یہ تو مردوں کے کام ہوتے ہیں جاوید ہٹا کٹا گھاگ،عیار… اور پھر دلال… اس کے تو بائیں ہاتھ کا کام تھا قبضہ چھڑوانا۔
اصل کاغذات لے کر جاوید لاہور کے بڑے اور مانے ہوئے بدمعاش گڈو کے پاس گیا،گڈو نے کاغذات دیکھے،فیکٹری دیکھی اور فیکٹری کے آدھے مالکانہ حقوق پر راضی ہو گیا… سودا یہ بھی گھاٹے کا نہیں تھا بے کار سے مفت بھلا اور مفت سے آدھا… چھ مہینے کے اندر اندر گڈو نے فیکٹری کا قبضہ لے لیا بدمعاش ہی وہاں قبضہ کئے بیٹھے تھے بدمعاشوں نے ہی قبضہ چھڑوا لیا۔
اس ساری رات جاوید سو نہیں سکا اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ کبھی وہ ایک سائیکل کا ہی مالک بن جائے گا آج وہ ایک فیکٹری کا مالک بن چکا تھا۔ برتن بنانے کا پلانٹ لگا ہوا تھا فیکٹری چالو کرنے پر جو لاگت آئی وہ گڈو نے اٹھائی اور وہ تین چوتھائی کا مالک بن گیا۔ یہ تو ہونا ہی تھا بدمعاشوں کی بدمعاشی سے کوئی نہیں بچتا۔ جاوید اندر ہی اندر کھولتا رہا لیکن کیا کرتا چوں چاں کرتا تو قتل ہو جاتا اب جو تھا بہت تھا۔
نوری نے جو وائی تباہی مچائی تھی اسی کا انجام تھا یہ،گھر آ کر جاوید نے نوری کی خوب دل لگا کر دھلائی کی۔
”تیرے رونے کی نحوست پڑی ہے سب پر… سب کچھ ہاتھ سے گیا۔“
پوری فیکٹری کا مالک اب ایک چوتھائی کا حق دار رہ گیا تھا سب نوری کی نحوست کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔
”تیرا باپ بہت بیمار ہے نوری“ شام کو جاوید کو ایک دم سے یاد آیا اسے بتاتا اس کا رابطہ تھا گاؤں کے یار دوستوں کے ساتھ۔
”زیادہ بیمار ہے ابا۔“
”دیکھ آ جا کر…“ جاوید نے بروقت طنز کیا۔ آدھی رات کو فون سنا اسے اٹھایا… وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
”جلدی کر بی بی تیرا پیو مر گیا“ اس نے سوچا کہ ذرا طریقے سے اسے بتائے گا لیکن وہ اٹھ ہی نہیں رہی تھی وہ سوتی پڑی کہ کان میں ہی چلایا۔
”اسے جھنجھوڑا… نوری بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔“
”اٹھے گی یا مرے کا منہ بھی نہیں دیکھے گی۔

مرے کا منہ دیکھنے کیلئے وہ اٹھ بیٹھی۔
###
وہ پھوڑی میں ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی کسی ایک نے بھی پلٹ کر دیکھا نہ منہ لگایا بڑی چیز تھے وہ سب ایسے ظاہر کر رہے تھے جیسے نوری وہاں بیٹھی ہی نہیں اس کی خالہ اس کی پھوپی اس سے الجھی کر گرنے لگیں جیسے اس سے نہیں کسی اینٹ پتھر سے الجھی ہوں۔ ہونہہ… نہیں تو نہ سہی… نوری جم کر پرے بیٹھی رہی۔
جاوید مردانے میں تھا۔ اس کی بہنوں بھابھیوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا… کیسے نہ اٹھاتیں یہ وہی باپ تھا جس نے بہوؤں کا غصہ بیٹیوں پر اتار لیا اور بیٹیوں کا غصہ بیوی پر لیکن انہیں کچھ نہ کہا کبھی۔
نوری نے لعنت بھیجی جاوید پر کس کی محبت میں اندھی ہو کر وہ گھر سے نکل گئی۔ ورنہ آج وہ بھی دل کھول کر بین ڈالتی،بال کھول مٹی سواہ ڈالتی،بڑی بوڑھیوں کے گلے لگتی،ماں بہن کے گلے سے جھولتی،کوئی اسے بھی تسلی دیتا،صبر کا کہتا اس کے آنسو پونچھتا۔
اس کا دل جلتے تیل کی کڑاہی میں جیسے ابلنے لگا خون دماغ کو چڑھنے لگا۔ چپکے چپکے آنسو بہا رہی تھی اماں نے ایک بار بھی پلٹ کر اسے نہ دیکھا آپا کی طرح اس کا بھی جی چاہا کہ بار بار لپک کر ابا کی پیشانی چومے،ہاتھوں کو گالوں سے لگائے اور نہیں تو قریب بیٹھ کر چپکے سے معافی ہی مانگ لے اب ابا تو چپل مارنے سے رہا لیکن وہ جانتی تھی اب سب سے ہاتھوں میں چپل ہو گی وہ قریب ہوئی نہیں کہ سب اس پر بل پڑیں گے۔
”آگئی باپ کو پلید کرنے“
”چل پرے ہٹ“
وہ پرے ہی ہٹی رہی بہانے سے گڑیا کو آگے کیا کہ نانا کو پہلی اور آخری بار دیکھ لے کہ آپا نے ہاتھ بڑھا کر گڑیا کو پرے دھکا دیا نوری بل کھا کر رہ گئی۔
جنازہ اٹھا تو کہرام مچا اس کی بہنیں غش کھا کر گریں… غش اسے بھی پڑ رے تھے مگر اس کے منہ میں کوئی پانی ڈالنے والا نہیں تھا تو گری نہیں کھڑی رہی۔
حاجن جی آئیں اس کے پاس صبر کرنے کا کہا اور یہ بھی کہ اب بس جاؤ… وہ ڈھیٹ بن کر بیٹھی رہی چلی جائے گی اتنی جلدی بھی کیا ہے۔ اس نے سوچا ذرا نظر بچا کر ابا کے ٹرنک میں سے اس کا ایک آدھ کپڑا ساتھ لے جائے جب وہ بھاگ رہی تھی تو اپنے کپڑے ساتھ لے جا رہی تھی اور ساتھ باپ کی عزت اب اسے مرے ہوئے کا ایک کپڑا چاہیے تھا جسے سینے سے لگا کر وہ ابا کی خوشبو سونگھ سکے اور اسے یاد رہے کہ اس کا کوئی باپ تھا۔
ایسا باپ جس پر بھاگتے ہوئے نظر نہ ڈالی تھی اور مرے ہوئے کو مسلسل دیکھ رہی تھی جس کی کھلی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی اور اب بند آنکھوں کو چومنا چاہتی تھی۔
ابا کے کمرے کی طرف نظر رکھے وہ موقع کی تاک میں تھی لیکن اندر باہر سوگوار جمع تھے ساری برادری آئی تھی وہ کیسے ابا والے کمرے میں چلی جاتی رات کے آثار نمایاں ہونے لگے،رشتے داروں کا رش ذرا چھٹا تو اماں اس کے قریب بیٹھی۔
”کس دھندے سے لگی ہے تو نوری وہاں“ نوری ہکا بکا رہ گئی مرگ والے گھر میں اماں کیا لے کر بیٹھ گئی تھی اسے گلے سے نہ لگاتی تسلی نہ دیتی اتنی بڑی گالی تو نہ دیتی بیوہ نہ ہوئی ہوتی اماں تو ضرور نوری پلٹ کر کھری کھری سناتی۔
”تہجد پڑھ کر سوتی ہوں تو تیرے ہاتھ پاؤں،ناک منہ کان سے پھنسی پھوڑوں سا خون نکلتا دکھائی دیتا ہے… کس گند سے لگی ہے نوری غڑغڑ کس کا خون پیتی ہے؟“
نوری کو لگا ابھی ابھی اسی کا جنازہ اٹھا وہی مر گئی قبر میں بھی وہی پڑی… منکر نکیر آئے کھڑے ہیں… پوچھتے ہیں ”بول نوری… بتا نوری…“
”تیرا باپ قبر میں پڑا ہے نا مجھے بھی جانا ہے اولاد کیلئے بھی جواب دینا ہوگا ہمیں… کچھ رحم کر اپنے مرے باپ پر اپنی پوچھ پڑتال کا بوجھ اس پر نہ ڈال۔
نماز روزہ کیا کر… باقی ہم نے تجھے معاف کیا اپنی دنیا میں بس یہاں نہ آیا کر۔“
نوری نے چار بندوں کا انتظار کیا کہ آئیں اور اس کا لاشا اٹھا کر لے جائیں اس سے اپنی لاش کا بوجھ اب کہاں اٹھایا جائے گا۔
گاؤں میں رہنے والی اس کی اماں نے کتنی باتیں جان لی تھیں کیا یہ مائیں ولی ہوتی ہیں؟
اماں نے زندگی بھر ایک تہجد نہ چھوڑی اور نوری نے ایک بھی فرض نہ پکڑا۔ دیواریں تھام کر نوری اٹھی باہر نکلی۔
اس کے اتنے بڑے خاندان میں صرف جاوید ہی سیٹھ لگ رہا تھا اور وہ اکیلی سیٹھانی آپا بھابھیاں خاندان کی دوسری سب اس کے سامنے چوڑی چمارن لگ رہی تھیں۔ ایک وہی مہارانی تھی ان میں مہارانی چپکے سے اپنے محل میں واپس آ گئی۔

چاند نے شاہی محلے میں ہی آنکھ کھولی تھی چلنے پھرنے لگا تو اندر کے کام کرنے لگا خدمت گزار بن گیا دو اور اس جیسے لڑکے تھے وہاں لڑکیاں بھی تھیں اسی کی عمر کی لیکن انہیں سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا سبھاؤ سے چاؤ سے،باقیوں میں سے کوئی ایک اس کی ماں تھی کون تھی وہ نہیں جانتا تھا۔
کوئی بھٹک کر بھی بچی بچے کو سینے پر لگا کر نہ کہتی کہ میں ہوں تیری ماں لیکن دنیا میں لے آنے سے ہی تو کوئی ماں باپ نہیں بن جاتا نا…
آہستہ آہستہ اس نے شعور کی طرف قدم بڑھائے،وہ بازار میں گاہک گھیرنے لگا انداز زنانہ سا تھا لیکن کسی کی مجال نہیں تھی کہ اسے نیچا دکھا جائے نیم زنانہ انداز میں بات گونج دار کرتا۔
جب وہ دلال بن گیا تو اسے پتہ چلا کہ کون اس کی ماں ہے… وہی جس کیلئے بازار میں کھڑے ہو کر نو عمری سے ہی اس نے بہت سے گاہک گھیرے تھے۔

ساری نیلی چاندی رسیلی،امیر جان… نورتن… گلابی یہ بات جانتی تھیں کہ یہاں رشتے نہیں چلیں گے… ہزار کوٹھے… ہزار اصول…

اس سارے دھندے میں اس کی ماں پہلے پھسلی… عمر ڈھل گئی اس کی تو کہیں کی نہ رہی… سیٹھا گئی… بار بار اسے کسی کونے میں چھپا کر کہتی ”بھاگ جا“ وہ کیوں بھاگے،ڈھلتی عمر کی اُوں کو اس نے سیٹھاتے ہی دیکھا تھا باؤلی ہو جاتی تھیں کہ اب کیا ہوگا،جو ہونا ہوتا تھا وہی ہوتا تھا،کوڈی لے کر بھی کوئی انہیں منہ نہیں لگاتا تھا پھر ہزار ہا بیماریوں کی پیداوار شروع ہو جاتی… چند سالوں بعد اس کی ماں سرکاری ہسپتال میں مر گئی۔
اس وقت تک وہ دلالوں کا دلال بن چکا تھا۔ ”رشید چاند“ کچھ عرصے سے ایک بوڑھا وقفے وقفے سے کوٹھے پر آ رہا تھا وہاں اس جیسے آدمی کا آنا بنتا تو نہیں تھا لیکن وہ ایسی جگہ تھی کہ وہاں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ نورتن بائی سے آکر ملتا اس سے گالیاں سنتا اور چلا جاتا،چاند نے نورتن سے پوچھ ہی لیا۔
”یہ بار بار یہاں گالی کھانے کیوں آتا ہے؟“
بچہ ڈھونڈتا پھرتا ہے اپنا“
کون سا بچہ یہاں تو اب کوئی بچہ نہیں۔
پہلے کبھی تھا یہاں… یہاں والیاں نا سیدھی سیدھی انسان دکھتی ہیں اور کھوپڑی الٹی رکھتی ہیں،ایک کی کھوپڑی الٹ گئی تھی بچہ لے کر بھاگ گئی جس کا تھا اسی کے پاس… دو دن بعد ہی ہڈیاں تڑوا کر بچہ لے کر واپس آ گئی… پھر نہیں بھاگی،چاند کو ہنسی آئی ”گئی کیوں تھی۔“
پھٹکار پڑی تھی دل پر… روڑی پر گند پھینکنے سب ہی جاتے ہیں کسی کو لاتے دیکھا ہے… اب آیا ہے وہی گند سمیٹنے… میں نے کہا پیسہ دو لے جاؤ۔
کیا کہتا ہے؟
کنگال ہے موا… دیں گا کیا۔
ہے کون کس بچے کا باپ ہے؟
نورتن نے بھنویں اُچکائیں ”تجھے کیا تو اپنے کام سے لگ میرے کام میں مت پڑ۔“
چاند نے دوبارہ نہ پوچھا،نئی باتیں نہیں تھیں یہ سب… آئے دن کے قصے تھے۔ ایک دن پھر آیا ساٹھ ہزار لایا اور نورتن کے پیروں پر گر گیا اپنی لمبی داڑھی کے واسطے دیئے، نجانے کیا کیا کہتا رہا،نورتن نے چاند کو بلوا لیا۔
”صفایا کر اس کا“
چاند اور چار اس جیسے اور بازار سے ذرا دور اندر چند گلی سڑی گلیاں پار کرکے اسے ایک اندھیرے سرنگے نما کمرے میں گھسیٹ لائے… چاند نے اسے گردن سے دبوچ رکھا تھا دوسرے ہاتھ سے اس کے منہ پر مکے جڑ رہا تھا۔ اسے پٹخ کر لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کیا… بے چارا بڈھا آدمی مار کھاتا جا رہا تھا ساتھ چلا رہا تھا۔
مار ڈالو مجھے… بھلے سے مار ڈالو… تم میں سے کوئی تو جانتا ہی ہوگا… یہ ساٹھ ہزار رکھ لو… صرف اتنا بتا دو گلابی مر گئی کہ کہیں چلی گئی…؟؟
اس کی پھٹی قمیض سے جھانکتے سینے پر چاند کی ایک زور دار لات پڑ چکی تھی دوسری سینے تک پہنچ کر جم گئی تھی۔ ”رشید عرف چاند زندگی میں پہلی بار اندر کہیں سے اٹھنے والی ایک ٹیس سے آشنا ہوا،گلابی تو اس کی ماں تھی اور اس ماں کا ایک بچہ تھا… تو پھر یہ… داڑھی رکھے،مسجدی ٹوپی پہنے کندھے پر صافہ دھرے ضعیف کمزور لاغر دھنی آنکھوں والا کون تھا… یہ جس کے گال بھیگ چکے تھے… وجود کپکپا رہا تھا… کون تھا اس کا بچہ؟
گلابی کا ایک ہی بچہ تھا ”چاند“
چاند کے اندر جو ٹیس اٹھی وہ ذرا اور بڑھی وہ وہاں سے بھاگا،چھوٹی چھوٹی گندی گلیوں کو پار کرتے… چوباروں کے نیچے سے… اندھیروں کے اوپر سے… وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا دور نکل گیا۔
بہت دیر بھاگتے رہنے کے بعد ایک جگہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ بھنگی کالیا اسے ڈھونڈتے آئے اٹھا کر ساتھ لے گئے،رات گئے اسے ہوش آیا اس سرنگ نما کمرے کی طرف بھاگا وہ تو جا چکا تھا جانا ہی تھا۔
ایک دن پھر آ گیا چمڑے کا چھوٹا بیگ بغل میں دبائے شاید زیادہ رقم کا انتظام کر لیا تھا اس نے،چاند کو اپنی اصل قیمت کا ابھی ابھی اندازہ ہوا آج کوئی اس پر بھی لٹانے آیا تھا اس کیلئے دام لایا تھا۔
”کیا چاہئے؟“ بھنگی اور کالیا کو پرے کر کے چاند آگے ہوا کالیا تو پھر سے لاتیں گھونسے مارنے کیلئے پرتول رہا تھا۔
”بچے ایک آخری بار نورتن سے ملنے دو اسے کہو چھ لاکھ بیس ہزار لایا ہوں۔“
چاند کا سر گھوم گیا… سر خوشی سے وہ گھنگھرو باندھ ناچ جیسا ہو گیا پہلی بار ایک دلال کی قیمت لگ رہی تھی گناہ کیلئے نہیں لگ رہی تھی کیا خوب لگ رہی تھی۔
”کسے بیچ کر لائے ہو؟ چاند کی آواز سپاٹ ہی رہی۔
”بچا ہی کچھ نہیں تو بیچنا کیسا،اچھے وقتوں کا ایک دوست تھا اس نے بہت مدد کی ہے“ وہ بہت خوش تھا جیسے جنت کی بشارت پالی ہو۔
”تو بھی تو یہاں ہے تجھے پتا ہوگا گلابی کا… یہ سارے پیسے تو رکھ لے… اس نے چمڑے کا بیگ نکال کر ہاتھ میں پکڑا۔
”مر گئی ہے وہ میاں“ چاند نے اسے گھور تو لیا پھر نظریں ڈگمگا گئیں۔
یہ تو نورتن بھی کئی بار کہہ چکی ہے… کہیں اور ہوگی گلابی جانتا ہوں میں یہاں رہنے والوں سی نہیں تھی۔“
”جہاں رہنے والوں سی تھی وہاں کہاں قبولتے تھے؟“
ہاں! ٹھیک کہا… بھلی کہی بچے…
”پھر رکھا کیوں نہیں اسے اپنے پاس؟“
کیسے رکھ لیتا… رکھ لیتا تو اب یہ دھکے جوتے کیسے کھاتا… بچے تو نہیں سمجھے گا تب میں کیا تھا… میں تب شیطان تھا… یہ داڑھی تو اب رکھ لی ہے کئی داڑھی والے شرمندہ تھے مجھ پر۔

”میاں تو جانتا ہی نہیں کہ یہاں والے کیا کچھ سمجھاتے ہیں گود کے بچے بھی…“
میاں نے چونک کر چاند کو دیکھا اور پھر آنکھیں ڈبڈیا گیں اور وہ سامنے سے آنکھیں پونچھنے لگا چاند نے مٹی بھنیچ کر دنوں ہاتھ اکڑا لئے ورنہ وہ اتنے ملائم ہو رہے تھے کہ بڑھ کر میاں کی آنکھوں تک جا پہنچنے والے تھے۔
”یہاں گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا میں… بہت پیسے والا تھا یہاں آتا جاتا رہتا تھا یاروں کے ساتھ… گلابی کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا اسے اپنی کار میں لئے لئے گھومتا بھی تھا کچھ دور کے یار دوست تو اسے میری بیوی سمجھتے تھے… وہ بھی خود کو میری بیوی ہی سمجھتی تھی اسی لئے میرے شادی سے مہینہ پہلے بچے کو گود میں لئے آ گئی میرے پیچھے میرے گھر… مجھے تو اس وقت پتہ چلا کہ میں کون ہوں ابا جی نے خوب پٹوایا اسے… میں برآمدے میں کھڑا رہا وہ احاطے میں ٹپتی رہی… دو دن ابا جی نے کمرے میں رکھا،”دو دن بچہ بھوک پیاس سے بلکتا رہا اب اس عمر میں اس کا بلک بلک کر رونا کان کے پردے پھاڑے ڈالتا ہے… کہاں جاؤں کیا کروں تو نہیں سمجھے گا اب کیا کیا گزرتی ہے مجھ پر… اوپر تلے کے تین جوان بیٹے جائیداد کی دشمنی میں قتل ہو گئے بیوی پاگل ہو کر چل بسی جوان بیٹی جل کر مر گئی… آل اولاد گئی مال اسباب گیا… تجھے نہیں پتا بچے یہ سب کیوں ہوا مجھے جب احساس ہوا تو ایک بندہ مومن پرہیزگار کے پیچھے بھاگا سب کہہ سنایا انہیں… اسی بندہ مومن نے مجھے یہاں کی راہ دکھائی کہتے ہیں جاؤ جا کر سمیٹ لو دونوں کو اپنے گناہ سمیٹنے پیروں پر سر رکھنے…
چاند بازار میں کھڑا بازاری نہ رہا… چلتے پھرتے لوگوں کے پیروں کی دھول ہوا۔
کہاں ہے میری گلابی… یہ سارے پیسے تو لے لے… بتا دے مجھے… تجھے سرکار دو عالمﷺ کا واسطہ ہے…“ میاں نے ہاں جوڑ دیئے آنکھوں سے سیلاب بہہ نکلا۔
چاند چاند نہ رہا… وہ میاں پر قربان ہو گیا۔
”گلابی مر گئی ہے میاں… سنا تھا اس کا ایک بچہ تھا۔ بیچارہ سال کا ہونے سے پہلے ہی مر گیا۔“
داڑھی والے کو ایک زور دار جھٹکا لگا کھڑے کھڑے ڈگمگا گیا گرنے کے قریب ہوا۔
مر گیا میرا بچہ؟؟

اس بات سے چاند کے اندر کا دلال مر گیا اس کا داڑھی والے سے لپٹ کر بھاگ جانے کو جی چاہا ”میرا بچہ… میرا بچہ…“ چاند اس نغمے پر جھوم کر مرنے کے قریب ہوا۔
گر پڑنے کے انداز کو لئے میاں بہت دیر تک کھڑا رہا۔
”قبروں کا ہی اتا پتا دے دو“ آواز بہت مشکل سے نکلی۔ قبریں ہم یاد نہیں رکھتے میاں… دفنا دیا تو دفنا دیا پھر پجاری نہیں بنتے ہم… کسی بھی قبر پر کھڑے ہو کر پڑھ لے فاتحہ۔

”فاتحہ کسے پڑھنی ہے… مغفرت تو انہیں میری کروانی ہے،معاف کریں گے تو ہی آگے کے راستے کھلیں گے نا میرے لئے… اب کیا کروں میں اپنا… کس آسرے پر موت سے نہ ڈروں… دم نکلا جاتا ہے یوم حساب کا سوچ کر… جو میرا گریبان پکڑا تو کس دلیل سے آزاد کرواؤں گا… کچھ بول بچے… کچھ کر میرا…“
”اس نے تجھے معاف کیا… تیرا گریبان وہ چاک نہیں کرے گا“ اگر میاں ابھی بھی نہ جاتا تو چاند بھرے بازار اپنا تماشا بنوا لیتا۔

”تجھے کیسے پتا؟… وہ مجھے کیوں کرے گا معاف۔“
”اپنے آخری وقت میں گلابی کہا کرتی تھی،محمد ذاکر میں نے تجھے خدا کیلئے معاف کیا… جس روز تو میرے سامنے لایا جائے گا اس روز سے پہلے ہی معاف کیا…“
”یہ کہا کرتی تھی گلابی؟ داڑھی والا سیاہ تر ہو گیا۔“
چاند نے بمشکل سر ہلایا۔
گلابی نے یہ کیا کہہ دیا… گلابی نے یہ کیوں کہا… بڑبڑاتا ہوا میاں چلا گیا۔
چاند کو اپنے ساتھ لے گیا۔ چاند چوبارے کی سڑھیاں چڑھنا بھول گیا نورتن نے سوچا بیمار ہے خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ کبھی کبھی آپ سے آپ جی خراب ہو ہی جاتا ہے وہ تو ہر طرف سے نورتن کے کام کا نہ رہا۔
چند دن گزرے میاں پھر آیا… سیدھا اسی کے پاس آیا۔
”میرا بچہ نہ سہی تو ہی سہی… سرکار کہتے ہیں جتنوں کو بھلی راہ دکھا سکوں اتنا ہی اچھا… بچے تو چل میرے ساتھ اللہ کی راہ بھلی سرکار کا نام بھلا… نکل چل یہاں سے… چھ لاکھ لے لے مجھ سے کاروبار کر… یہاں سے کسی ایک کو لے جا اپنے ساتھ،شادی کر باپ بن… چھوڑ دے اس بازار کو…“
چاند پھیکی ہنسی ہنس دیا۔
”ہر انسان اپنی مرضی والا،میں نے کر دیکھی اپنی مرضی،دیکھ میرا انجام یہ ہے میں میں کرنے کا نتیجہ… کہاں کی میں؟ میں ہی کیوں؟ جب راہ دکھا دی ہے سرکار دو عالمﷺ نے تو اسی ایک راہ پر کیوں نہیں چلتے ہم سب؟ اب سرکار کی مرضی ہی میری ہے میں نے بہت دیر کر دی پر تو دیر نہ کر،راستہ بدل لے،تو بھلا مانس لگتا ہے مجھے،ہم سب ہی بھلے مانس ہوتے ہیں بس یہ جو ادھر ادھر اپنی اپنی کرتے ہیں یہی ہماری جون بدل دیتی ہے۔
میرے ساتھ چل کر شادی کر،گھر بنا اپنا… خدا خوش ہو جائے گا باپ بنے گا تو قدر آ جائے گی خدائی کی،پتا لگنے لگے گا تجھے کہ خدا بندے سے کیا چاہتا ہے،باپ بن کے دیکھ بچے کو سرکار دو عالمﷺ کا نام سیکھا پڑھا،پھر اسے سینے سے لگا،سرور آ جائے تجھے… اس سرور کو چکھ سب مزے بھول جائے گا… میرے بچے تیری منت کرتا ہوں میرے ساتھ چل میں تجھے سرکار دو عالمﷺ کا نام سکھاتا ہوں،پڑھاتا ہوں بندہ مومن کہتے ہیں اطاعت میں کبھی دیری نہیں کرنی چاہئے،علم میں کوئی شرم نہیں… خدا کے بندوں میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں چل آ میرے ساتھ… چاند نے میاں کے ہاتھ کو اپنے بازو سے پرے کیا“ دیر نہیں بہت دیر ہو گئی میاں… تم جیسے بہت دیر کر دیتے ہو میری تو اپنی جوانی جا چکی اور کتنی دیر ہوگی… خدا کے یہاں دیر نہیں ہوتی اس معاشرے میں بہت دیر ہو گئی… جنم کا اگلا ہی پل بہت دیری کر دیتا ہے۔

میاں وہیں کھڑا رہا وہ اسے لے جا کر ہی ٹلنے والا تھا چاند وہاں سے بھاگ گیا پھر کبھی نہ آیا میاں وہاں… آیا ہی کیوں تھا چاند کو پاش پاش کر گیا۔ اس میں سوراخ ٹھوک گیا۔ دھڑا دھڑ کئی در بنا گیا… میاں اسے برباد کر گیا… علم سے لاعلمی بھلی وہ رشید چاند پر خدائی جادو پھونک گیا۔ گاہک گھیرتے گھیرتے اس نے انسان گھیرنے شروع کر دیئے،الٹ پلٹ سا ہو گیا۔

دماغ کوٹھے سے پرے ہوتا گیا… ایک کوٹھے والی کے لڑکا ہوا اسے بڑا پیارا لگا بہت منت کی کہ دے دے مجھے… کوٹھے سے پرے پالوں گا لیکن اس نے صاف کہا کہ وہ تو اسے دلال ہی بنائے گی۔ ڈھلتی عمر میں اس ایک بچے کی صورت دیکھی تو اس پر دل و جان سے فدا ہو گیا۔ ماں کی طرح سٹھیا گیا… بچہ بچہ ہونے لگی دل میں… بہت منت کی اس کی لیکن وہ نہ مانی… بہت راضی باضی تھی وہ اسے دلال ہی بنانے پر… گاہک گھیر کر لانے میں… چاند چھپ چھپ کر بچے کو دیکھتا اس کی غوں غاں سنتا… تڑپ اٹھتا،دل کھٹا ہو گیا اس کا کوٹھے سے… بازار میں عجیب عجیب تماشا کرنے لگا… باقی لڑکوں کے ساتھ بھڑ جاتا… گاہکوں کے ساتھ بدتمیزی کرتا… اسے کوٹھے پر چڑھنے والے سب میاں ہی نظر آتے آج نہیں تو کل سب میاں کے ہی حال کو پہنچ جائیں گے… یہ سب پلٹ کر اپنے قدموں کے نشانات کیوں نہیں مٹا دیتے کہ دوزخی دروغے انہیں کھوجنے یہاں نہ آ جائیں۔
“ چاند سوچتا آجکل ایسے ہی سوچتا تھا نورتن نے صاف صاف بیٹھا کر پوچھا کیا موت پڑی ہے؟
”بچہ“ ایک ہی لفظ نکلا فوراً نکلا
کون سا بچہ کس کا بچہ؟
گلابی کا بچہ… میاں جی کا…
”وہ تو تو ہے“ نورتن چڑ گئی۔
”میں تو چاند ہوں دلال ہوں… مجھے تو میاں کا بچہ چاہئے جو اس کی مغفرت کروا سکے۔ مجھ سے کہاں ہوگی اب… مجھے تو اپنی پڑ گئی ہے…“
”پاگل ہو گیا ہے تیری ماں پر بھی یہی موت پڑی تھی… کیا کرے گا بچے کا… کیوں مانگتا پھرتا ہے ادھر ادھر والیوں سے؟“
”پالونگا… انسان بناؤنگا…“
”دلال کا بچہ دلال ہی بنے گا نا“
”دلال تو کتا ہوتا ہے سوٴر…“
”تو سوٴر ہے؟ نورتن ہنسی“
”وہ بھی اچھا ہے مجھ سے…“
اتنی غیرت کیوں امڈتی آ رہی ہے؟؟
کیا پتا…
عورت کی منڈی ہے یہ چاند جی… بچوں کی نہیں… لڑکا لڑکی سب اپنے اپنے دھندے سے… سیدھی طرح رہ ورنہ چلتا بن،بہت لحاظ کیا ہے میں نے تیرا… تو نے مجھے بہت خوش رکھا اب تک اس لئے بٹھا کر پوچھ رہی ہوں ورنہ تو جانتا ہے مجھے۔
سیدھی طرح اب اس سے رہا نہیں جا رہا تھا۔ درباروں میں جا جا فقیروں،ملنگوں کے گھٹنوں سے لگ کر بیٹھ جاتا نورتن کہتی ”گلابی بھی ایسے ہی سیٹھا گئی تھی اب اس کی باری ہے۔“
بہت جمع پونجی تھی چاند کے پاس… لیکن اب وہ اس سے وہ نہیں خرید سکتا تھا جو میاں کو چاہئے تھا،شہروں شہروں گھومتا،کہیں مہینے،کہیں سال،کہیں ایک دن… کرائے کے گھر لے لیتا پڑا درباروں میں رہتا۔
اس کے اندر ایسی بچہ بچہ ہوئی کہ اسے ساری دنیا اپنی طرح بنا بچے کے نظر آنے لگی۔اس نے کبھی کچھ نہیں مانگا تھا اب خواہش پھوٹ ہی نکلی تھی تو اس تڑپ کو دیکھ کر آسمان والا ضرور ہی بچہ آسمان سے ٹپکا دے گا۔ وہ بچے کا باپ بنے گا ماں بنے گا۔ اس کے دلار کرے گا۔ ”بچہ خواہش“ اس میں آن بسی اب جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
وہ میاں کی مغفرت کا باعث نہیں بن سکا اس کا بچہ ضرور بنے گا پارکوں میں بیٹھا بچوں کو دیکھتا رہتا۔ چند ایک نرسوں کی منت کی… ایک دو غریب عورتوں سے انہوں نے بات کی… عین وقت پر ایک عورت نے پیسے واپس کر دیئے کہ نہیں دینا بچہ،ایک نے دے تو دیا… دو دن بار بار بے ہوش ہوتی رہی،روتی رہی چاند دو دن رکھ کر خود بچہ واپس اس کی گود میں ڈال آیا۔

انسان کے اتار چڑھاؤ انسان ہی جانے،چاند تو چاند نہ رہا،بنا بچے کے اماں ابا بن گیا،ماں کو میاں کو یاد کر کرکے روتا،میاں کو معاف کر دیا تھا اپنی معافی کیلئے روتا تھا اب۔
ڈھلتی عمر میں کیا سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؟ یہ ڈھلتی عمر میں سوچ کے اتنے در کیوں کھل جاتے ہیں،پچھتاوے کیوں جاگنے لگتے ہیں،گناہوں کی سمجھ کیوں آنے لگتی ہے؟ ہنسی ٹھٹھے گناہ کیوں بن جاتے ہیں،یہ عمروں کا آخر… انسانی خاتمے کی قربت… ایک اختتام کا انجام یہ اتنی قیامت کیوں لاتا ہے؟ اس کے اندر دونوں سمندر بیک وقت ٹھاٹھیں مارنے لگے،پدرانہ و مادرانہ… پل پل وہ پاگل ہونے لگا جیسے بن چاہی دلہن پل پل مرتی ہے۔
رشید کو لگتا اس کی شادی کو عشرے بیت گئے ہیں اب بس گود بھرنے کا انتظار اور نہیں ہوتا،یا انگارے بھر دو یا گود،وہ بانجھ پن کا بوجھ اٹھائے سیاہ پڑتی عورت کی طرح باؤلا ہو گیا وہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس بھاگتی ہیں یہ مزاروں اور بچہ دینے اور دلانے والوں کے یہاں جانے لگا،ورنہ کیا تھا کسی بھی اٹھائی گیر سے بات طے کرتا پیسے دیتا اور کسی کا بھی بچہ اٹھوا لیتا لیکن وہ ذات کا بے ذات ہو سکتا تھا خصائل میں اچھے اثرات باقی تھے۔

بچی ذات وہ رکھ نہیں سکتا پھراس کی شادی کا مسئلہ ہوتا،لڑکا کوئی دیتا نہیں تھا،ایک بچی تو مفت مل رہی تھی آٹھویں بچی تھی اپنی ماں کی ماں نے کہا لے جاؤ اس کا باپ اسے مار دے گا،چاند نے ہاتھ جوڑ کر انکار کیا۔
”میرے ساتھ اسے معاشرہ مار دے گا“
رشید جب چاند بنا تھا تو خوب بنا تھا ہیرا منڈی میں اس کی چاندنی کو زوال نہیں تھا اب باپ بننا چاہتا تھا تو خوب تڑپ رہا تھا… اس نے ہر سوانگ بہت دل سے اور جم کر رچایا۔
جاوید کے گھر سے نکلتے ہی… امین کو سینے سے لگاتے ہی وہ کئی جہانوں کی سیر کر چکا تھا۔ داڑھی رکھ لی تھی میاں جی کی طرح سرحد کے ایک چھوٹے سے قصبے کی طرف چلا گیا تھا۔ ہر اس امکان سے دور جہاں اسے پہچان لیا جائے۔ رات دن محنت مزدوری کرتا تھا۔ اچھے لوگوں میں تھا اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ جتنے پیسے تھے وہ اس نے امین کیلئے بچا رکھے تھے،فی الحال وہ اسے اپنی کمائی ہی کھلا رہا تھا تاکہ جب وہ بڑا ہو اس کا مستقبل محفوظ ہو اور وہ آرام سے پڑھ سکے۔
راستے کی ایک مسجد کے مولوی صاحب سے اس کے کان میں اذان دلوائی تھی اور نام بھی انہوں نے ہی رکھا تھا۔
امین چاند کا چاند تھا اسے بہت پیارا تھا۔
جب امین چلنے لگا تو وہ اسے پانچ وقت مسجد لے جاتا،بولنے لگا تو مدرسے کے استاد محترم کے پاس چھوڑ آیا۔ اس قصبے میں کوئی سکول نہیں تھا بہت لمبی مسافت پر تھا مدرسے میں ہی ابتدائی تعلیم دی جاتی تھی… امین نے الف اللہ ب بسم اللہ سیکھ لی،رشید کئی کئی بار امین سے اس کا سبق سنتا اس کا جی ہی نہ بھرتا امین کو سن سن کر۔
رشید امین کو کھلاتا،نہلاتا … مدرسے لے کر جاتا… رات کو اسے سرکار دو عالمﷺ کا درود سیکھا کر سلا دیتا،درود پاک کی ہی لوری سناتا اسی لوری سے اٹھاتا۔ رشید خوش تھا اب اپنی زندگی سے اسے وہ مل گیا تھا جو اس نے کبھی نہیں چاہا تھا اور جب چاہا تو ویسا ہی مل گیا۔
کرائے کے چھوٹے سے گھر میں وہ دونوں خوش تھے،امین کی جان تھی رشید بابا میں… اس بابا کو دیکھ دیکھ کر وہ سانس لیتا تھا۔
رشید نے ایک بار سوچا کہ امین کو اس کے ماں باپ بہن بھائیوں سے ملوانا چاہئے،دونوں ملتے رہیں گے لیکن یہ بعد کی باتیں تھیں ابھی وہ صرف اپنے اور امین کیلئے جی رہا تھا۔ امین اس سے اتنا پیار کرتا ہے کہ اسے کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گا وہ اسے سب سچ سچ بتا دے گا کہ رشید کا ماضی کیا تھا کہاں رہا اور امین کو کیسے حاصل کیاوہ اس کا لے پالک باپ ضرور تھا لیکن محبت کی ہر حد سے زیادہ اس سے محبت کرتا تھا۔
وہ امین کے دونوں ہاتھ اٹھوا کر میاں اور گلابی کیلئے دعا کرواتا،امین ایک بے حد من موہنا بچہ تھا بے حد پیارا…
###
گوہر سارہ کو لے کر کینیڈا اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔ سارہ بہت خوبصورت تھی اس کے گھر والوں نے کھلے دل سے اس کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ گوہر سارہ سے پہلے سکون آور گولیاں کھاتی تھی اس عادت سے چھٹکارا ملا،نفسیاتی مریضہ بننے لگی تھی۔
سارہ اس کی زندگی میں انقلاب لے آئی۔ گوہر کی ایک بہن اور دو بھائی شادی شدہ تھے گوہر سے زیادہ سارہ سے پیار کرنے لگے تھے۔
کینیڈا میں اس نے اپنا گھر سیٹ کر لیا الگ سے… جاب کرنے لگی،سارہ کو لے کر گھومتی،رات کو اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے سو جاتی۔ وہ سارہ کے ساتھ اپنی زندگی سے بے حد خوش تھی۔ ویک اینڈ پر سب اکٹھے ہو کر ڈیڈی کے گھر ڈنر کرتے… ایک عرصہ وہ آپس میں ناراض رہے تھے،ان سب کے درمیان گوہر کی اپنی مرضی کی شادی نے خلیج پیدا کر دی تھی گوہر کو ثاقب کے ساتھ طوفانی محبت ہو گئی تھی سانس نہیں آ رہا تھا ثاقب کے بغیر،کینیڈا میں ہونے والی ایک بین الاقوامی بزنس کانفرنس میں ثاقب شریک تھا گوہر وہاں اپنے آرٹیکل کیلئے گئی تھی جو اسے کالج میگزین کیلئے لکھنا تھا۔
اس پہلی ملاقات کے بعد گوہر ثاقب کے پیچھے پاکستان تک گئی اپنے گھر والوں کو ناراض کیا،نہ صرف گئی بلکہ شادی بھی کر لی،اتنے سال اس کیلئے پاکستان میں رہی۔ ثاقب کو اولاد کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ اس کے دو بیٹے تھے۔ گوہر خود ہی علاج کرواتی رہی،امریکہ بھی اکیلی ہی گئی اس کام کیلئے ثاقب کے پاس وقت نہیں تھا وہ ایک اچھی کنسٹرکشن کمپنی کا مالک تھا پیسے کی کمی نہیں تھی وقت کی بہت کمی تھی۔
چند سالوں میں ہی گوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ کئی بار ثاقب سے لڑ کر طلاق کی بات کی… لیکن طلاق کا یہ مطالبہ ثاقب کے ذرا سے بہلانے پر محبت میں بدل جاتا… ایک دو بار وہ اس کے ساتھ چیک اپ کیلئے چلا گیا۔ دو بار گوہر کینیڈا بھی گئی گھر والوں سے ملی لیکن پہلے جیسی بات نہ بن سکی انہیں ثاقب پسند نہیں تھا ان کا کہنا تھا کہ گوہر بہت معصوم ہے لوگوں کی پہچان نہیں رکھتی ثاقب کو چھوڑ دے لیکن وہ ثاقب کو چھوڑ نہیں سکی،اولاد کیلئے تڑپتی رہی۔
ثاقب اسے بے بی لینے بھی نہیں دیتا تھا۔
جاوید نے اسے بے بی دینے کا کہا تھا تو وہ رہ نہ سکی اور خود سے ہی فیصلہ کر لیا۔ ثاقب نے صاف کہہ دیا کہ وہ اسے کسی بچے کے ساتھ گھر میں گھسنے نہیں دے گا،کچھ جاوید کا ڈر اور کچھ ثاقب سے اختلاف وہ فوراً کینیڈا آ گئی۔
اس نے ڈیڈی کی گود میں سارہ دی تو وہ خوشی سے کھل اٹھے اس کے گھر والوں نے گرینڈ پارٹی دی سارہ کے اعزاز میں… گوہر تو جیسے ڈریم ورلڈ میں آ گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ بچے ایسے زندگی بدل دیتے ہیں اتنی پیاری لگنے لگتی ہے زندگی۔
آٹھ ماہ بعد ثاقب اس سے ملنے آیا یہ ٹھیک تھا کہ ان میں اختلاف تھا لیکن گوہر اس سے اتنی محبت کرتی تھی کہ ایک نئے اظہار محبت پر پچھلی لڑائی بھول جاتی۔ وہ ثاقب پر جان وار دیتی تھی۔ ثاقب اب گوہر سے ملنے چھ ماہ میں ایک بار آ جاتا،گوہر کیلئے یہی کافی تھا،ثاقب کے آنے سے پہلے گوہر سارہ کو ڈیڈی کے چھوڑ دیتی… ثاقب دس پندرہ دن رہتا اور چلا جاتا،وہ سارہ کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتا تھا اور پھر اتنے سے دنوں کیلئے گوہر کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی اس کی زندگی ٹھیک جا رہی تھی۔
سارہ سکول جانے لگی تھی… وہ سات سال کی ہوئی تو ثاقب اس پر نظر ڈال کر نظر ہٹانا بھول گیا ایک دو بار وہ اسے تین چار سال پہلے دیکھ چکا تھا اس بار دیکھا جیسے دنگ رہ گیا۔
”ادھر آؤ“ ثاقب نے پہلی بار بلایا اپنے پاس بٹھایا باتیں کی اس کے بال سہلانے لگا،گالوں پر چٹکی لی اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے بیٹھا رہا گوہر بہت خوش ہوئی،سارہ بھی بہت خوش نظر آنے لگی بہت دیر تک نئے نئے بنے پاپا سے باتیں کرتی رہی۔
پاپا اسے آئس کریم کھلانے لے گئے۔ اس کا سر سینے پر رکھ کر اس سے باتیں کرتے رہے،بار بار گال پر چٹکی لیتے… کس کرتے… گوہر تو نہال ہو گئی یہ سب دیکھ کر… اب اس کا گھر مکمل ہو گیا۔
ثاقب کی سارہ سے ملاقات بھی اتفاقیہ ہی تھی سارہ تھوڑی دیر کیلئے گھر آئی تھی،ڈیڈی کو کہیں جانا تھا ماما بھی گھر نہیں تھیں وہ اسے گوہر کے پاس چھوڑ گئے،ثاقب کو تو کوئی پسند ہی نہیں کرتا تھا۔
اس مکمل گھر کو مکمل ہی رکھنے کیلئے گوہر نے سارہ کو اپنے پاس ہی رکھ لیا،دونوں اسے گھمانے لے جاتے،سارہ پاپا کو بہت پسند کرنے لگی تھی،پاپا جو اس کا نہیں تھا لیکن بنا ضرور تھا۔ گوہر نے ایک ماہ کی چھٹی لے لی اور وہ تینوں امریکہ چلے گئے گھومنے۔ امریکہ سے ثاقب واپس پاکستان چلا گیا،دو ہی ماہ بعد پھر آ گیا۔ پہلے ثاقب لمبے عرصے بعد آتا تھا گوہر جاب سے چھٹی لے لیتی تھی اب اس کیلئے یہ ممکن نہیں تھا،ثاقب ہی سارہ کو سکول چھوڑ دیتا اسے لے بھی آتا،ڈیڈی ثاقب کے پیچھے پیچھے رہتے… گھر آ جاتے… یا سارہ کو ساتھ گھر لے جاتے… لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ سارہ کو پاپا ہی چاہئے تھے وہ ہر وقت ثاقب کے ساتھ رہنا چاہتی۔
اس دن ایسا ہوا کہ گوہر آفس سے جلدی آ گئی اس کا خیال تھا کہ ایک دو دنوں میں ثاقب چلا جائے گا تو وہ آج خاص ڈنر کی تیاری کر لے گی سارہ کو سکول لینے گئی تو پتا چلا کہ ثاقب اسے لے کر جا چکا ہے جبکہ ثاقب نے کہا تھا کہ آج اسے اپنے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔

گھر آئی تو ثاقب گھر بھی نہیں تھا سارہ کو وہ پک کر چکا تھا،فون کیا تو اس کا فون بند تھا۔ اس نے دو مزید گھنٹے دونوں کا انتظار کیا کہ شاید سارہ کو کہیں گھمانے لے گیا ہو فون بیٹری کی وجہ سے بند ہوگا۔ تین گھنٹے گزر گئے تو اسے ذرا تشویش ہوئی اور اسے معلوم نہیں ہوا کہ یہ تشویش کیسی ہے اور ہے کیوں؟
وہ آہی جائیں گے گھر۔
وہ کھانا پکاتی رہی… شام سے رات ہو گی دونوں نہیں آئے اس نے ڈیڈی کو کال کی وہ بھاگے آئے۔
”سارہ کو تم نے اس کے ساتھ جانے کیوں دیا؟ وہ آتے ہی چلانے لگے۔“
”وہ اکثر اسے پک کر لیتا ہے ڈیڈی پھر کیا ہوا… کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو دونوں کے ساتھ۔“
”ہاں حادثہ ہی نہ ہو گیا ہو“ وہ دھاڑے گوہر سہم گئی۔
کیوں جانے دیتی ہو ثاقب کے ساتھ تمہیں کتنی بار منع کیا میں نے“ انہوں نے کئی بار منع کیا تھا۔

لیکن گوہر ہر بار بھول جاتی تھی وہ اس کا شوہر تھا اور اس شوہر سے وہ بے حد محبت کرتی تھی۔

ڈیڈی پولیس کو فون کرنے لگے گوہر حیران رہ گئی۔
پولیس کیوں ڈیڈی؟
”چپ رہو گوہر… بے وقوف،تمہیں وہ ہمیشہ اچھا لگا اور مجھے ہمیشہ برا… تمہاری آنکھوں پر محبت کی پٹی تھی اور میری پر تجربہ کی،تم نے کبھی میری نہیں سنی سوچا تھا ماں بن کر ضرور سمجھنے لگو گی لیکن جانچ پرکھ والی آنکھ ہی تم نے بند کر رکھی ہے۔“
پولیس آ گئی… گوہر کے بھائی،بہن،بہنوئی بھی آ گئے،دونوں کا کچھ پتہ نہیں تھا،رات گزرنے لگی گوہر بے ہوش ہو کر ہسپتال پہنچ گئی۔
ایئر پورٹ سے کنفرم ہو چکا تھا ثاقب نامی پاکستانی شخص شام کی فلائٹ سے جا چکا تھا،سارہ کا کچھ پتا نہیں تھا،سارہ گم شدہ تھی پولیس ڈھونڈ رہی تھی رات گزر رہی تھی۔ گوہر نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔
رات بھر پولیس سارہ کو ڈھونڈتی رہی… گوہر کے گھر والے رات بھر دوڑ دھوپ کرتے رہے تھے۔
دن چڑھے شہر سے دور ویرانے میں جنگل کی طرف کرائے کی ایک کار کی پچھلی سیٹ پر سارہ نیم مردہ حالت میں پڑی ملی۔
کوئی ہوش والا اس کی حالت کو دیکھ کر ہوش میں نہیں رہ سکتا تھا۔
گوہر کی سارہ… نوری کی سارہ… جاوید کا سودا۔
ٹھیک اسی رات پہلی بار گرو گوری نوری کے خواب میں آیا نوری ڈر کر سارہ گھر میں بھاگتی پھری چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔
”میرا دل پھٹا جا رہا ہے جاوید“ وہ زمین پر بچھ گئی لوٹ پوٹ ہونے لگی جاوید کیلئے مشکل ہو گیا اسے سنبھالنا۔
کانوں پر ہاتھ رکھ فرش پر پھیلتے اس نے ایک دلخراش چیخ ماری… پھر بھاگ کر سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی تیسری سیڑھی سے گر گئی اور منہ سے خون فوارے کی صورت میں نکلنے لگا۔ جاوید نے رکھ کر دو طمانچے مارے منہ پر…
”پاگل ہو گئی ہے کتی… مرے باپ کو دیکھ لیا خواب میں کون مر گیا اب تیرا۔“
خواب تو وہ بھول گئی… پھر چلائی اور روئی کیوں؟
نجانے کیا کیا یاد آ رہا تھا اور یاد بھی نہیں آ رہا تھا… وہ جاوید کا منہ دیکھنے لگی دل چاہا اپنا سر دیوار میں دے مارے یا اپنا کلیجہ کچا کھا جائے۔
جاوید کو بڑا ترس آیا دیکھ کر اس کا منہ صاف کیا ساتھ لے کر کمرے میں آیا بیڈ پر لٹایا… سر دبانے لگا… بال سہلانے لگا۔
”نوری یہ حرکتیں چھوڑ دے… مجھے غصہ نہ دلایا کر… ورنہ گھر سے نکال دوں گا… اپنی حالت دیکھ بچیاں دیکھ لیتی تو تجھے پاگل سمجھتی… ڈر جاتیں… کچھ خیال کر نوری۔“
نوری نے ترحم سے جاوید کی طرف دیکھا۔
”میرا دل جاوید“ اس نے مکے مارے دل کی جگہ پر
”دل ٹھیک ہے تیرا… وہم نہ کر…
میرے اندر کچھ ہو رہا ہے جاوید… مجھے بڑی تکلیف ہو رہی ہے“ اس کے سینے پر سر رکھ کر وہ سسکنے لگی۔
کل ڈاکٹر کے لے چلوں گا تجھے…
مجھے بچا لے جاوید… میں مر جاؤنگی۔
جاوید نے الماری میں سے دو نیند کی گولیاں نکال کر اسے کھلائیں اور بتی بجھا کر خود سو گیا… نوری گولیاں کھا کر بھی ”جاننے نہ جاننے“ کی کیفیت میں معلق سوتی جاگتی رہی… انجانی آہیں سنتی رہی… سمجھ نہ پائی۔
###
جس حمل سے اب نوری تھی اس بچے کے دماغ میں پانی تھا ڈاکٹروں نے کہا پیدا ہوا بھی تو بچے گا نہیں اور پیدا ہونے سے پہلے بھی مر سکتا ہے۔
ماں کی جان کو دونوں صورتوں میں خطرہ ہے۔ ڈاکٹروں نے صاف صاف بات کی حمل برقرار رکھنا نوری کی جان لے کر ٹلے گا ، جاوید نے نوری کی منت کی لیکن نوری نہیں مانی،اب ہی تو جاوید کو کوئی گاہک نہیں ملا تھا یہی بچہ تو نوری کا تھا۔ نوری نے چھ مہینے تکلیف سے چلا چلا کر آسمان سر پر اٹھائے رکھا دھرتی ہلائے رکھی لیکن بچے کو پیٹ میں ہی رکھا ،ساتویں مہینے وہ دنیا میں آیا ہسپتال میں ہی رہا،نوری پندرہ دن رہ کر گھر آ گئی اور پورے نو ماہ کا ہو کر بچہ مردہ ہو کر گھر آ گیا۔
نوری نے جاوید کا گریبان پکڑ لیا۔
”بچہ دے میرا… نکال میرا بچہ جاوید… مجھے میرا بچہ چاہئے“
اس کی میت کے پاس وہ یہ چلاتی رہی…
”نکال میرے بچے… دے میرے بچے“ میت اٹھتے ہی وہ اس پر آ گئی۔ ایک دو بار تو جاوید نے برداشت کر لیا کہ دکھی ہے پھر رکھ رکھ کر مارنے لگا گالیاں نکالنے لگا۔
”میرے سر پر ہی چڑھتی آ رہی ہے تو تو“ وہ لاتیں گھونستے مارتا جاتا۔
نوری میں کائنات کے تاج ”محبت“ انسانیت کی معراج ”ماں“ کے چند بال اگ آئے اور جاوید کا گریبان چھوڑ گلا دبوچنے لگی۔
جب حمل نہیں ٹھہرا تھا تو نوری مزاروں پر دیے جلاتی ،جمعراتوں کی پابند ہو گئی،کئی سو نت نئی منتیں مانگ لی،صبح و شام درباروں میں گزارتی… ننگے پیر جمعرات کو داتا دربار جاتی،منت بھی مان رکھی تھی بیٹا ہوا تو سال تک ہر جمعرات ننگے پیر دربار جائے گی۔
جب اسے جاوید سے شادی کرنی تھی تب بھی وہ درباروں کی پابند ہو گئی تھی ،اماں کہتی نوری نماز پڑھ لے… تیری ماں تہجد گزار ہے اور تو نماز سے ہی دور ہے وہ دربار جا کر منت کے نفل پڑھتی رہتی،ادھر ادھر سے اٹھائے پیسوں سے تیل اور دیے جلاتی ہاتھ جوڑے گھنٹوں دربار والی سرکار سے مانگتی… خدا کو تو وہ جانتی بھی نہیں تھی۔ دو بیٹیوں کی ماں تھی اب اسے صرف ایک بیٹا چاہئے تھا اور اس شدت سے چاہئے تھا جیسے سدا سے بے اولاد ہو بانجھ ہو۔
ابا کے مرنے کے بعد اسے لڑکی ذات سے نفرت ہو گئی تھی اس رات وہ گھر آ کر سو نہیں سکی پہلی بار واضح خلل آیا تھا اس کی ذات میں اس کی اماں نے کس دھڑلے سے اس کی پوٹلی کھول دی تھی نوری کو بددعا لگ گئی تھی،کس کی؟
کس کس کی نہیں لگی ہو گی… ابا کی قبر میں پہلی رات اس کی حساب کتاب کی پہلی رات بن گئی۔ اس کا حساب کتاب شروع ہوا تو وہ تھر تھر کانپنے لگی ایسی کپکپاہٹ جو نظر نہیں آتی جو تھمتی بھی نہیں… اس نے اگلے دن ڈھیروں چیزیں منگوا کر بچوں میں بانٹیں،گاؤں میں جس جس کا جب کبھی دل پریشان ہوتا وہ میٹھی گولیاں،گڑ والے چاول یا بھنے دانے بچوں میں بانٹ دیتا،نوری کا دل پھر بھی ویسا ہی رہا۔
سکول سے گڑیا مانو آ جاتیں انہیں کھانا کھلا کر سلا کر وہ دربارآ جاتی جاوید فون کرتا ”کہاں مری ہے گھر آنا ہے کہ نہیں؟“وہ چونکی رات ہو گئی کتنی اذانیں ہو چکی جماعتیں کھڑی ہو چکی اور وہ وہیں دربار میں ایک طرف کی ایک طرف بیٹھی رہی۔ وہ دعا کرتی کہ وہ منحوس ہیجڑا مر جائے اس کی جان لے کر ہی ٹلے گا کیا؟
بدھائی میری بدھائی… بتا کون کھا گیا میری بدھائی؟
جو بھی لے گیا تجھے کیا؟ نوری بعد ازں بڑبڑاتی ”تو ماما لگتا ہے پوچھنے والا۔“
”اماں تو پاگل ہے ہماری“ گڑیا اسے ایسے بڑبڑاتے دیکھ لیتی تو ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرکے کہتی۔
”ماں پاگل ہے ماں کی اولاد ٹھیک ہے“ نوری دھاڑتی۔
گندی اماں… چھی… شیم شیم…

نوری نے رکھ کر ایک تھپڑ رکھا اس کے ”اتنی سی ہو کر اتنی بڑی گالی دے رہی تھی نوری کو… نوری کا جی چاہا اسے مار ڈالے۔“
گڑیا نے مار کا بدلہ لیا اسے باتھ روم میں بند کر دیا اور کمرے کا دروازہ بھی،نوری دروازہ دھڑ دھاڑتی رہی چیختی رہی لیکن گڑیا نے دروازہ نہ کھولا،کام والی،کپڑے دھونے والی،کھانا پکانے والی جا چکی تھیں،گڑیا مانو کو لے کر آواز اونچی کئے ٹی وی دیکھتی رہی،رات کو جاوید آیا اسے باہر نکالا وہ باتھ روم کے فرش پر بیٹھی دیوار کے ساتھ سر ٹکائے رو رہی تھی… باہر نکلتے ہی وہ گڑیا کی طرف لپکی دیر تک اسے دیکھتی رہی اور پھر اسے جھنجھوڑ ڈالا ”ہاں واقع تو میری ہی اولاد ہے… بول گڑیا کیا تجھے بھی ذرا رحم نہ آیا… تجھ میں بھی رحم نہیں ہے“ گڑیا ڈھیٹ بنی کھڑی رہی جاوید نے گڑیا کی اچھی دھلائی کی۔

”جتنا مرضی مار لے جاوید یہ ہمارا ہی خون رہے گا…“
نوری دنوں گڑیا کو گھورتی رہی اور بڑبڑانے بھی لگتی۔
تو ٹس سے مس نہ ہوئی… تجھے ذرا رحم نہیں آیا؟“
گڑیا نے نظر اٹھائی
”تمہاری اولاد ہوں رحم سے صاف انکاری ہوں“
نوری ڈر گئی
”خود گدھ بنے بیٹھے ہو… ہمیں فرشتے بنے دیکھنا چاہتے ہو۔“
نوری اور سہم گئی خود میں سمٹ گئی
اب بول بتا رحم کس چڑیا کا نام ہے؟
نوری نے چیخ مار دی… گڑیا اور مانو ڈر کر اس کی طرف دیکھنے لگی… جاوید کھاتے کے کاغذات پھیلائے بیٹھا تھا۔
”یہ دیکھ جاوید یہ گڑیا کیا کہہ رہی ہے… یہ دیکھ اس کی زبان… اتنی لمبی زبان ہے اس کی۔“
اے گڑیا… جاوید دھاڑا
”میں تو بولی بھی نہیں ٹی وی دیکھ رہی تھی مانو سے پوچھ لو۔“
گڑیا کی آواز رندھ گئی جاوید نے نوری کو گھورا اور اپنے کام کی طرف واپس ہو گیا۔
اس سے چند دن بعد ہی وہ دربار آئی… داتا دربار… جمعرات تھی تو بہت رش تھا… اندر سے سلام کرکے وہ باہر نکلی تو سڑک کے پار بیٹھے ایک فقیر کے کالے کشکول میں چند سکے اور پیسے ڈالے،روز ہی بہت سے فقیروں کو خیرات دیتی تھی۔
خیرات فقیر کے کشکول میں ڈال کر چند قدم ہی آگے کو چلی تھی کہ اس نے اپنے پیروں کے پاس سکے کو کھڑے پہیے کی طرح چلتے آتے دیکھا… سکوں کے گرنوں کی آوازیں اتنی گونج دار تھیں کہ نوری رک گئی… پہلے پاؤں کے قریب گرے سکے کو دیکھا اور پھر گھوم کر پلٹی… کوئی کہہ گیا ہے پلٹ کر پیچھے دیکھنے والے پتھر کے بن جاتے ہیں… ٹھیک کہہ گیا ہے… قیامت اور روز حشر کا پتھر ہو جانا جب پاؤں زمین میں دھنس جائیں گے اور دل دہل کر پگھل جائیں گے جب وحشت طاری ہو جائے گی اور ارواح بین کریں گیں… آہ و بکا کریں گیں… اور کہیں گیں“ یہ کیا، کیا تو نے ہمارے ساتھ… ہمیں رسوا کر دیا… کیوں کیا…
جب نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے… اور جب ہر ہر گناہ کا ثبوت پیش کر دیا جائے گا… بدنصیب لوگ وحشت سے پتھر کے ہو جائیں گے۔
فقیر کشکول کو سڑک پر الٹ چکا تھا… اس نے فقیر کی طرف دیکھا اور فقیر نے عین اس کی طرف… اور بس… نوری کی روح آہ و بکا کرنے لگی… ”کیوں لے ڈوبی مجھے نوری… یہ کیا کر دیا… مجھے شرمندہ کیا خدا کے آگے… تجھے خدا پوچھے گا… اپنا مالک بھلا کر نفس کی غلام بن گئی… خدا ہی تجھے پوچھے گا نوری۔“
نوری بے نور ہو گئی سکے کی کھنک سے اس کے کان پھٹنے کے قریب ہو گئے… اس کی سانسیں اندر جا کر گم ہو رہی تھیں باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا… سکے… پیسے… سڑک پر بکھرے ہوئے تھے۔
فقیر کا کشکول خالی ہو چکا تھا وہ خالی کشکول ہی لے کر بیٹھنا چاہتا تھا… پوں پاں کرتی گاڑیاں،رکشے،موٹر سائیکلیں گزر رہی تھیں… وہاں کھڑی ایک ذات جامد اور ساکت تھی۔ ”نوری“۔
نوری ایک قدم فقیر کی طرف بڑھی… اس نے کہا ہونہہ… نوری نے سنا… اب نوری سب سنے گی… وہ کشکول میں ڈالی گئی نوری کی خیرات اچھال چکا تھا مطلب نوری کو دھتکار چکا تھا۔
”کن کیلئے دیے جلانے آئی ہو؟ کیا چاہئے اب؟ جو کشکول انسانوں نے تھام رکھے ہیں نا یہ کبھی نہیں بھرتے… بھریں گے بھی نہیں… بچے بیچ کھائی ہو… ایمان بھی بیچ کھاؤ گی… اپنی کھال کے اندر کا سودا کر بیٹھی ہو نا… دو جہاں کا سودا کر بیٹھی ہو نا… رزاق بنا لیا ہے خود کو… رزق کشید کر رہی ہو… حرام کھا کر یہاں حلال کروانے آئی ہو،توبہ کرنے نہیں آتی اور اور مانگنے آ جاتی ہو اور کتنا چاہئے کب تک چاہئے؟ اے انسان تو انسان کب بنے گا؟؟ بندہ خدا نہیں بنانا… مخلوق کا تاج کب بنے گا؟
آمیرے ساتھ تو بھی بیٹھ جا… کٹورا تھام لے… صدائیں لگا،بھیک مانگ… معتبر رہے گی… بچی رہے گی… صدا لگا کر مانگ… التجا سے مانگ… مانگ کر کھا لے… بیچ کر نہ کھا… چل آ بیٹھ میرے ساتھ…“
نوری دوسرے قدم پر سڑک پر بیٹھ گئی۔
”جب خدا نے ایک ہی مٹی ایک ہی خواص سے بنا ڈالا تو پھر کیوں اپنی جان کے درپے ہو؟ خدا کی سنتے نہیں نفس کی سن کر لبیک کہتے ہو…؟؟
نوری نے ہاتھ بڑھا کر ایک سکہ اٹھایا
”اپنی لگامیں شیطان کو پکڑائے بیٹھے ہو… خدا کے دائرے سے نکل چکے ہو… ڈرتے بھی نہیں۔“
دوسرا سکہ اٹھایا… ایک رشید والا… ایک گوہر کا،ایک مریم کا ایک فاخرہ… وہ سب کے نام لینے لگی ان چار بچوں کی ایک ماں ان کی کئی ماؤں اور باپوں کے نام لے رہی تھی سکے اٹھا رہی تھی… پھر اس نے کشکول سے گرے سب کے سب سکے پیسے چن لئے اپنے بٹوے میں رکھے رکشا لیا اور گھر آ گئی۔ وہ سکے اور پیسے لاکر اس نے جاوید کے منہ پر دے مارے۔
”میری تیری کمائی“ وہ دھاڑی
”کمینی“ وہ اس کی طرف لپکا

”دلال“ وہ اس سے زیادہ بلند آواز سے چلائی اور گالیاں دینے لگی۔
نوری کے دن پورے ہو رہے تھے اسے پیٹ کے وہ دن یاد آ رہے تھے جن میں بچے آکر ٹھہرے تھے… ایک ایک دھڑکن سنائی دے رہی تھی ہر ہر بچے کا لمس جاگنے لگا تھا اس میں… اس پر ہر ہر بچے کی ابتداء ہونے لگی تھی۔
منہ کے راستے وہ بہت کچھ پیٹ میں ڈال چکی تھی،جو کوکھ میں پلے تھے انہی کی وجہ سے پیٹ بھرا تھا انسان کی ازلی بھوک جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی… ابلیس کے ہاتھوں سارا ایمان بیچ کر بھی… اب یہ بھوک کوکھ میں اٹھنے لگی تھی۔
ایک در بند،تو دوسرا منہ کھول لیتا… ایسے ہی ایک بھوک ختم ہوتی تو دوسرے بے دار ہونے لگی۔ نوری عورت سے بیوی سے انسان سے ماں بننے لگی۔ اب اسے اجنبی زبانوں میں خواب آتے،اجنبی لوگ اسے ہاتھ نچا نچا کر جانے کیا کیا کہتے رہتے،جانے کہاں کی مخلوق تھی جو آتی اور اسے دھتکار کر سنا کر چلی جاتی۔

نوری،نوری نہ رہی… وہ ماں بننے لگی۔

اس دن پہلی بار…
جاوید سفید ماربل کے فرش پر رکھے اسی ہزار کے ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھا روسٹ کھارہا تھا۔
بوٹی بوٹی توڑ توڑ چبا رہا تھا۔ نوری نے اپنا پنجہ مارا اور اس کے دانتوں میں دبی ہوئی بوٹی کھینچ کر باہر نکالی جاوید،گڑیا… مانو تینوں بیک وقت ڈر کر اسے دیکھنے لگی۔ نوری نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں گھسا دیں۔ ”نکال میرے بچے… میرے بچے نکال… نکال سب باہر۔“
کرسی گری… ٹیبل پر رکھے سب برتن گر گئے۔ جاوید نے اس کو دھکا دے کر خود سے الگ کیا اس وقت تک وہ اچھی طرح سے اس کا منہ کھرچ چکی تھی جاوید کے دانتوں میں سے خون نکلنے لگا۔
”اماں!“ گڑیا اس کی طرف لپکی… مانو ڈر کر رونے لگی اور اس کی طرف آنے لگی سالن سے پھسل کر گر گئی،سرفرش پر زور سے لگا جاوید نے لپک کر مانو کو پکڑا اس کے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے اسے صوفے پر لٹایا پانی پلایا… نوری سفید چمکتے فرش پر اپنا سر مار رہی تھی… خون نقل کر آنکھ منہ اور گردن سے گریبان تک جا رہا تھا۔ وہ دیوانوں کی طرح فرش پر سر مار رہی تھی اندر کی تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ ظاہر کی تکلیف مٹ گئی تھی۔
”مجھے میرے بچے چاہئیں… واپس کر میرے بچے۔“
جاوید نے اسے قابو کرنا چاہا وہ چیل کی طرح اس پر چھپٹی… گڑیا اور اونچی آواز سے رونے لگی۔
”مجھ پر رحم کر جاوید“ بلند بانگ بین ڈالا درو دیوار لرز گئے جاوید جما بیٹھا رہا“ میرے یہاں… یہاں وہ ہیں“ اس نے اپنے وجود پر ہاتھ گھما گھما کئی اشارے کئے… کئی بار کئے… کرتی ہی رہی…“ وہ میرے اندر ہیں… مجھے وہ ہاتھوں میں چاہیے“ جاوید نے اسے اٹھا کر فرش سے قالین پر لٹایا،موبائل نکال کر ڈاکٹر کو فون کیا…
ڈاکٹر نے چیک کیا انجکشن لگایا تو وہ سو گئی لیکن وہ نہیں سوئی… وہ آنکھیں جو کسی کی تھیں… لیکن اس کے وجود میں آن اگی تھیں وہ کروڑوں دھڑکنیں… لامحدود سانسیں جو اسکی نہیں تھیں لیکن اس میں تھیں اسے چین سے سونے نہیں دے سکتی تھیں۔
نیند تو سکون والوں کو آتی ہے سکون بیچ کھانے والوں کو نہیں،ایسے دورے اسے آئے دن پڑنے لگے۔ جاوید فیکٹری اور سٹور میں لگا رہتا اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا کہ نوری کے دوروں کو سنبھالے۔ وہ دیواروں سے ٹکریں مارتی،بھوکی پیاسی کسی کونے میں پڑی رہتی۔ گڑیا گیارہ سال کی ہو چکی تھی اتنی بڑی تو نہیں ہوئی تھی پھر بھی تھوڑا بہت گھر کا خیال رکھ لیتی تھی۔
گھر میں دو کل وقتی ملازم بھی آ گئے تھے وہ اپنی لوٹ کھسوٹ میں لگے رہتے جاوید آتا اسے دیکھتا بولنے لگتا۔
”میں دوسری شادی کر لوں گا نوری۔“
اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے کھڑے اس نے اجڑی آنکھیں لئے جاوید کو دیکھا ”نئی فیکٹری لگانے لگا ہے“ نوری نے دانت کچکچائے جاوید نے الٹے ہاتھ کا ایک چانٹا رکھا۔
”کس چیز کے طعنے دیتی ہے مجھے تو بھی میرے ساتھ تھی“
”وہی تو“
اتنے بڑے بڑے گھروں میں گئے ہیں سب عیش کرتے ہونگے۔

”اس گھر کو بھی بڑا بنا ئینگے وہ“
”تو کبھی نہیں سمجھے گی… تھی ہی پاگل ہمیشہ سے“
”پاگل ہی تھی …“
”دماغ سے یہ خناس نکال دے… جانے کیا کیا سوچتی رہتی ہے،گھر سنبھال،بچوں کا خیال کر… نوکروں پر گھر چھوڑ رکھا ہے سب پاگل کہتے ہیں تجھے۔
”میں سمجھی کچھ اور کہتے ہونگے“ سوگوار سا انداز بچوں کا خیال کر لے نوری آخری بار کہہ رہا ہوں۔

کس کس بچے کا؟ نوری کی آنکھیں ویران تر ہو گئیں وجود میں دھڑکتی سب کی دھڑکنیں تیز تر ہو گئیں۔
”دوسری ملنے میں مجھے دیر نہیں لگے گی اپنا گھر برباد نہ کر… سنبھل جا…“
”برباد تو بہت کچھ ہو گیا… پرواہ تو کر…“
تو کیسی باتیں کرتی ہے“ وہ جھنجھلایا… کیونکہ ہمیشہ سے ہی سیدھا سادا ہی رہا تھا ایک لائن پر چلنے والا… ایک ہی فارمولے پر کاربند،اس لئے نوری والی سوچ میں نہیں پڑا تھا،گھاک ہوا کاروبار کیلئے عیار بنا پیسے کیلئے… دلال بنا پیٹ کیلئے۔
وہ سیدھا ہی رہا،نہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر بیٹھتا نہ کبھی بے چین وبے قرار ہوتا… کماتا… کھاتا… سوجاتا… گالیاں دیتا بھول جاتا،گالیاں سنتا وہ بھی بھول جاتا پیسے گنتا یاد رکھتا،خرچ کرکے بھول جاتا… سیدھا سادا ہی تھا،دکانوں پر بیٹھنے والے کتنا مال گیا یاد نہیں رکھتے کتنا مال بنا یہ یاد رکھتے ہیں۔
###
”رات گئے وہ ہڑبڑا کر اٹھی بس ابھی آنکھ لگی تھی اس کی تو…“ جاوید الماری کھنگال رہا تھا بہت جلدی میں تھا۔
”نوری اٹھ جلدی کر تھوڑا سا سامان رکھ جلد کر“ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ اپنے کام کرتا جلدی جلدی بولا وہ اٹھ بیٹھی۔
”یہ بیگ پکڑ کر تھوڑے سے کپڑے رکھ لے گڑیا کو اٹھا جا کر تیری مدد کروائے۔“
کیا ہوا؟ اس نے جاوید سے بھی پوچھا اور خود سے بھی کہ وہ کیوں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
جو کہا وہ کر… اٹھ جا… تھوڑے دنوں کیلئے شہر سے باہر جانا ہے“ وہ نہیں اٹھی جاوید کی طرف دیکھنے لگی۔
”اٹھ جا نوری“ وہ چلا اٹھا۔
کون مرا ہے؟ اس کے اس انداز پر جاوید کام سے ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگا۔
”کوئی نہیں“ جاوید نے نظریں چڑائیں۔
ٹپ ٹپ نوری کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ کیا خبر کیوں لیکن گرنے لگے ترس آمیز نظروں سے جاوید نے نوری کو دیکھا اور بڑھ کر اس کے آنسو صاف کئے۔
”نوری تجھے کیسے پتا چلا؟ جاوید نرمی سے پوچھنے لگا۔
کیا؟ نوری کا منہ اٹھا کر پوچھا ”کیا“ اتنا درد انگیز تھا کہ جاوید نے اسے سینے لگا لیا۔
”کہ کوئی مر گیا؟“
’کیا کوئی مر گیا‘ نوری نے یہ سوال پوچھ لیا کس عذاب سے پوچھا خدا ہی جانتا تھا۔
”بیگم فاخرہ کے گھر فائرنگ ہوئی ہے“ جاوید ہکلا گیا۔
”جو ہمارا بچہ لے گئی تھی نا… اسی کے گھر نا“
جاوید چپ رہا اسے اور سینے کے ساتھ بھینچ لیا… دونوں بہت دیر ایسے ہی بیٹھے رہے۔
ایک جھٹکا لگا نوری کو… وہ پورا زور لگا کر جاوید کے حلقے سے آزاد ہوئی… بنا دوپٹے اور چپل کے گھر کا بڑا گیٹ کھول کر باہر سڑک پر آ گئی تیز تیز بھاگنے لگی… پیچھے ہی جاویدچلاتا آوازیں دیتا مٹکے سا پیٹ لئے بھاگ رہا تھا لیکن وہ بھاگتی ہی رہی… آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی جاوید نے اسے پیچھے سے جا ہی لیا۔
”نوری رک جا… خدا کیلئے مجھ پر رحم کر“
”خدا کیلئے تو مجھے پر رحم کر…“ سنسان سڑک پر وہ اندھے گلے کے ساتھ چلائی“ چھوڑ مجھے… جانے دے وہاں مجھ میں جاؤنگی وہاں…“ رات کے اندھیرے میں بیچ چوراہے پر نوری کی آہ و بکا گونجنے لگی۔
”چل میرے ساتھ وہاں“ جاوید مان گیا۔
گڈو نے جاوید کو فون کرکے کہا تھا کہ وہ اس شہر سے فی الحال چلا جائے ہو سکتا ہے فاخرہ کے دشمن نئے فیکٹری مالکان پر بھی غصہ نکالیں… یہ وہ لوگ بھی ہو سکتے تھے جن سے انہوں نے قبضہ لیا تھا۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا منظر سے غائب ہو جانا ہی ٹھیک تھا۔ جاوید نے گڈو کو پھر سے فون کیا اور سب بتایا اور نوری کو لے کر فاخرہ کے بنگلے آ گیا۔

بنگلے پر آدھے گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی تھی گھر چھلنی پڑا تھا پولیس کی نفری موجود تھی اور گھر سیل تھا۔ چوکیدار کی،کل وقتی ملازم کی،گھر کی مالکن کی اور مالکن کی گود لی بچی کی ہلاکت ہو چکی تھی۔ لاشیں اٹھائی جا چکی تھیں وہ دونوں ہسپتال آ گئے وہاں چوکیدار اور ملازم کے خاندان کا مجمع جمع تھا۔ فاخرہ کی طرف سے کوئی نہیں تھا بچی کی ماں نوری اب وہاں پہنچی تھی۔

چوکیدار کے بیوی بچے رو رہے تھے،ملازم کی ماں بہن بین کر رہی تھیں نوری جاوید کے گلے سے جھول گئی۔
”ایک کا جنازہ تیار کروا دیا نا…“ وہ رونے لگی۔
”میری بچی لاش بن گئی… میں نے تو اسے زندہ کو دیکھا ہی نہیں… ہم نے اسے مار دیا… ہم قاتل ہیں اس کے نوری گر کر بے ہوش ہو گئی۔
بچی کی حوالگی کے کاغذات پولیس کو دکھائے اور ضروری کارروائی کے بعد جاوید مردہ بچی کا جسم گھر لے کر آ گیا،جسم ڈبے میں سیل بند تھا۔

جسے کھولنے کی اجازت نہیں تھی ایسی لاشیں جو بری طرح سے مسخ ہو چکی ہوں انہیں ایسے ہی سیل بند کیا جاتا ہے آدھے گھنٹے سے زیادہ وہ اسے گھر نہیں رکھ سکتے تھے۔
نوری تابوت سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھی وہ ایک آخری بار بھی بچی کو ہاتھ نہیں لگا سکتی تھی اسے چوم نہیں سکتی تھی،نیلم کی ماں اپنے گناہ کو کوس رہی تھی بہت دیر میں کوس رہی تھی۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔
نیلم مر چکی تھی۔
فائرنگ والے وہی لوگ تھے جو فاخرہ کے خاندانی دشمن تھے،جائیدادیں چھین لی تھیں جانیں چھین لی تھیں بھائی اسی ڈر سے بھاگ کر باہر گمشدہ بیٹھا تھا۔ جاوید اور گڈو نے فیکٹری پر قبضہ کیا تو انہیں ایک عورت کا یہ منہ توڑ جواب اچھا نہیں لگا۔
بعد کے معاملات سب گڈو نے ہی سنبھالے ان سے معاملات طے کئے ان کی ذاتی دشمنی تو تھی نہیں،بات صاف کی کہ عورت سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا… دشمنی چلتی بنی… ہاں فیکٹری ہاتھ سے نکل گئی۔
جاوید پیچ و تاب کھاتا رہا،اتنا گھاٹے کا سودا نہ بچی رہی نہ فیکٹری،وہ اور گڈو اب ملکر ایسی ہی دوسری فیکٹری لگا رہے تھے پیسے تھے اب ان کے پاس۔ جاوید پھر سے جمع تفریق کرنے لگا… بچی تفریق ہو گئی لیکن اس نے فیکٹری کو ہی تفریق کیا۔ قلم اٹھا کر اس نے دیوالیے کے خانے میں بھی نیلم کا نام نہ لکھا۔
نیلم انسانوں سے مردوں میں شامل ہو گئی۔
صرف تیس منٹ اس کا مردہ ڈبہ بند جسم نوری کے پاس رہا… نوری پر قیامت کر گیا۔
وہ گاؤں بھاگی… رو رو کر اس نے گاؤں اکٹھا کر لیا،نہ وہ اس گھر سے نکلتی نہ اس کی نیلم مرتی۔ گاؤں بھر کی عورتیں اس کے واویلے سے ان کے گھر کے اندر باہر اکٹھی ہو گئیں کچھ دیواروں کے ساتھ لگی تھیں کچھ چھتوں سے دیکھ رہی تھیں اس کی حالت دیکھ دیکھ دہل رہی تھیں… اماں نے بھابیوں نے بڑھ بڑھ کر سینے سے لگایا۔
”اماں میں اپنے بچے کھا گئی“ وہ کسی سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی“
”سب کھا گئی… مال سمجھ کر کھا گئی… خون پی گئی ان کا۔“
”نوری کیہ کہندی اے“ وہاں کھڑی گاؤں کی ایک عورت نے بات جان کر سمجھ کر بے یقینی سے دوسری سے پوچھا۔
”کہندی اے بچے ویچ دتے“
توبہ توبہ ایہ نوری نوں کیہ ہویا؟
بھائی نوری کو سینے سے لگائے بیٹھے رہے۔
لیکن اب اسے چین نہیں مل رہا تھا اب اسے چین نہیں ملنا تھا اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔ بھابیاں ہاتھ پاؤں دبانے لگی اماں اس پر پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔
وہ اکیلی ہی گاؤں آ گئی تھی منہ اندھیرے ہی نکل آتی تھی جب وہ ہیجڑا آیا تھا،وہ تالی بجا رہا تھا ٹھمکے لگا رہا تھا،گا رہا تھا،نوری او نوری کر رہا تھا۔
”اب آ میرے ساتھ… آچل… بدھائیاں لے… ناچ لے گالے… خوشی منا لے…“
اماں کے سینے سے لگ کر اس نے ایک ایک بات بتا دی۔
حاجن بی اس کے ہاتھ پکڑے بیٹھی تھیں۔ نوری نے صاف صاف بات کی کہ وہ راضی بہ رضا تھی… اسے معصوم نہ سمجھو،اسے بے گناہ انجان بھولا نہ جانو،وہ سب سودے جانتی تھی،وہ ہر سودے میں شریک تھی،وہ ماں کبھی نہیں بنی،وہ انسان بھی کبھی نہیں بنی،وہ گوشت کے لوتھڑے سونے کے بھاؤ بیچتی رہی وہ سارے حساب رکھنے والی تھی وہ ماں نہیں تھی۔
اماں،حاجن بی سن سن کر روتی رہیں کوئی اور ہوتا تو ضرور بار بار کانوں کو ہاتھ لگاتا لعن طعن کرتا،تھوک دیتا،ماں تھی صبر کرکے بیٹھی رہی توبہ استغفار دل ہی دل میں کرتی رہی۔
”مجھے معافی کر دے اماں“ نوری نے ہاتھ جوڑ دیئے اماں نے اس کی پیشانی چومی۔
”معافی دلوا دے اماں مجھے“ اس پر اماں خود ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی چھوٹی انگلی میں تسبیح تھی وہ آسمان کی طرف بار بار نظر اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔
دعا کرو ان سب کیلئے وہ سب خوش رہیں“ حاجن بھی تسلی دینے لگی۔
”اولاد بنا کر لے کر گئے ہیں انہیں اولاد ہی بنا کر رکھیں۔

چند دن گاؤں میں رہ کر نوری واپس آ گئی گڑیا اور مانو پر توجہ دینے لگی۔ اماں حاجن بی نے کہا اپنی بچیوں کا خیال کر ان کی اچھی تربیت کر،وہ بات کو سمجھ گئی۔
اس کی ذات میں جو بدلاؤ آیا وہ کرب اور تکلیف ہی لایا بس… سکون تو اسے مر کر ہی ملے گا اب۔
###
نیم مردہ حالت میں سارہ کو ہسپتال لایا گیا تھا اور گوہر کو زبردستی اس کا بھائی گھر لے گیا تھا تاکہ وہ سارہ کو نہ دیکھ سکے۔
گوہر سہڑیائی دورے پڑنے لگے،اس کی لاڈلی کے ساتھ یہ سب کچھ ہو گیا تھا۔ ثاقب نکل چکا تھا اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ یہ سب اسی شیطان کا کیا تھا۔ وہی شیطان جس سے ڈیڈی اسے بار بار خبردار کرتے تھے۔ بچے والدین کے ہر تجربے کو جھٹلا کر اپنا تجربہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
گوہر جیسی ضدی لڑکی نے اپنے خاندان کی ”نا“ کے باوجود ثاقب سے شادی کی اتنے سال اس کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اسے پہچان نہ سکی۔
ٹھیک کہا تھا اس کی ایک کولیگ نے کہ ”خوبصورتی کے تمہارے اس پتلے کو وہ ساتھ رکھنے کیلئے لایا ہے بیوی اور ماں وہ پہلی والی کو بنا چکا ہے… تم بس ماڈل بنی اس کے پہلو سے لگی رہو۔“
وہ فوراً پاکستان آکر اسے پکڑوانا چاہتی تھی۔
اس نے ایسا کیوں کیا؟ سوچا بھی کیسے؟ نام کی ہی سہی بیٹی تو تھی اس کی۔ واقعی گوہر بہت بھولی تھی۔ ماما نے تاسف سے گوہر کو دیکھا۔
”یہاں سگے باپ پیچھے نہیں اور تمہیں یہ دکھ کھائے جا رہا ہے کہ ثاقب سارہ کا باپ تھا،باپ بن جانے اور باپ ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے،یہ فرق ہمیشہ رہتا ہے،یہ فرق انسان مٹاتے ہیں شیطان نہیں۔“
ثاقب دو بیٹوں کا باپ تھا بیٹی کا نہیں،خود سے بارہ سال چھوٹی لڑکی کا شوہر بھی۔ نجانے اپنے غیر ملکی دوروں پر کیا کیا کرتا ہوگا۔ گوہر نے زندگی میں ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ اس کی فیملی آخر کیوں ثاقب کو پسند نہیں کرتی۔
اس کا اپنا یہ خیال تھا کہ وجہ صرف اس کا شادی شدہ ہونا ہے لیکن وجہ صرف یہ نہیں تھی جب ڈیڈی اس سے ملے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ وہ اس سے شادی کرنے کا سوچے بھی نا،گوہر نے بحث کی تکرار کی ٹھوس وجہ مانگی۔
”اگر وہ برا نہیں ہے تو اچھا بھی یقینا نہیں ہے ثبوت تو نہیں ہیں میرے پاس ہاں چھٹی حس ضرور ہے۔“ یہ آخری بات تھی جو گوہر کو سمجھانے کیلئے انہوں نے کی۔
چھٹی حس کس زمرے میں آتی ہے؟ محبت کے زمرے میں تو بالکل بھی نہیں،گوہر پہلے اس کی محبت میں پاگل ہو رہی تھی اب اس کی نفرت میں ہو رہی تھی۔ اتنے سال اس کے ساتھ رہتے اسے جان نہ سکی،عشرے گزار کر انسان خود کو نہیں جان پاتا دوسرے کو کیا جانے گا۔
سب نے گوہر کو سمجھایا کہ اب صرف سارہ کو ہی اس کی ضرورت ہے،پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہزاروں واقعات ہوتے ہیں اور کوئی سنوائی نہیں وہاں وہ ثاقب کو سزا کیسے دلوائے گی۔
وقت ہی ضائع ہوگا اور یہ وقت اب صرف سارہ کا ہے۔ گوہر سارہ کو دیکھ دیکھ کر روتی رہتی وہ زندہ ضرور بچ گئی تھی لیکن اب وہ صرف سارہ نہیں رہی تھی۔
جس کی چیخوں سے سناٹا گونج اٹھا تھا اب اس کی مسکراہٹوں سے زندگی کیسے مہکے گی…؟؟؟
گوہر نے اتنا ضرور کیا کہ ایک آخری بار ڈیڈی کے ساتھ وہ پاکستان گئی اس کی بیوی،دونوں بیٹوں کے سامنے ثاقب کا پول کھولا۔ ثاقب نے صاف انکار کر دیا الٹا دھمکیاں دیتا رہا وہ ثبوت مانگ رہا تھا،ثبوت صرف سارہ کا بیان تھا۔

ثاقب نے گوہر کو طلاق دے دی وہ اسے بیوی بنا کر رکھنا نہیں چاہتا تھا جو اپنے شریف شوہر پر کیچڑ اچھال رہی تھی۔ گوہر ثاقب کی دی پراپرٹی اس کے منہ پر مار آئی۔
دونوں میں سب کچھ شروع ہو کر ختم ہو گیا۔
اور سارہ؟
اس کی زندگی پر اتنے سوالیہ نشان لگ چکے تھے کہ انہیں مٹانے کیلئے کئی بہاریں چاہئیں تھیں… یہ بہاریں بھی کچھ کر پاتی ہیں کہ نہیں وقت نے ہی طے کرنا ہے ورنہ یہ مٹتے نہیں اور سے اور بنتے چلے جاتے ہیں…
###
امین بڑا ہونے لگا تو رشید بیمار رہنے لگا،مسافروں کے اڈے پر چائے کے ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا،قریب ہی گھر لے لیا تھا مدرسے سے امین کو لانے کے بعد وہیں اڈے پر لے آتا امین ایک طرف بیٹھا پڑھتا رہتا۔
رشید سے اب کام بھی نہ ہوتا،پیٹ میں ایک طرف بہت درد اٹھنے لگا تھا،اس درد کو لئے وہ کام کئے جاتا، کسی قریبی کلینک جاتا انجکشن لگوا آتا،دوا کھا لیتا،درد پھر بھی نہ جاتا۔

ڈاکٹر نے کہا چیک اپ ہوگا اتنے جتن رشید سے نہیں ہوتے تھے انتظار کرنے لگا درد خود ہی جاتا رہے وہ بڑھنے لگا،پھر اتنا بیمار رہنے لگا کہ کام سے بھی گیا ہلا ہی نہ جاتا تو جتن کرتا درد نہ جاتا،بہت دیر اسی حالت میں رہا جلد کا رنگ سیاہ پڑنے لگاا تو اسے تشویش ہوئی درد ناقابل برداشت ہو گیا اپنی جان کی تو اسے رتی بھر پرواہ نہیں تھی فکر اب امین کی تھی وہ نو سال کا ہونے والا تھا اتنا بڑا تو نہیں تھا کہ خود کو بھی سنبھال سکتا اور رشید کو بھی اور اگر رشید کو کچھ ہو جاتا تو اکیلا رہ بھی لیتا۔

گھنٹی بجی رشید کے اندر اسے وہم ہوا کہ یہ موت کی گھنٹی ہے وہ کیسے موت کو بھلائے بیٹھا تھا،بھلائے تو سب ہی بیٹھے ہیں پر وہ اکیلی جان امین کیلئے اسے اپنی موت کی فکر رکھنی چاہئے تھی،رشید بے کل ہو گیا۔
شہر گیا سرکاری ہسپتال سے ٹیسٹ کروائے۔ چاند جو دیسی شرابیں،چرس،گانجا پیتا تھا ان سب کی رپورٹس آ گئی تھیں اس کے گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے اسے جلد سے جلد علاج کروانا ہوگا،زندگی سکڑ سمٹ کر رشید کے ہاتھ میں آ گئی رشید نے زندگی کی آخری لکیر دیکھ لی ڈاکٹر نے اسے صاف صاف بہت کچھ بتا دیا تھا۔
کسی ایک وقت کا عمل کسی دوسرے وقت میں ردعمل دکھاتا ہے تو بال نوچ لینے کو جی چاہتا ہے جس وقت چاند مر جانے کیلئے تیار تھا۔
تب جسم ہٹاکٹا رہا اب اسے امین کے ساتھ رہنا تھا تو قبر کی مٹی یاد کرنے لگی تھی،قبر نے منہ ہی کھول لیا تھا۔
اس سے ایک بڑی غلطی ہو گئی تھی وہ یہ تو سوچے بیٹھا تھا کہ امین کو کسی وقت میں اس کے ماں باپ سے ملوائے گا لیکن ان کا اتا پتا نہیں رکھا تھا جس وقت امین اس کی گود میں آیا وہ سب کچھ فراموش کر بیٹھا اسے جلد سے جلد شہر چھوڑنے کی سوجی،جاوید اور اس کے درمیان یہی طے ہوا تھا پھر وہاں اس محلے میں لوگ ان دونوں کو جانتے تھے۔
وہ وہاں رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ امین کو لے کر وہ سب کچھ بھلا دینا چاہتا تھا لیکن سب بھلا کر اس نے ٹھیک نہیں کیا،امین اس کے ساتھ تھا لیکن وہ کب تک امین کے ساتھ تھا وہ سوچ کر کانپ گیا تھا اب وہ ایک ہی بات سوچ رہا تھا کہ امین کا کیا ہوگا… امین کہاں جائے گا،زندگی کی منصوبہ بندی اس نے کی… موت کی کیوں نہیں کی…؟؟
اس جیسے شخص کو ہی تو موت یاد رکھنی چاہئے تھی… اب اسے ہر شے کا اختتام نظر آ رہا تھا سب کچھ جاتا دکھائی دے رہا تھا، کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
امین کی پیاری صورت دیکھتا تو افسوس کرتا کیا ضرورت تھی اسے لینے کی… اس نے بھی اپنے باپ والی ہی حرکت کی نا ”اپنا کر چھوڑ دینے والی“ امین کی محبت میں پچھتا رہا تھا اب ” اب کسے امین کا خیال رکھنے کیلئے کہتا۔“
چند ہفتے پہلے ہی وہ اس شہر اور علاقے سے ہو آیا تھا جہاں سے جاوید کے ہاتھوں امین کو لیا تھا وہاں ان کا کوئی نشان نہیں تھا ۔
لوگ اتنا جانتے تھے کہ یہاں وہ سبزی والا رہتا تھا اب وہ کہاں ہے انہیں معلوم نہیں تھا۔ جاوید اب کہاں ملے گا؟ رشید کس کے پاس جاتا کہ اس کی مدد کی جائے… وہ ایک مسئلے میں نہیں روگ میں مبتلا ہو چکا تھا۔ امین کے پیار میں پاگل ہو رہا تھا اس کی جان ہلکان ہو رہی تھی،کوئی امید کی کرن نظر نہیں آ رہی تھی اندھیرا ہی گہرا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
اسے سرحدی قصبہ چھوڑ کر پنجاب آنا پڑا،جہاں سے وہ گیا تھا جہاں سے وہ بھاگا تھا بہت سکون میں تھا سرحد میں اب پھر اسی گند کے قریب آ گیا تھا۔
لاہور کی ایک غریب آبادی میں اس نے کرائے کا ایک گھر لیا۔ یہاں سے وہ سرکاری ہسپتال سے مفت علاج کروا سکتا تھا آنا جانا بھی آسان تھا اس کیلئے اب وہ اتنا چاہتا تھا کہ اچھی طرح علاج کروائے اور موت سے زندگی کے صرف چند اور سال گھسیٹ لے اتنے ہی کہ امین تھوڑا سا سمجھ دار ہو جائے اکیلے رہ سکے،امین سرحد کے چھوٹے سے قصبے کا سادہ سے لوگوں میں رہنے والا بھولا بھالا سا بچہ تھا میٹھی میٹھی باتیں کرتا،ہوٹل پر سب کا لاڈلا تھا اجنبی لوگوں کو دیکھ کر ڈر جاتا رشید کے ساتھ ٹک جاتا تھا۔
رشید کے کانوں میں آآ کر سرگوشیاں کرتا وہ اتنا پیارا صابر بچہ تھا کہ چند دنوں کا ہی تھا تب بھی گلا پھاڑ کر نہیں روتا تھا اس نے رشید کو اتنی آسانیاں دیں کہ رشید نے آسانی سے اسے بڑا کر لیا۔
”وہ رشید کی لوری اللہ… اللہ… اللہ ہو…“ پر آنکھیں موند لیتا اور آنکھ کھلنے پر چپ پڑا رہتا۔ وہ رشید کیلئے ایک تحفہ تھا جو گلابی،میاں یا اس کی اپنی کسی دعا کا ثمر تھا۔
رشید کا دل نہیں مان رہا تھا کہ وہ اسے حالات سے آگاہ کرے اس کا سکون چھین لے،وہ سن تو لے گا لیکن سمجھے گا نہیں وہ امین کا بابا جی تھا اور بابا جی کی وہ جان تھا۔
رشید کو اب علاج بھی کروانا تھا،جاوید کو بھی ڈھونڈنا تھا اور امین کا خیال بھی رکھنا تھا۔ اس نے امین کو ایک مدرسے نما سکول میں داخل کروا دیا جہاں وہ شام تک رہ سکتا تھا۔
گھر بیٹھے اس نے بہت حساب کتاب لگائے کہ کیسے جاوید کو ڈھونڈا جا سکتا ہے وہ ہر طرف سے حساب لگا کر ناکام ہو رہا تھا وہ کسی قریبی شہر میں بھی جائے تو اسے ایک دن اور رات چاہئے اور پھر پیچھے امین کا کیا ہوگا… وہ اکیلا گھر میں رہے گا اسے عادت ہی نہیں ایسے اس کے بغیر رہنے کی۔
بہت سوچ بچار کے بعد رشید منہ چھپا کر رات گئے اپنے پرانے ٹھکانے پر گیا اسی بازار جہاں کی وہ دھول تھا۔ وہاں اس کا ایک دوست تھا ”جوبلی“ کل پرزہ تھا،ہر مسئلے میں فٹ ہو جاتا تھا۔
”او حاجی سرکار آئے“ جوبلی نے چھوٹتے ہی اس کی داڑھی پر طنز کیا ۔رشید جانتا تھا وہ ایسا ہی کچھ کہے گا،جوبلی اس سے بہت دیر بغلگیر رہا کئی طرح کے نشوں کی بدبو آ رہی تھی اس میں سے رشید ضبط کئے رہا،ناک کیسے سکیڑ لیتا اپنے کام سے آیا تھا۔
اس کے چار پانچ اور طنز سن کر رشید نے اسے اپنا مسئلہ بتایا وہ سنتا رہا۔
رشید کا دل امین کی طرف سے الگ پریشان تھا اسے سلا کر آیا تھا اکیلا کبھی وہ سویا نہیں تھا اس کے سینے پر سر رکھ کر سوتا تھا۔ دن کے وقت وہ یہاں آنا نہیں چاہتا تھا سو دوسرے لوگ پہچان لیتے ہیں اور دن میں جوبلی شاز ہی کسی کو ملتا تھا اس کا دیدار رات ہی کو ہو سکتا تھا۔
رشید جوبلی کے ساتھ اس کے اڈے پر ایک ہی چارپائی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ کس سودے کیلئے اس خرانٹ دلال کے پاس آیا ہے وہ بھی رات کو… راتیں گناہی دن بھلے…
جوبلی اپنی ہانک رہا تھا رشید اپنی سوچ رہا تھا… ساتھ پیتے پیتے جوبلی منحوس نشے میں آتا جا رہا تھا۔ رشید اس کی بکواس پر سر ہلا رہا تھا… ابھی تک جوبلی نے ہاں نہیں کی تھی کہ ”چاند بابو مسئلہ ای کوئی نئیں“۔
جوبلی اگر صرف اتنا کہہ دے گا تو بس پھر کام بن گیا اس کا سر ہلا دینا ہی کافی ہوتا تھا،یہ جوبلی کا سر ہلا دینا ہوتا تھا کسی عام آدمی کا نہیں،نام نجانے کیا تھا جوبلی سینما کے نام سے بازار میں جوبلی جوبلی بلایا جانے لگا۔
ہر جگہ ہر پنگے میں ہوتا تھا ہر شخص کو جانتا تھا۔ ہر ایک سے دوستی تھی اور انہی سے دشمنی تھی۔ اچھا تو جانے کن کن کے ساتھ تھا لیکن برا بہت سوں کیلئے تھا۔
بات بعد میں کرتا گالی پہلے دیتا بہت سی گالیوں کا موجد تھا ہر گالی میں استاد تھا۔ ایک پیک جیب میں رکھتا گھونٹ گھونٹ پیتا رہتا۔
رشید سے چند سال ہی چھوٹا تھا بھینسے کی طرح پھٹا ہوا تھا،ہمہ وقت سر گنجا رکھتا،چلتے ہوئے آس پاس والوں کو دھکے دیتا ٹھڈے مارتا،آگے پیچھے ہنٹر مارتا رہتا،کوٹھے پر کوئی نوٹنکی کرتی جوبلی کا نام ہی کافی تھا گردن سے پکڑ کر چوبارے سے لٹکا دیا کرتا… سارا بازار نوٹنکی والی کا تماشا دیکھتا رہ جاتا یہ گردن چھوڑ ٹپکانے کو تیار رہتا،ہر احساس سے عاری… ہر برائی کی جڑ ”جوبلی“۔
رشید مر کر بھی جوبلی کے پاس نہ آتا پر وہ جانتا تھا کہ اب صرف یہ جوبلی ہی ہے جو یہ کام کر سکتا ہے۔ ہر طرف اس کے رابطے تھے، نہیں بھی تھے تو وہ بنا لیتا۔ رشید ملنگ بنا جوبلی کے ساتھ بیٹھا تھا جوبلی کو دیکھ دیکھ کر بڑی طمانیت ہوئی۔ اندر ہی اندر اکڑ رہا تھا رشید کے نام کا ڈنکا بجا کرتا تھا اور اس ڈنکے سے ہی وہ حاسد تھا جلتا تھا۔ کبھی دونوں ساتھ ساتھ کے تھے،اب کیسے رشید مسکین بنا اس کی منت کر رہا تھا… جوبلی نے گلاس بھر کر رشید کے آگے کیا رشید نے جزبز ہو کر اسے دیکھا ”میں علاج کروا رہا ہوں ڈاکٹر نے منع کیا ہے“ رشید جوبلی کو یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں اب پیتا نہیں یہ کہہ دیتا تو کام کیسے نکلواتا۔

”یہ کیوں نہیں کہتا کہ تو حاجی ہو گیا ہے“ وہ مکروہ ہنسی ہنسا چاند پر بری گزری یہ بازار اس کی بنیاد نہ ہوتا ،امین اس کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ سینہ ٹھونک کر کہتا ہاں ہو گیا ہوں،پر امین کیلئے نہ کہہ سکا جوبلی سے کام جو تھا۔
میرا کم ہو جاوے گا جوبلی؟ رشید نے براہ راست پوچھ ہی لیا… چاند کا سر ایسے ہلتا رہا جیسے مجرا دیکھتے ہلتا تھا نہ ہاں نہ ناں… رشید کا دھیان امین میں لگا ہوا تھا۔
”اک لاکھ دا گا“ رشید نے ناچار کہہ ہی دیا پیسے کا ہی شیدائی تھا۔ جوبلی کی نشیلی آنکھیں پوری کھل گئیں۔ کون نہیں جانتا تھا کہ رشید کتنا پیسے والا ہے…
”ایہ کیہ گل کیتی میں حاضر آں“ جوبلی کی زبان بھی ہلی اور سر بھی،رشید مطمئن ہو کر گھر آ گیا۔ امین آنکھیں کھولے لیٹا تھا،رشید کی ہر بات مانتا تھا اس لئے لیٹا رہا لیکن سو نہ سکا۔

”میرا لال سویا نہیں“ رشید نے اسے بانہوں میں بھر لیا“
”بابا جی مجھے بھوک لگی تھی“ امین کی ایک عادت تھی اسے زیادہ بھوک نہیں لگتی تھی لیکن سوتے ہوئے وہ دو تین بار اٹھ کر چند نوالے ضرور مانگتا تھا… رشید بہت شوق سے بار بار اٹھ کر کھانا گرم کرتا اور اپنے ہاتھ سے اسے نوالے کھلا کر سلا دیتا۔
بھوک کا سنتے ہی رشید نے فوراً کھانا گرم کیا اور اسے کھلانے لگا بہت خوبصورت تعلق تھا دونوں کا… ایسے ہی تعلق کیلئے انسان ترستے ہیں۔
دوبارہ رشید کے گردے واش ہو چکے تھے،وہ بہت لاغر ہو چکا تھا اس کی بیماری بڑھ رہی تھی۔ وہ بار بار جوبلی کی طرف چکر لگاتا جوبلی بہانے بہانے سے اور پیسے لیتا،پھر جوبلی رشید کے گھر چکر لگانے لگا،اپنی عادت کا حامل امین جوبلی کے حبثے کو دیکھ کر ڈر گیا اور رشید کے پیچھے چھپ گیا۔
اس بدمعاش نے جانتے بوجھتے ہاتھ بڑھا کر امین کو اپنے سامنے کیا ”پتر جی مکھڑا وکھاؤ ذرا“۔
رشید ضبط کئے بیٹھا رہا اب وہ جوبلی کو کیسے کہتا کہ بچے کا ہاتھ چھوڑ دے وہ ڈر رہا ہے۔ اتنی سی بات پر جوبلی مرنے مارنے پر تل آتا۔ امین باقاعدہ رونے لگا۔
”بڑا ڈرپوک اے کاکا“ جوبلی ہنسنے لگا رشید ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا یہ وقت بھی آنا تھا۔ جوبلی جیسے لوگ امین پر تبصرہ کر رہے تھے اسے رلا رہے تھے۔
جوبلی رشید کے گھر آتا،ادھر ادھر کی سنا کر چلا جاتا،اس سے ملا،اس سے ملا،یہ کیا وہ کیا… اس کو کہا،اس کو کہا۔
قیامت کا وقت جا رہا تھا رشید تکلیف سے بے حال رہتا تھا چھ مہینے پہلے گردے واش ہوئے تھے اب تین ماہ بعد ہونے تھے۔ اس بار امین کو کہاں چھوڑتا… پہلی بار جوبلی کے پاس چھوڑ گیا تھا دوسری بار اپنے ساتھ ہسپتال لے گیا تھا گم ہوتے ہوئے بچا تھا امین وہاں۔ اب بھی اس کی جان نکل رہی تھی یہ سوچ کر کہ امین پھر سے اس بازار کے کسی ٹھکانے پر رہے گا۔
امین… قرآن پاک کا مقدس غلاف… اسے کیسے پھر سے وہاں چھوڑ دے۔
رشید نے ناچار پھر سے صرف ایک ہی بار امین کو سمجھا دیا۔
”بیٹا جوبلی انکل کے ساتھ چلے جاؤ میرا ہسپتال جانا ضروری ہے یہاں بہت درد ہوتا ہے“ سر ہلا کر امین نے سر جھکا لیا… ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے،رشید کا دل کٹ گیا،ہائے ہائے کرنے لگا۔
”میرے بچے مجھے معاف کر دے“ رشید نے ہاتھ جوڑ دیئے“
”یہ کیا کر دیا میں نے تیرے ساتھ،تجھ سے پھول کو کہاں چھپاؤں“
جوبلی کے پاس رہ کر امین کچھ کھاتا پیتا نہیں تھا گم سم ایک طرف بیٹھا رہتا۔
رشید کے بغیر وہ رہتا نہیں تھا جوبلی جیسے بندے کے ساتھ اسے رہنا پڑ رہا تھا۔ جوبلی کے اڈے پر بابا جی نہیں تھے جو اسے اپنے سینے پر سلاتے اور نوالے توڑ توڑ ہاتھ سے کھلاتے۔ امین کو جوبلی کے پاس چھوڑ کر رشید ہسپتال آ گیا،گھنٹے بعد ہی بھاگ آیا بنا واش کروائے۔
امین کو ساتھ لیا اور گھر آ گیا۔ جوبلی کی منت کی کہ جلد سے جلد اس کا کام کردے اب علاج نہیں کروائے گا وہ تو مطلب جلد ہی بستر پر پڑنے والا تھا پھر قبر میں وہ چاہتا تھا کہ رات سے دن نہ ہو اور جاوید مل جائے۔
اس نے اخبارات میں اشتہار بھی دیئے لیکن نتیجہ صفر ہی رہا۔ وہ جاوید اور نوری کو ڈھونڈ رہا تھا وہ دونوں اپنا بچہ نہیں ڈھونڈ رہے تھے۔
رشید بدترین وقت سے گزر رہا تھا اس کے گردوں میں ناقابل برداشت درد اٹھتا… ڈاکٹر کے پاس انجکشن لگوانے جاتا درد رفع کرنے کی دوا مانگتا وہ ڈانٹ کر بھگا دیتے۔
زندگی کے گنے چنے دنوں کی گنتی اور کم ہو گئی۔
کیسی قسمت تھی رشید کی پہلے وہ باپ سے الگ ہوا اور اب اسے اپنے بیٹے سے الگ ہونا تھا سکندر وہ انسان ہوتا ہے جو زندگی کی ہرخوشی پر مکمل فتح پاتا ہے۔ وہ وہ سکندر نہیں تھا۔
چند مہینے ایسے ہی گزر گئے وہ درد کو لئے چلتا پھرتا رہا تکلیف سے بلبلاتا… تڑپتا… گردے پھٹنے کے قریب لگنے لگتے… اور ایک دن خون کا اخراج شروع ہو گیا یہ آخری سنگین علامت تھی اب سمجھ لینے میں دیر کیسی… اب وہ لبیک کہے نہ کہے موت لبیک کہلوا کر ہی جائے گی۔
راتوں کو اٹھ اٹھ کر رشید کو چومنے لگا اس سے بار بار معافی مانگتا۔
”میری خواہش تجھے لے ڈوبی“ سینے سے لگائے روتا رہتا۔“
اگلے دن نئے لوگوں سے ملتا،جوبلی کا سر کھاتا…
”حوصلہ… حوصلہ… مل جاوے گا…“ جوبلی تسلی دیتا… جاوید ملتا تب نا جب جوبلی ڈھونڈتا… اصل جونک تو جوبلی تھا،پیسہ چوس رہا تھا رشید کا۔ رشید اپنے حال سے اتنا بے حال نہ ہوتا تو جوبلی کو جان ہی جاتا۔
اب حالات اتنے ہی خراب ہو چکے تھے تو رشید نے کچھ اور ہی سوچنا شروع کر دیا تھا جاوید تو مل کر ہی نہیں دے رہا تھا نہ ہی ملتا نظر آ رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ امین کو کسی اچھے ادارے میں داخل کروا دیتا ہے… دو تین سال کی بات تھی پھر وہ کافی بڑا ہو جائے گا… خود کو سنبھال لے گا… پیسے رشید کے پاس تھوڑے بچ گئے تھے اس کا کام بن سکتا تھا جیسے تیسے وہ چودہ پندرہ سال کا بھی ہو جاتا تو کافی تھا۔
رشید اب ایسے کسی ادارے کی تلاش میں تھا جہاں امین چند سال اچھے ماحول میں گزار سکے۔ رشید امین کو اچھی طرح سے سمجھانے والا تھا کہ اسے آئندہ زندگی میں کیا کیا کرنا ہے،کیسے رہنا ہے… اپنے ماں باپ کو ڈھونڈنا ہے ورنہ پڑھ لکھ کر اچھی زندگی گزارنی ہے… زندگی برے موڑ پر آئی ہے تو اچھے موڑ پر بھی آ ہی جائے گی… رشید نے اگر کچھ بگاڑ دیا تھا تو سنور بھی سکتا تھا… رشید کو کچھ سکون ملا،امین کا ذہن ساتھ ساتھ بنا رہا تھا بہت سے ادارے تھے جو اس کی نظر میں تھے جہاں وہ پرورش حاصل کر سکتا تھا،پڑھ سکتا تھا اور محفوظ بھی رہ سکتا تھا۔
وہ باری باری ان اداروں میں جا رہا تھا ماحول دیکھ رہا تھا۔
انتظامات کی پڑتال کر رہا تھا۔ ایک تو اسلامی ادارہ تھا جو بچے کو بالغ ہونے تک پاس رکھتے تھے حافظ بناتے تھے میٹرک تک تعلیم دلواتے تھے،اخراجات بھی زیادہ نہیں تھے اس ادارے کے… رشید نے سوچا باقی پیسے وہ امین کے نام ڈپوزٹ کروا سکتا ہے وقت آنے پر وہ نکلوا لے گا… اسلامی ادارے میں بچے کو پانچ سال کی عمر سے لیا جاتا تھا لیکن رشید نے ان سے خاص درخواست کی… انہیں اپنی مجبوری،اپنی بیماری اور اکیلا ہونے کے بارے میں بتایا… ادارے والے مان گئے… امین کا داخلہ وہاں ہو گیا… رشید اسے ہفتے میں ایک بار مل سکتا تھا۔
رشید تڑپ تڑپ کر روتا رہا… چند دن بعد وہ اس کا سامان پیک کرنے لگا… موت کا فرشتہ بھی آ جاتا تو وہ اس کی منت بھی کر لیتا کہ مجھے مہلت دے دو مجھے میرے امین کے پاس رہنے دو… اور امین اس سے اتنا پیار کرتا تھا کہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ دفن ہو سکتا تھا۔
جوبلی آیا ادھر ادھر کی نئی خبریں لایا… جاوید کا پتا نہ لایا۔ رشید امین کے کپڑے بیگ میں رکھ رہا تھا ساتھ ساتھ بتا رہا تھا کہ دو دن بعد امین چلا جائے گا… حافظ بنے گا،عالم بنے گا… ساتھ ساتھ ہچکیوں سے رو رہا تھا۔
جوبلی ہوں ہاں کرتا رہا پھر رشید کے کان میں سرگوشی کی ”جاوید کے گھر کا پتا ملا ہے چل کر دیکھ لے وہی ہے کہ نہیں۔“
رشید کے ہاتھ پاؤں پھول گئے خوشی سے،امین کو گھر میں ہی چھوڑ کر وہ جوبلی کے ساتھ آ گیا۔ جوبلی اسے دو گھنٹے گھماتا رہا… بار بار فون کرتا رہا… ایک دو جگہ رکا… جاوید کا پوچھا… جاوید ان گھروں سے نہ نکلا… مایوس رشید گھر واپس آ گیا۔

گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا… امین سے کنڈی لگوا کر تسلی کرکے ہی وہ گیا تھا،امین کو اندر ہی ہونا چاہئے تھا۔ رشید کے گھر کوئی آتا نہیں تھا پھر بھی امین کو رشید نے کہہ رکھا تھا کہ کوئی بھی دروازہ کھٹکائے دروازہ نہیں کھولنا… لیکن اب دروازہ کھلا ہوا تھا،امین وہ بچہ ہی نہیں تھا جو کھیلنے یا کسی اور کام سے گھر سے باہر جاتا۔ رشید پر انوکھی کیفیت ہو کر گزری… موت سی،اس نے جوبلی کو فون کیا کہ اسے بتائے کہ امین یہاں کہیں نہیں ہے آکر اس کی مدد کرے… وہ آس پاس کئی بار دیکھ آیا تھا آثار اچھے نہیں تھے اس کا دل ڈوب رہا تھا اسی لئے فوری جوبلی کو فون کیا… جوبلی کے جواب سے رشید ڈگمگا کر گر گیا اور زمین کی رفتار کے ساتھ گھومنے لگا۔

”کاکا میرے پاس ہے پیسے دے اور لے جا“
پیسے… پیسے… پیسے… یہ پیسہ سب برباد کر چکا ہے برباد کو بھی اور برباد کرے گا…؟ کتنا اور…؟
جوبلی کو اور پیسے چاہئے تھے اتنے پیسے تو وہ اسے دے چکا تھا یکدم رشید پر آشکار ہوا… رشید کیسے بھول گیا کہ جوبلی پرانا تعلق اس کے ساتھ نبھائے گا؟ اسے سب سمجھ آ گئی کہ جوبلی نے دراصل جاوید کو ڈھونڈا ہی نہیں اس سے بہانے بہانے سے پیسے لیتا رہا تھا کبھی بیس،کبھی تیس ہزار…
رشید نے کیسے توقع کر لی کہ وہ اس کے ساتھ کوئی بھلائی کرے گا،وہ بازاری ہے بھاؤ کرے گا یا چاؤ؟
رشید غصے سے کھولنے لگا،وہ اس کے اتنے پیسے کھا چکا تھا اب تو وہ اسے ایک کوڑی بھی نہیں دے گا،اسے دے دیئے تو امین کیلئے کیا بچے گا… اس پیارے امین کا کیا ہوگا جو پیاری پیاری من موہنی باتیں سیکھ چکا ہے۔

پیارے امین بڑے پاپا کا کیا نام ہے؟
بابا رشید… میرے پیارے بابا جان
سب سے بڑے بابا کا؟
میاں جی… اللہ انہیں پیار سے اپنے پاس رکھے۔ ”آمین“
ابو… امی؟
پیارے ابو جی جاوید اور پیاری امی نور فاطمہ
اور امین کون؟
امین… بابا کا بیٹا بابا کی جان… میاں جی کا بیٹا…
پیارے امی ابو کا پیارا… امین سب کا پیارا… سب پیارے… امین بھی پیارا… ”آمین“ دونوں ہاتھ منہ پر پھیر کر رشید کی آنکھوں پر رکھ دیتا۔
ہم سب مر جائیں گے نا امین پیارے؟
جی بابا! سب…
جو مر جائیں گے وہ کیا کریں گے؟
”وہ اللہ میاں جی کے سوالوں کے جواب دیں گے
جو زندہ رہیں گے وہ کیا کریں گے میرے چاند؟؟
وہ دعا کریں گے ہاتھ اٹھا کر اللہ میاں جی سے کہیں گے سب کو معاف کر دو نا۔ ”آمین“
تم یہ دعا کرتے رہو گے؟؟
ہمیشہ بابا جی… ہمیشہ… ہر روز… سونے سے پہلے… اٹھنے کے فوراً بعد… اللہ میاں جی سب کو معاف کر دو۔
”آمین“
”ہم سب مر جائیں گے نا… میں مر جاؤں گا تو روؤ گے تو نہیں امین بیٹے۔“
اس نے سر نفی میں ہلا دیا ”پر میں کس کے ساتھ سوؤں گا۔“
رشید نے بڑھ کر اسے چٹا چٹ چوما ”بہادر بن جاؤ۔“
میں بہادر ہوں… اللہ میاں جی سے محبت کرتا ہوں،میں بہادر ہوں بابا جی۔“
اس نے کہہ تو دیا لیکن اکیلا کوئی بھی بہادر نہیں ہوتا،اپنوں کے بغیر رہنا سیکھ لینا… یہ بہادری کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا۔
الٹے پیروں رشید غصے میں جوبلی کی طرف آیا… بازار سے ذرا پرے اس کا اڈہ تھا جہاں رات رات بھر شراب اور دوسرے نشے چلتے رہتے کالج یونیورسٹی کے لڑکے لڑکیاں چرس خریدنے آتے اور لڑکے نشہ کرکے وہیں پڑے ہوتے ساتھ ادھر ادھر کے دوسرے غنڈے بدمعاش بھی موجود ہوتے۔
خون کا دباؤ رشید میں بڑھ رہا تھا اس کا دماغ اور پیٹ پھٹنے کے قریب تھے،غصے سے وہ اندھا ہو رہا تھا اور لڑکھڑا کر گر رہا تھا۔
”امین پیارے‘ رشید سسکنے لگا میں نے تیرے ساتھ ٹھیک نہیں کیا“ راستے بھر وہ روتا رہا اس کے اندر ٹن،ٹن چھڑی تھی… خدا جانے کس گھڑی کی آمد کیلئے چھڑی تھی۔اڈے سے پرے ہی رشید نے آستین سے اچھی طرح آنکھیں صاف کر لیں… مگر آنکھیں سرخ ہی رہیں… غصے سے کپکپاہٹ جو چھڑی تھی وہ تھم ہی نہیں رہی تھی… خود کو قائم دائم رکھے جب رشید وہاں پہنچا تو جو پہلا منظر اس نے دیکھا اس منظر کو دیکھنے سے پہلے کاش وہ تیز دھار آلے سے خود کا گلا کاٹ لیتا۔

ایک موٹے گجر بدمعاش کی ایک ٹانگ کو امین اپنے چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے ہاتھوں سے زمین پر بیٹھا دبا رہا تھا بہت روتا رہا تھا۔ گم صم ہچکی ابھی بھی بندھی تھی،جوبلی ذرا فاصلے پر کرسی پر بیٹھا پی رہا تھا… ادھر ادھر چند نشئی لڑکے بیٹھے تھے۔ جوبلی جانتا تھا کہ رشید بس آیا کہ آیا اور اس نے جان بوجھ کر امین کو اس کام سے لگایا تھا۔
رشید بے چارہ ڈھلی ہوئی عمر کا کھنڈر… ناکارہ گردوں اور کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ امین کی طرف لپکا۔
جیسے ہی امین کی طرف جھکا گجر بدمعاش نے ایک زور دار لات اس کے منہ پر دھری… رشید درد سے ضرور بلبلاتا لیکن وہ امین کیلئے پہلے ہی بلبلا رہا تھا… اسی گجر نے دو تین اور رکھی۔
”طریقے سے بات کر چاند… بچے کو ہاتھ نہ لگا“
جوبلی امین کو گھسیٹ کر اندر کر آیا… امین بابا بابا چلانے لگا۔
”یہ دیدے اندر کر چاند… تو مجھے جانتا نہیں“ وہ بھونک رہا تھا جوبلی اطمینان سے کرسی پر بیٹھا تھا جیسے الحمراء ہال میں تھیٹر دیکھ رہا ہو،نشئی لڑکوں نے سر اٹھانے کی زحمت بھی نہ کی… رشید درد سے دہرا ہوتا اندر امین کی آواز کی طرف لپکا… جوبلی کے دو آدمیوں نے اسے گھسیٹ کر نیچے پٹخا… گجر بدمعاش نے اپنی وزنی ٹانگ اس کی گردن پر رکھی اور پورا زور ڈال دیا… وہ ڈھائی تین سال سے بیمار تھا ڈیڑھ سال سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھا وہ تو ایک بچے سے مقابلہ نہیں کر سکتا تھا کہاں اس موٹے سانڈ سے مقابلہ کرتا اس کی ٹانگ کے نیچے تڑپتا رہا… جابجا خون نکلنے لگا اٹھنے کی ہمت نہ رہی،اس سانڈ نے لاتوں کی برسات کر دی ساتھ گالیاں دے رہا تھا خوب دل لگا کر مار رہا تھا۔
”کہا ہے ٹک کر بات کر… ادھر کدھر جا رہا ہے…؟؟
تیرے یار ادھر بیٹھے ہیں… ادھر بات کر… پیسے رکھ ادھر اور لے جا اسے…“
لاتیں اس کے پیٹ میں لگیں رشید درد سے چلانے لگا،چلاتے ہوئے بھی امین کا نام ہی لے رہا تھا… دور کہیں اندر سے اسے بابا… بابا کی آواز آ رہی تھی۔
”کوئی کہہ گیا ہے کہ جو محبت کر لیتا ہے وہ کسی اور کام کا نہیں رہتا“ رشید اس کہے کی زندہ تصویر بنے ہیرا منڈی کی زمین پر تکلیف سے،کرب سے،محبت سے بلبلا رہا تھا،وہ امین کے علاوہ ہر کام سے گیا۔
یہی وہ بازار تھا اور یہی وہ لوگ تھے جنہیں وہ چٹکی سے دھول سے برباد کر سکتا تھا کیا اوقات تھی جوبلی کی اس کی جھوٹی شراب اور سگریٹ کے ٹوٹے پیا کرتا تھا،اس کی ٹانگیں دبایا کرتا تھا،اسی اڈے پر وہ سب موج مستی کرتے تھے اپنی من پسند محفلیں لگاتے،جھومتے،جوا کھیلتے تھے،آج نرالا ہی کھیل کھیلا جا رہا تھا،اسی کا امین اور اسی سے پیسے…؟
رشید کی کنپٹیاں سلگنے لگیں،اس کا جی چاہا ایک ایک کا خون کر دے… رشید اٹھا اور جوبلی پر جھپٹا اس کا گلا دبوچ لیا… رشید تو شیر بن چکا تھا۔
جوبلی کی اتنی ہمت قرآن پاک پڑھنے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے والے ہاتھوں سے اس غلیظ بدمعاش کی ٹانگیں دبوائے،اس پر اپنا جوا کھیلے امین کا سودا کرے… ہیرا منڈی میں ایک فرشتے کا سودا،یہ کم ذات بازار والے کیا جانیں امین کیا ہے؟ وہ سب کیلئے مغفرت ہے… سرکارﷺ کا نام لے کر چومنے والا… اس کے سینے پر سر رکھے درود پڑھتے پڑھتے سو جانے والا،امین کیا ہے؟ کوئی رشید چاند سے پوچھے… اپنی پیاری آواز سے لوری دے سلانے والا۔
”اللہ ہو… اللہ ہو… پیارے ہمارے اللہ… اللہ ہو جی اللہ ہو…“
اس بازار میں اس کے دام لگانے لائے ہیں؟
گردن رشید کے کانپتے ہاتھوں میں جکڑی تھی،اڈے پر موجود باقی بدمعاش رشید پر بل پڑے،ایک نے پستول نکال کر اس کی کنپٹی پر رکھ دی… سب مل کر رشید چاند کو مارنے لگے۔
گلابی مر چکی تھی… میاں جی کا خدا جانتا ہے کیا بنا… رشید چاند بدمعاشوں کے ہاتھوں پٹ رہا ہے امین بابا بابا چلا رہا ہے۔

کیا یہ سب قسمت کے کھیل ہیں؟
میاں کو کس نے کہا تھا ہیرا منڈی آکر گناہ کرے؟
رشید چاند دلال نہ بنتا تو کیا بنتا؟ حلال کے ہوتے ہوئے بھی جاوید نے اپنے بچوں کی دکان سجائی وہ اگر دلال نہ بنتا تو امین کہاں ہوتا؟
یہ سب تو انسان کے رچائے کھیل ہیں جو کھیل انسان رچاتا ہے ان میں ہار جیت نہیں ہوتی ان کے بھیانک انجام ہوتے ہیں… اور وہ صرف انجام نہیں کہلاتے… انہیں کئی نام مل جاتے ہیں جو کچھ انسان کے ہاتھ میں آتا ہے برباد ہی ہوتا ہے ”نفس“ کو ہی دیکھ لیں۔
امین… امین… بابا… بابا… یہ آوازیں اڈے پر گونجتی رہیں… ان میں سے ایک آواز بند ہو گئی۔
جوبلی نے غصے میں باؤلے کتے کی طرح رشید کو ادھیر ڈالا،رشید کی اتنی ہمت کہ وہ اس کی گردن دبوچے… جوبلی تو اسے کچا نہ کھا جائے… اس نے سب کو پرے کر دیا ور بھیڑے کی طرح اسے چیر ڈالا۔

رشید کب کا بے ہوش ہو چکا تھا… جابجا خون نکل کر پھیل چکا تھا۔
دو بدمعاش اسے گھسیٹ کر سڑک کنارے پھینک آئے۔
رات گئے سڑک کنارے خون میں لت پت ایک لاش کو چند راہگیروں نے دیکھا تو ایدھی سنٹر فون کیا،ایمبولینس آئی،اس کی سانسیں ابھی باقی تھیں… اسے ایمرجنسی میں قریبی ہسپتال لے گئے۔
رشید کی بس سانسیں ہی باقی تھیں،خون بہت نکل چکا تھا،اندر سب کچھ ختم ہو چکا تھا… تین دن وہ سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں رہا… وہ چند گھنٹوں یا زیادہ سے زیادہ چند دنوں کا مہمان تھا،اسے وارڈ میں شفٹ کیا جا رہا تھا۔
وہ موت سی نیند میں تھا… کپکپاتی پلکوں اور بے چین پتلیوں کے ساتھ… اندر کہیں بہت اندر… امین… امین کرتا…
اسے وارڈ میں لے جایا جا رہا تھا… وہ کالی سیاہ چادر میں ملبوس ایک سوگوار عورت کے قریب سے گزرا… وہ چونکی اسے سمجھ آئی نہ یاد آیا کہ وہ کیوں چونکی… آخر کیوں؟
”یہ کیا ہوا تھا رشید بھائی؟ اشارہ پیشانی کی طرف تھا۔

”چند بدمعاشوں سے بھڑ گیا تھا آنکھ بچ گئی ورنہ آج کانا ہوتا۔“
پیشانی سے کنپٹی کی طرف آتا نشان تھا جو رشید کو تیز دھار چاقو سے لگا تھا اس پر نظر پڑتے ہی پہی نظر اس نشان کی طرف اٹھتی… سالوں بعد یہ نظر اس سوگوار عورت نوری کی بیڈ پر پڑے نیم مردہ بوڑھے پر پڑی تو وہ چونک گئی۔
”رشید“ وہ بڑبڑائی… گم سم نہ جاننے کی کیفیت لئے کھڑی رہی۔
رشید نے داڑھی رکھ لی تھی… بیماری کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکا تھا… لاغر اور بوڑھا…
”رشید“ پھر سے بڑبڑائی۔ اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے اس کا… وہ وہاں اماں کے ساتھ آئی تھی ماں آنکھ کے موتیے کا آپریشن کروانے آئی تھیں۔ وہ سب جاوید کو پسند نہیں کرتے تھے نہ ہی نوری کے گھر آئے تھے… نوری ہی ملنے چلی جاتی تھی۔ اماں بھائی کے ساتھ گاؤں سے سیدھی ہسپتال آئی تھیں اور نوری اپنے گھر سے اماں کے پاس آ گئی۔
نوری دو قدم چلی رک جاتی… زخم کا نشان اس کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا وہ بے چاری خود بھی کم ہی حواسوں میں رہتی تھی… یاد ہی نہ کر سکی…
رشید… کون رشید…؟؟
”رشید بھائی“ گم گفتہ خو اس کی مالک نوری نے چیخ ماری… یہ چیخ اس کے اندر کے سناٹے کو چیر کر نکلی۔ کوریڈور میں موجود سب لوگ اسے دیکھنے لگے۔
”میرا بچہ رشید بھائی…“ اس نے ایک اور دہائی دی،جی چاہا کہ دیواریں گر جائیں اور وہ رشید تک جا پہنچے۔
اس کا بھائی چند ضروری چیزیں لینے میڈیکل سٹور گیا تھا اماں کا آپریشن ہو رہا تھا۔ وہ اس طرف کو بھاگی جس طرف رشید کو لے جایا جا رہا تھا،وہ باؤلی ہو کر بھاگی،سر کی چادر گلے میں جھولنے لگی۔
”رشید بھائی“ پاگل تھی نوری بھاگتے ہوئے آوازیں دے رہی تھی جیسے وہ چھپا بیٹھا ہو خود سے۔
”رشید بھائی کہاں ہو“ وارڈ اسے نظر ہی نہیں آ رہا تھا جبکہ وہ اسی وارڈ کے قریب سے گزر کر آئی تھی۔
”مجھے رشید بھائی کے پاس جانا ہے“ اس نے قریب سے گزرتی ایک نرس کا بازو ہلا ڈالا۔
”وہاں کاؤنٹر پر معلوم کرو“ نرس بگڑ کر بولی۔
وہ کاؤنٹر کی طرف بھاگی۔ رشید…؟ انہیں کیا معلوم کون رشید؟ وہ مریض نامعلوم تھا… بیڈ نمبر کے ساتھ نام اس کا کسی کو معلوم نہیں تھا۔ وہ اس کے زخم کا بتانے لگی پھر بھاگ بھاگ کر ایک ایک وارڈ دیکھنے لگی ایک ایک بیڈ کے پاس جاتی… تیسرے وارڈ کی دوسری قطار کے آخری بیڈ پر اسے رشید چاند نظر آ گیا۔
”رشید بھائی“ وہ چلائی اور اس کے وجود کو اپنے دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑ ڈالا اٹھیں… میں نوری… میرا بچہ کہاں ہے… آپ… آپ کو کیا ہوا؟ وہ کیسا ہے… کس کے پاس ہے… رشید بھائی… میرا بچہ… میرا بیٹا…“
اندھا بھی رشید کی حالت دیکھ کر سمجھ جائے کہ وہ اٹھ کر بیٹھنے یا بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہے وہ اس کا بازو جھنجھوڑ رہی تھی۔
رشید بھائی… رشید بھائی چلا رہی تھی… ایک مریض کی رشتے دار نرس کو بلا لائی،وارڈ میں موجود سبھی مریض اور عورتیں اسے دیکھ رہے تھے نرس آئی۔
”پاگل ہوئی ہو کیا مسئلہ ہے… نظر نہیں آ رہا آخری سانسیں لے رہا ہے… کون ہو تم اس کی؟
”آخری سانسیں؟ نوری نے ذرا غور سے رشید کو دیکھا۔“
”یہ کیسے آخری سانسیں لے سکتا ہے اس کے پاس تو میرا بیٹا ہے… یہ کیسے؟
”میں ان کی بہن ہوں… یہیں رہنے دے مجھے“
طریقے سے رہو اور لوگ بھی ہیں یہاں ”نرس منہ بنا کر چلی گئی نوری کھڑی رونے لگی۔

کیا یہ مر رہا ہے؟ کیوں مر رہا ہے؟ کیسے مر سکتا ہے؟ نوری پور پور جھنجھنا اٹھی بلبلانے لگی۔
وارڈ میں موجود ہر شخص اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ دیکھے جانے والی حالت لئے ہی کھڑی تھی۔
”بھائی ہے یہ میرا“ساتھ کے بیڈ کے مریض کی ایک عورت ٹانگیں دبا رہی تھی گردن موڑے ٹکٹکی لگائے نوری کو بھی دیکھ رہی تھی تو نوری نے رندھے گلے سے اسے بلاوجہ ہی بتایا۔
عورت نے افسوس لئے سر ہلا دیا۔
”میرے بچے کا باپ ہے“ بلاوجہ ہی بتایا عورت کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کے قریب ہو گئیں۔
بھائی… بچے کا باپ؟
نوری بیڈ کے قریب جھک کر رشید کے منہ کے پاس ہوئی۔
”رشید بھائی“ سرگوشی کی ایک آنکھ وارڈ کی طرف رکھی اِکا دُکا ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے… بہت دیر تک سرگوشیاں کرتی رہی… رشید بھائی… بچہ… میرا بچہ…
اب نوری ساری دنیا ہار کر وہاں کھڑی تھی ایک ایسی دنیا جو سودے کرکے اس نے بسائی تھی۔
ایک ایسی ماں جس کے بچوں نے اسے ترنوالے کھلائے تھے۔ اب ایسی عورت جب ماں بنے گی تو قیامت سے گزرے گی۔ وہ بچوں کو پیدا کرنے کے بعد ماں نہیں بنی تھی… وہ انہیں کھا چکنے کے کہیں بہت دیر بعد ماں بنی تھی۔
”ایسی عورت پر خدا رحم کرے۔“
”ایسی عورت پر سب ملکر رحم کریں۔“
نوری کا بھائی اسے ڈھونڈتا پھر رہا تھا ناکام ہو گیا تو اکیلا ہی اماں کو لے چلا گیا اس نے سوچا کہ نوری اپنے گھر واپس چلی گئی ہوگی،الٹ پلٹ سی ہو گئی تھی تو ایسی ہی حرکتیں کرتی تھی سب جانتے تھے جبکہ وہ بت بنی رشید کو تکے جا رہی تھی۔
جیسے رشید اس کا بچہ لے کر بھاگ گیا تھا اب ہاتھ آیا تھا… نوری خاکوں خاک ہو کر اسے ڈھونڈتی رہی اب ملا یہ رشید… اس کا بچہ لے جانے والا۔
”مل گئی بدھائی نوری… منے کی میّا… ملا کچھ؟ خدا کی پناہ یہ منحوس ماری آواز کس تہہ خانے سے پھر نکل آئی؟
نوری نے ڈر کر آنکھیں میچ لی… پسینے پسینے ہو گئی… صدیوں کی پیاسی لگنے لگی۔
”کیسی رہی بدھائی؟ میری بدھائی کھا گئی… کیسی رہی نوری…؟

درو دیوار پر اس آواز کے گھڑیال لٹک گئے… اس کے سر پر تن گئے… اب تو بخش دیتی گوری اسے… پر گوری نے ذرا رحم نہ کھایا… بت بنی نوری کے گرد گول گول نچانے لگی… تالی بجانے لگی… آنکھیں مٹکانے لگی نوری تھر تھر کانپنے لگی۔
”اے بی بی…“ ساتھ والے کے ساتھ والی عورت اس کا کندھا ہلا رہی تھی… بی بی کے حواس کام نہیں کر رہے تھے۔
بی بی یہ پانی پی لے… تھوڑی دیر کو بیٹھ جا،دیکھ کیا حالت ہو رہی ہے تیری… یہ پانی پی لے…“
نوری نے سنا ہی نہیں… اسے صرف رشید کو سننا تھا۔
رشید آنکھیں کھولنے،زبان کو حرکت دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ اسے وہاں کھڑے شام سے رات ہو گئی اور پھر رات گزرنے لگی۔ وہ کھڑی رہی،ایک ہی انداز،ایک ہی التجا کو لئے… کہ رشید اس کی طرف کب متوجہ ہوگا… رشید جس کے پاس اس کا بہت کچھ تھا۔

وہ رشید کے ہونٹوں کی جنبش کی منتظر تھی۔ اس کی سانسوں کی آمدورفت کوگن رہی تھی… اس کے شانوں پر دباؤ ڈال کر عورت نے اُسے بیڈ کے پاس رکھے لکڑی کے بنچ پر بیٹھا دیا وہ اکڑوں بیٹھ گئی۔

ایک آنکھ رشید پر ایک آنکھ کہیں پیچھے…
”کبھی کبھی مجھے منا بہت یاد آتا ہے“ ایک رات وہ کہنے لگی۔
کون منا؟ جاوید کمال کا انسان تھا۔
”ہمارا منا“
جاوید نے سانس لی بدمزا سی سانس،نوری جان گئی۔
”تو نے اسے رشید دلال کو دے دیا نا“
جاوید کا جی چاہا نوری کو زمین پر پٹخ دے۔“ سو جا اب“
”اب تو بولنے لگا ہوگا… بھاگنا دوڑتا ہوگا…“
”ہماری بلا سے وہ کچھ بھی کرے۔

نانا دادا کی نشانیاں بیچ کر کھا جانے والا کن کن بلاؤں کی فکر کرتا۔جاوید نے جواب نہ دیا اور سوتا بنا… نوری بھی سونے لگی۔ ایسی بھول چوک سے آنے والی یادوں کو وہ بڑے طریقے سے نکال باہر کرنے لگی تھی۔ اب سارے طریقے بھلائے جامد ہوئی بیٹھی تھی۔
جاوید اسے زیور دلانے لایا تھا… بندے لے کر دیئے تھے… اٹھتے اٹھتے نوری کو کڑے پسند آ گئے… سارہ کے بعد کا قصہ تھا… وہ لاہور کے بڑے بازار میں خریداری کرنے آئے تھے۔
”میرے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں ہیں نوری“ جاوید نے پیار سے جھڑکا۔
”تیرے پاس ہیں تو مجھے کڑے لے کر دینا نہیں چاہتا،تو چاہتا ہے کہ میں ایسے ہی بنا زیور کے گزارا کر لوں۔“
ابھی بندے لے لے کڑے پھر سہی…
”پھر کب“ نوری چلا کر بولی۔
”اگلے …“ جاوید نے جھٹ زبان پکڑی” کاروبار میں منافع ہونے دے… پھر“ وہ ہکلا گیا گڑبڑا گیا۔
بھرے بازار میں جیسے جاوید نے اس کے طمانچہ دے مارا ہو،وہ غصے سے سرخ ہو گئی کڑوں سے نفرت ہو گئی،بندے اس نے کئی مہینے پہن کر نہ دیکھے…
پھر؟؟
”پھر اس نے کڑے بھی جا کر لے لئے اور بندے بھی پہن لئے۔“
پسینے اور آنسوؤں سے وہ بھیگ گئی لٹی ایسے بیٹھی تھی جیسے سیدھی یہیں اتاری گئی ہو عین رشید کے سرہانے… صرف بچہ لینے۔
گھر سوتا جاوید یہ سمجھا کہ وہ گاؤں اپنی اماں کے ساتھ چلی گئی ہوگی۔
سب غلط ہی سمجھ رہے تھے۔ کوئی ٹھیک نہ سمجھا کہ نوری اب اپنے اصل ٹھکانے پر تھی۔
رات کے آخری پہر رشید کے ہونٹ لرزے،نرس اسے کہہ گئی تھی کہ اس میں کوئی حرکت ہو تو اسے آکر بتائے،ایک بار آکر وہ چیک کر گئی تھی۔ لیکن بے ایمان نوری تن کر بیٹھ گئی نرس کے پاس نہ گئی اپنے بچوں کیلئے اب وہ ہر بے ایمانی کرنے کیلئے تیار تھی۔
رشید کے ہونٹ پھڑ پھڑا کروا ہوئے۔
نوری جھٹ قریب ہوئی۔ کانپتی ہوئی،ہکلاتی اور حواس گم کرتی ہوئی۔
رشید بھائی… میرا بچہ… کہاں ہے“
رشید بھائی نے اگر سن بھی لیا تو جواب نہ دے سکا نہ آنکھیں کھول سکا۔ وہ اسی ایک جملے کی تسیح پڑھتی رہی رشید کے کان میں،رشید میں کوئی اور حرکت دے کر نہ ہوئی،نوری نے اس کا بازو ہلانا شروع کر دیا۔
”بی بی کیوں اوہدی جان دے پیچھے پئی اے؟ عورت تڑخ کر بولی… نوری کیوں سنتی اس کی… وہ کیا جانے… رشید جان کنی کے عذاب سے گزر رہا تھا۔
انگلی کی پور بھی بھاری تھی اس پر،بازو ہلائے جانے پر کراہنے لگا… اس کے اعضاء سکڑنے سمٹنے لگے ہونٹ وا ہوئے… بھنویں ہلی… پیشانی پر بل آئے کرب سے… سارا جسم کراہ بن گیا۔
رشید نے کچھ کہا… جانے کیا کہا… ہر عضو سے کان بنی نوری سن نہ سکی… الفاظ مڑتڑ کر نکلے… نوری نے اور شدت سے بازو ہلایا۔
بولو کیا کہا… کچھ تو بولو… کیا ہوا تمہیں؟ کہاں ہے میرا بچہ… ٹھیک ہے نا وہ کس کے پاس ہے… کس کے پاس چھوڑا ہے اسے… رشید بھائی مجھ پر رحم کرو… بتاؤ مجھے… میں نے تم پر ترس کھا کر دیا تھا… تم بھی ترس کھا لو مجھ پر… ایک بار تو ضرور ملونگی اس سے…“ اس کے کان کے قریب منہ لے جا کر وہ کہتی ہی رہی۔
بہت دیر گزری رشید نے دونوں آنکھیں کھولیں۔ خون رنگ آنکھیں،پتلیاں بھی نظر نہیں آ رہی تھیں… نوری جھٹ منہ اور سامنے لے گئی۔ گردن گھما کر وارڈ سے باہر بنے کاؤنٹر کی طرف بھی دیکھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی نرس اس کے سر پر آ جائے۔
رشید نے نوری کی طرف دیکھا لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا… دے بھی رہا ہے تو بے حد دھندلا۔
”میرا بچہ کہاں ہے؟ نوری کی آواز ذرا بلند ہوئی رشید نے جیسے ایک آخری بار دنیا دیکھنے کیلئے آنکھیں کھولیں… نوری کی اپنی آنکھیں رشید کی آنکھوں کے ہم رنگ ہونے لگیں وہ کب سے ماتم کناں بیٹھی تھی رشید کچھ بولے تو وہ بھاگ کر اپنے بچے کے ساتھ لپٹ جائے اسے بھی کوئی خوشی نصیب ہو… نیلم کے بعد سے وہ سوگ منا رہی تھی کوئی تو اس سوگ کو توڑے۔
رشید گہرے گہرے انجانے سانس لینے لگا آنکھوں کی پتلیاں ڈگمگا رہی تھیں ہونٹ سیاہ تر ہوتے جا رہے تھے۔
نوری نے اس حالت کو دیکھا تو زور سے چلائی،وارڈ کے سب مریض ڈر کر اٹھ کر بیٹھ گئے نرس لمبے وارڈ کے کنارے سے آتی نظر آئی۔
”میرا بچہ کہاں ہے رشید بھائی“ آواز پہلے سے زیادہ بلند ہوئی رشید کی ساکت ہوتی پتلیاں ذراکی ذرا پھڑپھڑائیں۔
نرس تیز تیز چلتی آ رہی تھی۔ رشید کی نظریں نوری پر ٹکیں اس نے اپنا ایک ہاتھ ذرا سا بلند کیا سامنے کی دیوار کی طرف اشارہ کیا ہاں… کہاں؟ نوری ہاتھ کے اشارے پر مرتکز ہو گئی،الفاظ گڑبڑا کر نکلے،رشید کچھ بول ضرور رہا تھا لیکن…
نرس اس کے سر پر آ چکی تھی۔
ان کا ماسک کس نے اتارا؟ وہ زور سے نوری پر چلائی کیوں چلا رہی ہو تم؟ اس نے آکسیجن ماسک کو رشید کے منہ پر رکھا جسے نوری نے ہی رشید کی آنکھیں کھلنے پر اتار دیا تھا۔
نوری نے نرس کا لگایا ماسک فوراً اتار دیا۔
نکلو یہاں سے،نرس دنگ رہ گئی اس کی حرکت پر ماسک واپس لگایا۔
نوری نے نرس کو زور دار دھکا دیا… ماسک اتارا سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے مجمع لگ گیا۔
”میرا بچہ کہاں ہے رشید بھائی… جلدی بتاؤ… اگر تو ایسے ہی مر گیا تو دوزخ میں جائے گا… میں تجھے معاف نہیں کرونگی ایک ماں تجھے معاف نہیں کرے گی… بتا دے… میرا بچہ کہاں ہے…؟؟
نرس اسے گھسیٹنے لگی باقی سب تماشا دیکھنے لگے… نرس نوری کو گھسیٹ کر باہر لے جا رہی تھی نوری گھسیٹتے ہوئے ہی رشید کی طرف منہ کئے چلا رہی تھی۔

”بتا رشید… اگر تو مرا تو میں تجھے معاف… رشید…“
نرس کو ایک اور زور دار دھکا دے کر نوری رشید کی طرف لپکی اس کے منہ کے پاس کان لے کر گئی۔
جلدی کر… بتا…
”دونوں کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں“
”دونوں جان کنی سے گزر رہے تھے“
”دونوں ہی مرنے والے تھے“
نرس باہر وارڈ بوائے اور ڈاکٹر کو لینے کیلئے بھاگی نوری نامی چیز اس کے بس کی نہیں تھی۔
رشید کا ہاتھ پھر ذرا سا بلند ہوا اسی دیوار کی طرف جس کے بہت پرے بہت سی سڑکوں کے پار ہیرا منڈی تھی اور بہت سی گلیوں کے پار جوبلی کا اڈہ تھا جہاں امین تھا۔
ا… ا… م… مین…
ہاں ہاں… بول میں سن رہی ہوں۔
مم… مم… منہ… ڈی…
منڈی…؟ نوری ہر حال سے بے حال ہو گئی۔
کس منڈی؟ سبزی منڈی… کس کے گھر… کس کے پاس؟ کوئی جاننے والا ہے تمہارا… ٹھیک ہے نا میرا بچہ…
رشید کی آنکھیں دنیا سے پردہ کرنے کے قریب ہوئیں۔

”ب… ب… با… زار… مم… منڈی…“
نرس،وارڈ بوائے ڈاکٹر بھاگ آئے۔
بازار؟ نوری اس کا بازو ہلا رہی تھی اسے پوری جان سے جھنجھوڑ رہی تھی… وارڈ بوائے نے پکڑ کر اسے باہر کی طرف گھسیٹا۔ کس بازار… کون سی منڈی؟
ڈاکٹر رشید کو دیکھنے لگا ماسک پہنایا… پمپ کیا،نوری بازار… منڈی چلا رہی تھی وارڈ بوائے کے ہاتھوں سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔
گلے سے چادر اتر کر گر چکی تھی۔ دو تین عورتیں ڈرتے ڈرتے اسے قابو کرنے کیلئے قریب آئیں… نوری خود کو چھڑواتے… ہاتھ پاؤں مارتے بے حال ہو چکی تھی وہ مڑ مڑ کر صرف رشید کی طرف دیکھ رہی تھی جس کی آنکھیں… دنیا سے پردہ کر چکی تھیں۔
”میرا بچہ“ آخری چیخ مار کر وہ فرش پر گر گئی۔
رشید مر چکا تھا،ڈاکٹر اس کا ماسک اتار چکا تھا نوری بے ہوش ہو چکی تھی… فرش پر نوری ہاری پڑی تھی بیڈ پر رشید بے جان… مردہ… ایک ہر فکر سے آزاد ہوا ایک مبتلا… سفر دونوں کے شروع ہو چکے تھے۔
###
رشید چاند کے بارے میں جاوید سب جانتا تھا۔ ہیرا منڈی میں اس کا ٹھکانہ معلوم کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ جاوید نے اتا پتا کروایا تو جوبلی کا ہی نام سامنے آیا کہ اسی کے ساتھ دیکھا گیا تھا چاند کو…
گڈو بدمعاش کے ساتھ جا کر جاوید نے جوبلی کے اڈے پر بات کی تھی… لیکن وہ ماننے کیلئے تیار نہیں تھا… جاوید نے پیسوں کا لالچ بھی دیا لیکن کوئی نہ مانا… چاند کو جانتے تھے چاند کے امین کو نہیں جانتے تھے… اندرون خانہ جو کچھ معلوم کروایا اس کا لب لباب یہ تھا کہ بچہ بھوکا پیاسا رہ کر مر گیا۔
کچھ خبریں ایسی تھیں کہ بچہ انہوں نے بیچ ڈالا… اگر بیچ دیا تھا تو ایسی جگہ بیچا تھا جہاں سے مل نہیں سکتا تھا اور اگر مر گیا تھا تو…
اس نے نوری کو صاف بتا دیا کہ رشید کا کوئی پتا ٹھکانہ نہیں ملا وہ ہر روز آکر نوری کو یہی کہتا پر نوری کہاں ماننے والی تھی۔
وہ منہ اندھیرے… کڑی دوپہروں میں… شاموں میں… شاہی محلے… اندرون،بیرون بازاروں میں… بچہ بچہ کی رٹ لگائے… ہر شخص کی طرف لپکتی… جاوید کہتا نوری اب بس حواسوں میں نہیں رہی…
”ذات کا کمینہ… خواص کا شیطان“
جھوٹ بکتا تھا… اب ہی تو حواسوں میں آئی تھی اب ہی انسانیت کی کی معراج پر آن کھڑی ہوئی تھی… کائنات کے تاج ”محبت“ کو پہن لیا تھا۔
اماں اسے زبردستی اپنے ساتھ گاؤں لے گئی،حاجن بی اسے سارا وقت اپنے ساتھ لگائے رکھتیں۔ مانو اور گڑیا کبھی کبھار اس سے آکر مل جاتیں۔
جاوید نے دوسری فیکٹری لگا لی مطلب… دوسری شادی کر لی… وہ امیر سے امیر تر ہونے لگا۔
نوری پانچ وقت نماز پڑھتی… تلاوت کرتی… اور باقی کا وقت اپنے بچوں کو ڈھونڈتی تھی۔
”وہ پاگل نہیں تھی… وہ پاگل ہو ہی نہیں سکتی تھی اب“ گاؤں سے باہر نہیں نکلتی تھی… گاؤں والے اس کی رکھوالی کرتے تھے… نمازوں کے اوقات میں حاجن بی کے گھر آ جاتی… ورنہ… ورنہ… نوری کیلئے بہت گلیاں… بڑے راستے… دھول مٹی ہونے کو جہاں بھر کی خاک…
بہت ہفتے گزرے… مہینے… چند سال…
گڑیا ایک میڈم کو اپنے باپ کی کار میں بٹھا کر گاؤں لائی ”یہ گوہر تھی“ جو سارہ کو اس کے اصل ماں باپ سے ملوانے لائی تھی… وہ پچھلے چند سالوں سے جاوید کو ڈھونڈ رہی تھی۔
اب جاوید ملا تو فوراً سارہ کو لے کر پاکستان آ گئی تھی… ”سارہ“ ایک مضبوط لڑکی کی مکمل تصویر وہ نوری کے سینے سے لگی… اس کی آنکھوں کو چوما،بے نور نوری میں کچھ نور در آیا۔
”یہ اس کہانی کا انجام نہیں ہے… اس کہانی کا کوئی انجام نہیں ہے… جب نفس کی موت ہو گی… اعمال کا حساب ہوگا… جب سوال ہوگا… بس اسی وقت اس کا کہانی کا انجام ہو گا۔“

Related posts

Leave a Comment