Saasu Maa Ki Hukumat By Mehreen Saleem Funny Story

ارے او۔۔۔۔ منزہ کہاں مرگئ!!!

منزہ اپنی ساس کی آواز پہ چونکی جو ارحم کے کپڑے بدل رہی تھی۔۔۔ وہ آنا فانا یہ جا اور وہ جا ارحم کو کپڑے پہناتی باہر نکلی۔۔۔۔۔

جی امی بولیں!! انتہائ ادب سے وہ اپنی پیاری ساس سے مخاطب ہوئ!!!

لیکن ساسو ماں کا تو پارہ سوا نیزے کو پہنچا ہوا تھا۔۔۔۔

ارےے یہ فریج کیسے صاف کیا ہے تم نے؟؟؟؟

اتنے دھبے نظر آرہے ہیں۔۔۔ وہ منہ بسورے تیوری چڑھائے منزہ کو ڈانٹنے لگی۔۔۔۔۔

وہ جو سارا دن کام کر کے تھک ہار کر اب تھوڑا سا واٹس ایپ چلا کر سونے کا سوچ رہی تھی!!۔۔۔۔۔ گویا اسکے ارمانوں پر تو گھڑوں پانی گرگیا۔۔۔۔

اب پھر سے فریج صاف کروں!!!

ڈیم اٹ۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر جلنے لگی!!!!

خیر جب اسکی ساس دوسرے کمرے میں تشریف لے گئ تو وہ ایک بار ہی جیسے تیسے کپڑا مار کر فریج کو ۔۔۔۔اپنے روم میں بھاگ گئ ۔۔۔۔۔

اتنی صفائ تو واللہ شاہ جہاں نے بھی تاج محل کی نہیں کروائ ہوگی۔۔۔۔ جتنی یہ محترمہ ہم سے کروارہی ہیں۔۔۔۔۔ “منزہ اپنی دیورانی مبینہ کے سامنے شکوہ کناں انداز سے اپنی آپ بیتی کا نوحہ پڑھنے لگی”۔۔۔۔۔

دیورانی بھی بے چاری کیا کرتی کہ وہ توخود قسمت کی ماری ساسو ماں کے تابع انکے ہاں میں ہاں ملاتی تھی!!! لیکن دونوں دیورانی ، جیٹھانی میں ایکا بے مثال تھا ۔۔۔۔

اگر منزہ کو کوئ کچھ کہتا تو مبینہ سینہ تان کے کھڑی ہوجاتی۔۔۔ اور اگر مبینہ کو کوئ کچھ سناتا تو منزہ اسے آڑھے ہاتھوں لے لیتی ۔۔۔۔

دونوں میں محبت اتنی کہ دن میں دیا لے کر نکلو تو بھی ایسی دیورانی، جیٹھانی کی جوڑی کہیں نہیں ملے گی!!!

**************************************

وہ رات تو گزر گئ۔۔۔۔ لیکن دوسری صبح ایک اور مصیبت باہیں پھیلائے منزہ اور مبینہ کے انتظار میں انکی ساس کی صورت میں موجود تھی!!!

مبینہ کو اسکی ساس نے باہر سودا لینے کا حکم صادر کیا وہ بے چاری۔۔۔۔ بے مثال اور کمال کی ہمت تھی اسکی جو گھر کے کام کے ساتھ باہر کا کام بھی بخوبی سر انجام دیتی تھی۔۔۔۔۔۔

رہی منزہ وہ تو خود شائن اور بلیچن سے پریشان ہمہ وقت اپنے نئےکپڑوں کو بچانے کی کوشش میں دھیان سے پوچا لگایا کرتی تھی۔۔۔۔ کہ کہیں کپڑے خراب نہ ہوجائیں ، اور دوسری طرف ساسو ماں کے معیار پر اسکی کی ہوئ صفائ پھر بھی پوری نہ اترتی تھی ۔۔۔۔
اس دن کچھ ہوا یوں کہ ان دونوں دیورانی ، جیٹھانی نے کچھ دن پہلے ہی کچن کی اعلی درجے کی بے مثال صفائ کی تھی!!!

لیکن اس دن صبح ۔۔۔۔ساسو ماں کے ماتھے پر پڑی شکنجیں یہ بتاتی تھی کہ پھر انکے دماغ میں کچھ چل رہا ہے !!! جو اس حکم پر مبنی تھا کہ کچن گندا ہوگیا ہے دوبارہ صفائ کی جائے!!!!

ان دونوں کے پیروں تلے تو گویا زمین کھسک گئ۔۔۔۔ کہ ابھی حال میں ہی تو ہوئ ہے صفائ!!۔۔۔۔۔

دراصل یہ دونوں تو سوچ کر بیٹھی تھی کہ آج فارغ وقت میں فیشل کروانے جائینگی!!!!!

لیکن کیا کرتی ؟؟؟ آخر کو پھر سے قسمت نے انہیں شائین ، بلیچ اور صرف والے پانی سے ہالی کھیلنے کی طرف لا کھینچا تھا ۔۔۔۔چارو ناچار کچن کی صفائ کا رخ کیا!!۔۔۔۔۔۔۔

ابکی بار صفائ کرتے کرتے منزہ کا دھیان نہ رہا اور بے دھیانی میں گرم گرم پتیلی کو ہاتھ لگادیا ۔۔۔۔۔

“گویا اسکی خوبصورت لمبی ، کشادہ انگلیوں پر جلنے کے نشان کافی نمایاں دکھائ دیتے تھے”۔۔۔۔۔۔

وہ بےچاری کبھی ہلدی لگا کر سکون پاتی، تو کبھی کسی مرحم سے اپنے درد کی تشنگی بجھاتی ۔۔۔۔۔ انہیں خیالوں میں گم آج وہ ماضی کا سفر کر رہی تھی کہ!!!۔۔۔

“کتنے نازو نعم سے اسکے والدین نے اسے پالا تھا” ۔۔۔۔

وہ کبھی اپنے ان سرخ گلابی ہتھیلیوں کو یاد کرتی کہ جو کسی زمانے میں آرام کیا کرتے تھے۔۔۔ اور آج اپنی ان پھٹی ، زرد پڑتی ہتھیلیوں کے اوپر جلی ہوئ انگلیون کو دیکھتی تو ۔۔۔۔اندر تک وجود دہل جاتا ۔۔۔۔اور بلیچ کو کوستی کہ: “واللہ کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے”۔۔۔۔

وہ کبھی ماضی کی اس ٹھنڈی شام کو یاد کو یاد کرتی کہ جب وہ ایک کپ چائے کے ساتھ اپنی ڈائری میں کچھ نہ کچھ قلمبند کیا کرتی تھی۔۔۔۔۔ تو کبھی وہ آج کی شام کو یاد کرتی کہ جب وہ سبکے لیے چائے بناتی ہے۔۔۔۔۔ اور اسمیں سے بھی سو کیڑے نکالے جاتے ہیں۔۔۔۔۔

وہ کبھی اپنی ان راتوں کو یاد کرتی جب وہ خواب خرگوش کے مزے لیا کرتی تھی۔۔۔۔ اور اب ان راتوں کو کہ ۔۔۔۔۔جب آنکھوں سے نیند ہی غائب ہوچکی ہے اور یہ آنکھوں کے گرد بڑے بڑے سیاہ ہلکے کہ جنہیں دیکھ کر جن بھی خوف کھاجائے!!۔۔۔۔۔

وہ کبھی اس زمانے کو یاد کرتی کہ جب وہ اپنے لیے جیا کرتی تھی!!! ۔۔۔۔ اور اب وہ اس زمانے کو یاد کررہی ہے کہ جسمیں وہ دوسروں کے لیے جیتی ہے۔۔۔۔

“ہاں جی یہی تو زندگی ہے”۔۔۔۔۔

پہلے تو وہ کمپرومائز کے لفظ کی الف بے تک نہ جانتی تھی۔۔۔۔ اور اب تو کمپرومائز کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔۔۔۔۔

ہاں اسے وقت نے بہت بڑا کردیا تھا!!۔۔۔۔

لیکن قسمت سے اسے محبت کرنے والا شوہر بھی ملا تھا۔۔ انہی خیالوں میں مگن وہ نیند میں جانے ہی والی تھی کہ ساسو ماں کی آواز نے اسے تخیلاتی دنیا سے پل بھر میں اپنی اصلیت کی طرف لا گھسیٹا!!!۔۔۔۔

ارےےےے اوووو منزہ۔۔۔۔۔ “کتنا سوو گی؟؟ ”

اٹھ جاو اب۔۔۔۔۔ “جاو بلیچن لے آو مارکیٹ سے۔۔۔۔ ختم ہوگیا ہے!!!۔۔۔۔۔ ارے سن رہی ہو یا نہیں؟؟؟۔۔۔ کہاں مرگئ!!!!”

وہ تلخ مسکراہٹ کے ساتھ صبر کا دامن تھامے پلنگ سے اٹھی ۔۔۔۔۔

اور ماضی کا بلبلہ ہوا میں تحلیل ہوا۔۔۔۔۔

وہ یہ سوچ کر خود کو مطمئن کردیتی ہے کہ:

“یہ تو زندگی ہے بھئ اپنا بھی وقت آئے گا”۔۔۔۔

“آخر کو ساسو ماں کی حکومت کتنے دن کی”۔۔۔۔۔

Related posts

Leave a Comment