Haalim Episode 18 By Nimra Ahmed

Haalim Episode 18 “Choor Or Jasoos”. حالم قسط 18 چور اور جاسوس Haalim means “The Dreamer” Khuwaab Dekhne Wala. As same as all previous novels of Nimra Ahmed Haalim Also Most appreciated. Also, most reading Novel of 2017 and 2018 by Nimra Ahmed. Haalim Popularity is raised among its readers after the release of first episode.  Haalim Episode 18 named Choor and Jasoos is going to publish in Khawateen Digest October 2018. Haalim by Nimra Ahmed Started in Mid of 2017. When Nemrah Ahmed’s reader came to know that Nimrah is starting a new Novel It was a happiness to them. Also Haalim Novel got very good response from readers from the day one. Readers of Haalim Eagerly waiting for each episode each month.

Lets know more about the novel and previous episode 17.

پہلی رات
“اس کی تمام حسیات مر چکی تھی۔”
اپنا آپ کھو دینے کا غم کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔

پہلا دن
“وان فاتح کی چیف آف سٹاف تالیہ مراد چوری کے الزام میں گرفتار”
اس کا سب سے بھیانک خواب اسی کے سامنے تعبیر بنے کھڑا تھا۔

دوسری رات۔۔۔
“اس رات اس کی محسوس کرنے کہ حس جیسے جاگ گئی تھی۔”
تالیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا خود تالیہ کے علاوہ!

دوسرا دن
“مگر ایک بات طے تھی، تالیہ کی ہمت نہیں ٹوٹے گی۔”
چاہے دوستوں کے اسے “چھوڑ ” جانے سے امید ٹوٹ جائے۔

تیسری رات
“حتان سے کہنا کہ اب تالیہ اچھے سے سننے لگی ہے۔”
گڈ کاپ کا نمونہ اسے پیش کیا گیا( جیسے جہان کو کیا گیا تھا) مگر اس کی سننے کی حس جاگ گئی تھی۔

تیسرادن
“اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میرے دوستوں سے مجھے دور کرکے مجھے ان سے بدگمان کر دوگے تو تم لوگ غلط ہو۔”
اسے اعتبار تھا اپنے دوستوں پہ۔ شک تھا مگروہ ان سے دور نہیں ہوسکتی تھی۔ تبھی امید بنائے رکھی۔

چوتھی رات
تیز خوشبو میں بسی شہزادی تاشہ اسے کہتی،”تو پھر وہ ابھی تک کیوں نہیں آیا؟”
اس کی سونگھنے کی حس بھی جگا گئی تھی۔ اٹھ کر خود ہی اپنے لیے کچھ کرنا تھا اسے۔ کیونکہ تالیہ کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا،خود تالیہ کے علاوہ!

چوتھا دن
“وان فاتح نے اپنی ایکس چیف آف سٹاف تالیہ مراد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔”
دل شکن ہوگیا۔ مہر لگ گئی، سب ختم ہونے پہ! مکمل مضبوط ہونے کے لیے ایک مرتبہ بری طرح ٹوٹنا ضروری ہوتا ہے!

پانچویں رات
وہ آدمی اب بھی گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے اس کے سامنے جھکا ہوا تھامحسوس کرو،دیکھو،سنو۔۔۔
MAKE A WISH
اس کی تصور کی،حالم ہونے کی حس جاگ رہی تھی۔ اور وہ شخص اسے بتا رہا تھا،سکھا رہا تھا!

پانچواں دن۔
اب اسے نہ ایڈم سے ملنا تھا نہ فاتح سے۔
تالیہ کو یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا تھا سوائے تالیہ کے۔ وہ جان گئی تھی۔

چھٹی رات
“مگر ابھی تک دیکھ نہیں سکتی۔آپ لوگ میری رکاوٹیں، میری ڈسٹریکشنز ہیں ۔” وہی ڈسٹریکشنز دراصل تمہیں یہاں سے نکلنے کا راستہ دکھا رہی ہیں ۔

چھٹا دن
“اس سے کہنا واپس چلا جائے۔ مجھے وان فاتح کے بھیجے وکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔”
ایک کاغذ اور ایک قلم، انسان کے کتنے سارے مسئلے حل کر دیتے ہیں نا۔

ساتویں رات
اس کی چھٹی حس جاگ گئی تھی۔
داتن کے بار بار سر میں بجتے الفاظ( جہان کے ہتھوڑے کی طرح ) “جانتی ہو نا لاک اپ کتنا خوفناک ہوتا ہے؟” جو وہ جانتی تھی اور جو اسے اس کے “دوستوں نے سکھایا تھا،اسی نے بالآخر اس کی جان بچائی تھی۔!
The BEST thing she did after coming back was that (oh so Hermione) PUNCH much deserved Dolat Aman, you best Good cop ever!
And the WORST was when she left without telling anyone, that too after reading the letters,
“جب وہ مجھے جان جاتے ہیں تو صرف تالیہ کہتےہیں۔”

کتنے اچھے سے جانتی تھی نا فاتح کی چیف آف سٹاف عرف شہزادی تاشہ عرف ان کی “وقت” کے لحاظ سے “پہلی بیوی۔”

تالیہ۔۔۔اور پھر ڈئیر تالیہ!
جو وہ لکھتے رہے اپنے خطوط میں ایک ایک کرکے۔۔۔
(خط لکھتے وہ کتنا پیارا لگتا ہے نا ؛) )

پہلا خط:
“۔۔۔جب ہم خود کو ڈھونڈ لیں گے تو ہم اپنے آپ کو بھی ڈھونڈ لیں گے۔ میں اپنے آئیڈیل کا مجسمہ توڑنے کے لیے تیار ہوں ۔”
یہی سکھایا گیا ہے نا ہمیں؟ کہ سب “بت” توڑ دو۔ رول ماڈل ہوں یا کچھ بھی، پرستش مت کرو ان کی۔ ایک بار وہ مجسمہ، وہ بت، “توڑ” کر تو دیکھو۔ کیا معلوم تم اس میں “خود” کو پاؤ اور وہ بن جاؤ جو شاید اس رول ماڈل سے زیادہ بہتر ہو؟
And In the end, IT WAS ALL ABOUT A BOOK.

THE FIRST MANUSCRIPT, that sometimes only the closest people to the writer can read, ?
And who’d be closer to our Adam bin Muhammad than his WAQT K SATHI, Taaliya and Fateh? So the one “saved” it for the other…
With the most common answer of what would be inside the sculpture? Was their Nikahnama, oh NO!!!
Our writer hates SPOILERS and loves story telling the most, so that’s what she did to us and Fateh. Oh com’on, why would she ever let her READER know the last scene of Bangara Malayo herself? ; )

” اور قلم سے لکھے الفاظ اللہ چاہے تو صدیوں تک امر ہوجاتے ہیں ۔”
یہ تالیہ نے باقاعدہ کر کے دکھایا۔

دوسرا خط:
“۔۔۔مجھے تاریخ کیسے یاد رکھے گی؟ تم ہمیشہ میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ میری خواہش تھی کہ آج بھی تم میرے ساتھ ہوتیں۔”
Looking into himself….FINDING himself!!!
And Some MAJOR MISSING…eh?

تیسرا خط:
“۔۔۔کوئی بھی کامل نہیں ہوتا یہاں ۔شاید وان فاتح کے پرستاروں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے ۔ میری خواہش ہے کہ تم میرے ساتھ ہوتیں اور ہم اس کتاب کو ایک ساتھ پڑھ سکتے۔”
NO ONE IS PERFECT. Neither is himself. The realization! And some more missing with the excuse of READING together. How much amazing it is to read and watch together , but only with people you adore, right!?

چوتھا خط:
“۔۔۔ابھی تک میں صرف غلام فاتح کو دریافت کر سکا ہوں ۔”
Not just in the book but within yourself too Fateh!

پانچواں خط:
“۔۔۔اب میں نے تالیہ اور تالیہ کے پلانز پر حیران ہونا چھوڑ دیا ہے ۔ میں تمہاری کال کا منتظر رہوں گا۔”
۔آزاد فاتح !

He KNOWS Taaliya will help herself coz he finally knows her through the book and how she gave the book to him. Also he knows he’s FREE from what he was all these years. He has finally found his treasure!

واقفیت سے دوستی اور پھر محبت کا سفر بہت خاموشی سے،”کتاب” کے اوراق پڑھتے پڑھتے طے ہوتا گیا۔
اب جانا آپ نے فاتح رامزل؟ کہ کتابیں کیسے “محبت” میں مبتلا کر دیتی ہیں؟ نہ صرف کرداروں سے،بلکہ اپنے “اصل” سے بھی۔۔۔
کیسے ان میں” اپنا آپ ” دکھائی دینے لگتا ہے؟ کہانی اپنی نہیں ہوتی، مگر پھر بھی “اپنی” لگتی ہے؟
ہم بھی بارہا یہ محسوس کرچکے۔ فین گرل ہونا، “کتابیں پڑھنا،کتابیں لکھنا ایک ٹائم لیس شوق تھا اور کسی ٹائم لیس چیز کی محبت ،انسانوں سے محبت کرنے سے بہتر ہوتی ہے کیونکہ ٹائم لیس شے دل کو یوں نہیں دکھاتی جیسے انسان دکھاتے ہیں.”
ہمیں تو بس” فین گرل” ہونا آتا ہے۔اور “جو ہمیں کرنا آتا ہے،وہ ہمیشہ ہماری جان بچائے گا۔” ہے نا؟ 😉

ایڈم کا لمحہ لمحہ ٹوٹتا دل،

فاتح کا نام ہانگ کانگ پیپرز میں نکل آنے پہ اس کے آنسو،
تالیہ کے ایک ایک کر کے چھوٹتے دوست،
ایبو کے چوزوں کی موت کا دکھ،
اور فاتح کے خون میں قطرہ قطرہ کر کےاترتا Arsenic سلو پوائزن۔۔۔اور یہ زہر اتارتی ناگن، عصرہ!
دل کو جکڑ کے مسل دینے والے دکھ

لیکن جیسے آریانہ کی موت والے چیپٹر میں ہی وہ تینوں جنگل میں چلے گئے تھے اور دل خوش ہوگیا تھا،
ویسے ہی جہان کی آمد،
تالیہ کے بدنامی کے گڑھے سے نکل آنے کی امید ،
ایڈم کی ترقی،
قدیم ملاکہ جیسے مگر ‘آزاد’ فاتح کی واپسی اور بہت سی چیزوں نے دل خوش کردیا۔
بتا دیا گیا ہمیں کہ زندگی تو اسی کا نام ہے۔ دکھ اور سکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ “ہر مشکل کے #ساتھآسانی ہے۔” اہم یہ ہے کہ ہم “اہمیت” کسے دیتے ہیں۔ غم کو لے کے ناامید بیٹھے رہتے ہیں، یا “امید” کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔۔۔۔اچھے کے مزید اچھے میں بدل جانے کی۔ جیسے ہمیں حالم کی اگلی قسط سے ہے۔
“چور اور جاسوس” مل کے کیا “کون گیم” کھیلنے والے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے ہم بے تاب ہیں۔

Haalim is on going novel and completed its successful 17 Episodes.  Halim Episode 18 will be published in October 2018 for online readers whereas the episode 18 i.e. published in monthly Digest is a few episodes behind the episodes on Internet. Haalim Episode 18 will be here as soon as released. Online readers has this opportunity to read quite long episodes such as 50+ pages episodes each month. However the Digest readers are behind many episodes.

Haalim Epi 18

حالم کے بارے میں اپنے خیالات ہم سے شیئر کریں اگر آپ ناول سے متعلق اپنا تبصرہ یہ کوئی خاص چیز جو اس ناول سے آپ نے سیکھی ہے شیئر کرنا چاہتے ہیں تو ابھی ہمیں درج ذیل ای میل ایڈریس پر بھیجیں۔

caretofun@gmail.com

نوٹ: آپ کی تحریر تصویری شکل میں درکار ہے جسے آپ سادہ پیج پر لکھ کر ہمیں تصویر  کھینچ کہ بھی بھیج سکتے ہیں۔اس کہ علاوہ اگر اس ویب سائٹ پر آپ اپنا کوئی ناول،افسانہ شائع کروانہ چاہتے ہیں تو بھی ہم سے اوپر دیئے گئے ای میل ایڈریس پر رابطہ کریں۔

Also Read Khawateen Digest October 2018

Read Fawad Khan Interview in Shuaa Digest October 2018

Finally, Name of Haalim Episode 18 is announce last month i.e. Choor aur Jasoos. چور اور جاسوس Spy and the Thief will be name of upcoming episode – Haalim Episode 18

Halim Episode 18

The online publication is directly from the writer. Also, Nimra Ahmed and her publication team announced the date of episode 17 and episode 18 earlier which was 1st October 2018. Furthermore due to personal busyness Nimrah Ahmed is unable to publish the episode on promised date and re announced the date of Haalim Episode 18 in November.

Haalim Episode 18

Furthermore Nemrah Ahmed was quite busy in October start and could not release the Episode 18 as she promised. She had a Meet and Greet Session. In this session Nimrah ahmed arrange get together with her readers and it went quite well. Also, The Theme of venue was quite managed and it was presented on her previous novels. It is huge meet up which is organized second time and complete passes and tickets are sell. So the bookings closed. Furthermore In this connection Nimra ahmed not getting much time to complete the Episode. However we expect that after this second meet up in October we will have a great episode to read Haalim Episode 18.

Halim Episode 18 PDF Download

Related posts

17 Thoughts to “Haalim Episode 18 By Nimra Ahmed”

  1. Rose

    Haalim ki episode 18 upload kr dain plz

Leave a Comment