Bachon Ko Bacha Samjhen By Nosheen Awan

بچوں کو بچہ سمجھیں
بقلم نوشین اعوان

bacho ko bacha samjhen
bacho ko bacha samjhen
10اکتوبر ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو اس سے آگاہی دینا۔ ہر وہ بات ہر وہ چیز جو حواس پہ سوار ہو کر شدت اختیار کر جائے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوتی ہے۔
کچھ ماہ  قبل عماد نامی طالب علم نے خودکشی کی جس کی والدہ  عطیہ نقوی خود ایک سائیکائٹرسٹ ہیں عماد ہونہار اور خوش رہنے والا سٹوڈنٹ تھا لیکن ہمت ہار گیاصرف لوگوں کی باتوں سے اور اپنی جان لے لی۔
کچھ دن قبل بھکر سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے خودکشی کرتے ہوئے اپنے ماں باپ کے نام خط چھوڑا جو کہ انتہائی تکلیف دہ الفاظ تھے اس نے لکھا کہ” میں نے نمبر لینے کی بہت کوشش کی لیکن میں نہیں لے سکا مجھے معاف کر دیں”
ایسے ہزاروں کیسز ہمارے اردگرد موجود ہیں۔
ہر سال دنیا میں 29-15کے عمر کے  نوجوانوں کی  خودکشی کی تعداد  800٫000 ہے۔ جبکہ ہر سال پاکستان میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 13000 ہے۔
ماں باپ کا دباؤ، بچوں میں لوگوں کی باتوں کا خوف پیدا کرنا اور اساتذہ کا بچوں کی تذلیل کرنا خودکشی کا باعث بنتا ہے۔ جب بچپن سے بچوں کے ذہنوں میں لوگوں کی باتوں کا خوف ڈال دیا جائے وہ خوف ساری زندگی آپ کا پیچھا کرتا ہے۔
والدین نے خود کو ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئیے موبائل فون بچوں کے ہاتھ میں دی دیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچوں کا تعلیم میں رجحان کم ہونے کے ساتھ ساتھ اضافی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔
اور اس کے ٹیکنالوجی کا غیر ضروری استعمال بچوں کو غلط چیزوں کی طرف مائل  کر رہا ہے۔

ہمارے اردگرد صرف ڈپریشن ہے۔ نیوز چینل لگائیں یا کوئی ڈرامہ صرف ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی جو مزید منفی کریں گی۔  ہر کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے لیکن جس کی جتنی قوت مدافعت ہے وہ اتنا ہی برداشت کرتا ہے۔ جب برداشت ختم ہو جائے یا تو وہ ذہنی توازن کھو دیتا ہے یا زندگی سے ہار جاتا ہے۔

کسی کے چھوٹے سے الفاظ زندگی بھر آپ کی شخصیت پہ منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ ماں باپ کو گندا رزلٹ نہیں چاہئے لیکن بچوں کو ذہنی اذیت دینا قبول ہے
آج ہر دوسرا شخص ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔

بچوں کو ہر وقت پڑھنے کے طعنےدینا اور مارنا حل نہیں ہے بچے کو سننا اور سمجھنا ہے۔
ہمیں اس وقت اپنے اردگرد مثبت رویوں کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کسی نالائق سٹوڈنٹ کو لائق ہونے کا احساس دلائیں تو اس میں ضرور بہتری آئے گی۔ ہم سمجھتے ہیں بچے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی جب کہ کم عمری میں بچہ جو رویہ دیکھتا ہے وہی اس کی ذات پہ اثر کرتا ہے۔
میرے خیال میں ہر سکول میں سائیکالوجسٹ بھی ہونا چاہیے جو ایسے بچوں کی کاؤنسلنگ کر سکیں۔ جنہیں ماں باپ یا اساتذہ سمجھنے سے قاصر ہوں تو وہ ڈاکٹر اس کی نفسیات سمجھ لے۔
جس تعلیم کے نام پہ بچے خودکشیاں کر رہے ہیں اس کی بنیادیں اس قدر خراب ہو چکی ہیں کہ اس کا مقصد صرف رٹے لگا کر اچھے نمبر لینا رہ گیا ہے۔ ہمیں ڈگریاں بڑھانے سے زیادہ تعلیمی معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

Related posts

Leave a Comment