Jinnat Ka Wajood – Short Story

جنات کا وجود

۔
رات کے نوبجے تھے۔میں سکول آفس میں بیٹھا پیپر چیک کررہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے پیپرز ایک طرف رکھے اور دروازے کی طرف بڑھا۔دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی تھا۔بہترین لباس میں ملبوس درمیانی عمر کا وہ شخص کافی جاذب نظر تھا۔مجھے دیکھتے ہی بولا:
“ذیشان حیدر صاحب؟”
“جی۔۔۔میں ہی ہوں۔آپ؟؟؟”
مجھے اس بات پر حیرت نا تھی کہ وہ میرا نام جانتا تھا۔کیونکہ اس چھوٹے قصبے کے اکثر لوگ سکول کے تمام اساتذہ کوجانتے تھے۔حیرت یہ تھی کہ اس وقت مجھ سے کیا کام پڑگیا۔
“سر آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”
اس کا لہجہ انتہائی نرم اور شائستہ تھا۔
“جی اندر تشریف لائیے۔”
اندر پہنچ کر وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“سر میری بیٹی کو ٹیوشن پڑھا دیں گے؟؟”
اس نے فوراً مقصد کی بات کی۔
“جی کس کلاس کے اورکون سے سبجیکٹس پڑھنے ہیں؟؟؟”
میں نے پوچھا۔
“سیکنڈ ائیر بائیو اور کیمسٹری۔”
ان دنوں ہاتھ کچھ تنگ تھا۔اس لیئے یہ موقع غنمیت جانا اور فوراً حامی بھر لی۔تاہم میں اپنے اصولوں پر کمپرومائز نہیں کرسکتاتھا۔
“جی بالکل پڑھا دوں گا۔لیکن میری کچھ شرائط ہیں۔”
“جی بولیئے کون سی شرائط؟”
اس نے اسی شائستہ لہجے میں پوچھا۔
“میں کسی خاص وقت کے لیئے پابند نہیں ہوں گا۔پہلے تین دن ڈیمو کے ہوں گے۔اگر آپ کی بیٹی مطمئین ہوجاتی ہیں تو فیس کی بات بعد میں کریں گے۔”
“چلیں جیسے آپ کومناسب لگے۔کل پھر میں اسی وقت آپ کو لینے آوں گا۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑاہوا۔میں دروازے تک اس کے ساتھ گیا۔دروازہ پار کرتے ہی اس نے مڑ کر دیکھا اور گویا ہوا:
“اور اس وقت تکلیف دینے پر معذرت۔دراصل میں دن بھر اپنے کاروبار میں مصروف ہوتا ہوں۔اسی لیئے آپ کو وقت بھی 9 بجے کے بعد کا دینا ہوگا۔”
“کوئی مسلہ نہیں جناب۔”
میں مسکرایا۔
دوسری رات اسی وقت پر وہ شخص پہنچ گیا۔اس کی قیمتی گاڑی مختلف گلیوں اور سڑکوں سے ہوتی ہوئی آبادی سے نسبتاً دور ایک شاندار بنگلے کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔وہ مجھے بیٹھک میں بیٹھا کر خود اندر چلا گیا۔بیٹھک میں انتہائی قیمتی فرنیچر،قالین اور ڈیکوریشن پیس رکھے تھے۔تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں ایک ٹرے لیئے اندر داخل ہوا۔جس میں مختلف لوازمات رکھے تھے۔
“سر آپ یہ نوش فرمائیں تب تک آئرہ آجاتی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔دس پندرہ منٹس بعد وہ لڑکی اندر داخل ہوئی۔
“السلام علیکم سر۔”
اس نے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“جی وعلیکم السلام بیٹا۔”
میں نے جواب دیا۔
“کیسے ہیں آپ سر؟”
“میں بالکل ٹھیک اور آپ؟؟”
سرسری سے تعارف کے بعد میں نے اسے پڑھانا شروع کیا۔وہ انتہائی ذہین معلوم ہوتی تھی۔ہر بات کو فوراً سے پہلے پِک کررہی تھی۔میں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ سر ذیادہ کھپانا نہیں پڑے گا۔تقریباً آدھے گھنٹے بعدہی دونوں مضامین کے سیلیکٹو ٹاپکس کر لیئے۔
“سر بس سیلیکٹو ٹاپکس ہی ہیں۔میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ دس دن ہی لگیں گے۔”
اس کی بات پر میں قدرے مایوس ہوا۔میں تو سمجھا تھا کہ پانچ،چھ ماہ کا ٹیوشن ہے۔خیر۔۔۔!
“جی بالکل۔آپ کل تک جو ٹاپکس آج پڑھے وہ تیار کرلینا۔”
“ٹھیک ہے سر۔”
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
دوسری رات اس نے وہ تمام ٹاپکس اچھی طرح تیار کیئے ہوئے تھے۔میں حیران تھا کہ اس قدر ذہین سٹوڈنٹ کو ٹیوشن کی ضرورت کیسے پڑ گئی۔
اس رات پڑھ لینے کے بعد آئرہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“سر آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟”
“ہاں جی بیٹا پوچھیں۔”
“آپ جنات پر یقین رکھتے ہیں؟؟”
اس قسم کے سوالات عموماً میرے سٹوڈنٹس مجھ سے کرتے رہتے تھے۔میرا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا:
“نہیں بیٹا۔مجھے یقین نہیں ہے کیونکہ آج تک میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔”
میرے جواب پر اس نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
“آپ کچھ زیادہ ہی سائنٹیفیکلی سوچتے ہیں سر!”
“بیٹا سائنس پڑھتے اور پڑھاتے وقت جب تک آپ سائنٹیفیکلی نہیں سوچو گے تب تک ابہام کا شکار رہو گے۔کانسپیٹس کلیئر نہیں کرپاو گے۔”
میں نے نرمی سے جواب دیا۔
“لیکن سر دنیا میں ہزاروں پراسرار واقعات رونما ہوتے ہیں۔ان کے متعلق آپ کیا توجہیح پیش کریں گے؟؟؟”
وہ واقعی بہت ذہین تھی۔
“بعض اوقات آپ کا دماغ آپ کے ساتھ ایسی چالیں چلتا ہے کہ آپ کا خوف فزیکل روپ میں آپ کے سامنے آجاتا ہے۔حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔”
میرے جواب پر اس کے چہرے پر مایوسی اور ناگواری کا ملا جلا تاثر تھا۔
تیسری رات بھی پڑھنے کے بعد اس نے دوبارہ وہیں بات کی۔
“آپ کو جنات پر یقین ہونا چاہیئے سر۔”
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“کیوں؟؟؟؟”
“کیونکہ لازمی نہیں کہ جو آپ کو نظر نا آئے اس کا وجود ہی نا ہو۔”
اس کا لہجہ عجیب تھا۔
“لیکن میرے خیال میں کسی چیز کو دیکھے بنا اس پر یقین کرلینا بیوقوفی ہے۔”
“تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ جو لوگ جنات پر یقین رکھتے ہیں وہ سب بے وقوف ہیں؟؟؟؟”
اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔میں ایک لمحے کو حیران ہوا۔
“شاید۔۔۔۔”
میں نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
“ایم سوری ٹو سے۔۔۔۔آپ کی سوچ بہت ہی غلط ہے سر۔”
اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔آج تک کسی بھی سٹوڈنٹ نے مجھ سے اس طرح بات نا کی تھی۔تاہم میں نے برداشت کا دامن تھامے رکھا۔
“تو بیٹا آپ یہ کیوں چاہتی ہیں کہ میں جنات پر یقین کرلوں؟؟؟”
“آپ کے یقین کرنے یا نا کرنے سے کیا ہوگا؟؟؟؟کچھ بھی نہیں۔جن کا وجود ہے یا جو ان پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔”
یہ کہتے ہی وہ غصے سے اٹھی اور اندر چلی گئی۔میں حیران پریشان اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ اس کا لہجہ بدلنے لگا۔وہ بضد تھی کہ میں جنات کے وجود پر یقین رکھوں جبکہ میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔آخری رات جب اس کے تمام ٹاپکس ختم ہوگئے تو وہ بولی:
“اگر کبھی جنات نظر آگئے تب تو یقین کریں گے نا؟؟؟”
“ہاہاہا۔۔۔بیٹا جس چیز کا وجود ہی نا ہو وہ نظر کیسے آئے گی؟؟؟؟”
میں ہنسا۔
“یہ کیا آپ نے چیز۔۔۔چیز لگا رکھی ہے سر؟؟؟؟جنات کوئی چیز نہیں مخلوق ہیں آپکی طرح۔”
اس کی آنکھیں ایک دم سرخ ہونے لگیں۔مجھے ایک لمحے کو ایک عجیب سا خوف محسوس ہوا۔
“اچھا چھوڑیں اس بات کو۔آپ کے ٹاپکس مکمل ہوگئے۔امید ہے اپنی خواہش کے مطابق میڈیکل میں داخلہ مل جائے گا آپ کو۔”
میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
“اور امید ہے آپ کو جنات پر یقین آجائے گا۔”
اس نے طنز کیا۔
“نہیں مجھے تو نہیں آئے گا یقین۔”
میں نے اپنے تئیں مذاق کیا۔
“عجیب گھمنڈی انسان ہیں آپ!!!!یقین نہیں کرنا تو نا کریں لیکن یوں خدا کی مخلوق کا مذاق تو نااڑائیں۔”
اس کا لہجہ اچانک جارہانہ ہوگیا۔آنکھیں سرخ انگارہ اور چہرے کی رنگت غصے کی شدت سے بدلنے لگی۔مجھے اس سے خوف آنے لگا۔تبھی اس کا والد اندر داخل ہوا۔
“کیا ہوا آئرہ؟؟؟”
“کچھ نہیں بابا۔میرے ٹاپکس ختم ہوچکے ہیں۔سر سے کہہ دیں کہ کل سے نا آئیں۔”
یہ کہتے ہی وہ غصے سے کانپتی ہوئی اندر چلی گئی۔مجھے لگا جیسے وہ،وہ آئرہ نا تھی۔۔۔جسے میں پڑھاتا رہا۔
“معذرت چاہتا ہوں سر۔میری بیٹی غصے کی تیز ہے۔”
اس شخص نے دھیمے لہجے میں کہا۔
“کوئی بات نہیں جناب۔”
اس کے بعد وہ مجھے واپس سکول چھوڑ گیا۔
“وقت دینے پر آپ کا بہت بہت شکریہ۔آپ کی فیس کل آپ کو مل جائے گی۔”
یہ کہتے ہی وہ شخص واپس پلٹ گیا۔
دوسری صبح کسی کام سے میں نے اپنا بٹوہ کھولا تو اس میں ہزار ہزار کے تیس نوٹ تھے۔۔۔میں حیران پریشان کبھی اپنے بٹوے کودیکھتا تو کبھی ان پیسوں کو۔۔۔۔یہ کہاں سے آئے؟؟؟؟پھر اچانک ایک خیال کے تحت میں اپنی بائیک پر بیٹھا اور اس راستے پر گامزن ہوگیا۔جو آئرہ کے گھر کی طرف جاتا تھا۔۔۔۔۔جب میں اس مقام پر پہنچا تو خوف اور حیرت کی انتہا نا رہی۔جہاں کل رات تک ایک شاندار بنگلہ تھا،آج وہاں پرانے کھنڈرات کے سوا کچھ نا تھا۔۔۔۔۔!!!!

ختم شد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top