Huma Waqas Novels List & Interview

Huma Waqas is very talented and most fast growing Urdu Novel’s Writer, She started her writing career not very long ago but till today written lot of heart touching novels. Her Specialty is writing Romance in very nice way. We have conducted an interview With Huma Waqas and sharing with you here today.

 

Huma Waqas Novels List

Huma Waqas Interview

” عشق ایسا ہو تو ” سے لےکر “چراغِ شام سے پہلے ” اور باسل جیسے جاندار ناول کی جانی مانی ہر دل عزیز مصنفہ
جی ہم بات کررہے ” ہما وقاص ” صاحبہ کی ؛ ویسے تو آپ سب ان کو جانتے ہیں؛ ہما کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے
بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے لکھے سے جانے جاتے ہیں ان میں سے ایک نام ہما کا ہے؛ جس نے اس ہنگامہ خیز ماحول میں اپنا الگ نام اپنی پہچان بنائی ہے؛ ہما نے ثابت کیا ناول
سستے رومانس اور فحاشی سے پاک بھی ہوسکتے؛ ان میں کہانی ؛ منظر نگاری اور مکالمے جس طور ہما نے لکھے وہ قابل زکر ہیں۔۔؛ اپنے بارے میں وہ کافی بار اپنے لائیو پروگرام میں بتا چکی مگر یہاں وہی چند سوال ہم ہما
سے دوبارہ کرتے ہیں۔؛
سوال : اسلام علیکم ! کیسی ہیں آپ ؟؟
اللّہ کا کرم ہے بالکل خیریت سے ۔
سوال : کیا چل رہا آج کل ؟؟
بہت مصروف ہوں ۔ گھر کے کام , بچوں کی ذمہ داریاں , دو جگہ ملازمت اور ساتھ باسل جیسی کہانی کا سفر ۔
سوال : تو آپ تیار ہیں کچھ سیاسی ؛ ہلکے پھلکے سوال و جوابات کے لیے؟؟
ہاہاہا بالکل
چلیں سب سے پہلے آپ کے لکھنے سے شروع کرتے ہیں۔
سوال : آپ نے ناول لکھنا کب شروع کیا آپ کی پہلی تحریر پہلا ناول کونسا تھا۔؟
لکھنا کب شروع کیا اگر یہ صرف لکھنے کا سوال ہے تو میں جب پانچویں جماعت میں تھی تب پہلی کہانی لکھی تھی بچوں کی کہانی تھی جو میرے ذہن کو بہت تنگ کرتی تھی۔ بس پھر کاغذ قلم اٹھایا اور لکھ دی لیکن اگر آپ فیس بک کے حوالے سے پوچھ رہی ہیں تو میں نے دسمبر 2018 میں لکھنا شروع کیا تھا اور پہلی تحریر ایک مختصر کہانی ” عشق ایسا ہو تو ” تھی ۔
سوال : آپ نے کس چیز کس ناول کس شخصیت سے متاثر ہو کر ناول لکھنے کا سوچا اور اگلے چند ماہ و سال میں خود کو کہاں دیکھتی ہیں؟؟
میں نے کسی سے متاثر ہو کر لکھنا شروع نہیں کیا ۔ میں بچپن سے ہی اپنے ذہن میں کہانیاں گھڑنے اور پھر لکھنے کی شوقین ہوں ۔ سوچنا میرا مشغلہ ہے جس میں میں تخیلاتی دنیا بناتی ہوں اور ان میں بہت سے کردار ہوتے ہیں جو مختلف کردار نبھاتے ہیں ۔
میں نے لکھنے سے پہلے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں یہ شہرت اور کمانے کی غرض سے لکھ رہی ہوں اور آج بھی اس کو فقط اپنے شوق کی اور ذہنی تسکین کی حد تک ہی رکھتی ہوں ۔ ابھی خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ میں بہت بہترین اور مکمل لکھتی ہوں اس لیے خود کو ابھی کہیں نہیں سوچتی یہیں سوشل میڈیا پر ہی سوچتی ہوں لیکن فیس بک پر لکھے ہوئے کو آپ کسی بھی طرح محفوظ نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس لئے اب ویب پر لکھنے کا سوچا ہے ۔ اس سے فیس بک سے باہر پڑھنے والوں تک بھی میری تحریر پہنچیں گی اور چوری نہیں ہو سکیں گی ویب لیگل ایکشن لے سکتی ہے ۔
سوال : آپ کے ناول لکھنے کا مقصد کیا ہے؟ وہ بھی اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جہاں ہر کوئی اپنے آپ میں لکھاری ہے۔
کہانیاں لکھنا میرا مشغلہ تھا اس لیے ہمیشہ سے چوری چھپے لکھتی رہتی تھی ۔ میں اپنے والدین کے اچانک انتقال کے بعد ذہنی انتشار کا شکار ہو گئی تھی اور کہانی اور ڈائری لکھنا بند کر دیا ۔ میرے بھائی کو میری لکھی کچھ تحریریں ملیں اور اس نے مجھے مجبور کیا کہ مجھے لکھتے رہنا چاہیے ۔ اس کے مطابق لکھنا میرے لیے ایک کرتھاسز کا کام کرے گا اور میں ذہنی دباؤ اور غم سے باہر آ جاؤں گی ۔
تب میں نے سوچا کیوں نہ ایسا کہیں کوئی پلیٹ فارم ہو جہاں میں لکھوں تو مجھے کوئی پڑھے ۔ اردو سے دوری کو پندرہ سال ہو چکے تھے ۔ اس لیے ڈائجیسٹ میں لکھنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ پھر سوچا شاید فیس بک پر کچھ ایسا ہو ؟ جب سرچ بار میں اردو ناول لکھا تو دیکھا یہاں تو سوشل میڈیا پر لکھنے کے شوقین ایک الگ ہی دنیا بسا کر بیٹھے ہیں ۔ بس پھر ایک چھوٹی سی قسط لکھی اور ڈرتے ہوئے نام تبدیل کر کے ایک اردو ناول کے گروپ میں پوسٹ کر دی ۔ یہیں سے لکھنا شروع کیا اور پھر ایک کے بعد دوسری کہانی لکھتی گئی ۔
سوال : آپ کے پسندیدہ رائٹر اور پسندیدہ ناول کون سے ہیں؟
میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چار ناول پڑھے ہیں ۔ پیر کامل , خدا اور محبت , راجہ گدھ اور امربیل ۔ عمیرہ احمد کے کیونکہ دو ناول پڑھ رکھے ہیں اس لیے وہی پسندیدہ ہیں ۔ پڑھنے کا سفر میں دس سال پہلے ختم کر چکی ہوں اب پڑھا نہیں جاتا ۔
سوال : سوشل میڈیا پر آپ نے کن لکھاریوں کو پڑھا یا کن لکھاریوں کا لکھا آپ کو اچھا لگا۔؟
جواب : میں نے سوشل میڈیا کے لکھاریوں میں سے مکمل ناول کسی بھی لکھاری کا نہیں پڑھا ۔ ہاں لیکن بیچ میں سے اور ہلکا پھلکا جائزہ سب کا لیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لکھاری بہت بہترین اور محنت سے لکھتے ہیں ۔ بہت سے لکھاری ہیں جن کی تحریر دیکھ کر لگا کہ وہ لکھنے کے تمام اصول و ضوابط جانتے ہیں ۔ جن میں چند ایک نام لے دیتی ہوں ۔ عائشہ سکندر غازی , سما چوہدری , سحر اسامہ , ام عمیر , فیضان احمد اور بہت سے لکھاری ہیں سب کے نام لینا ممکن نہیں ہے ۔ کچھ دن پہلے ایک پوسٹ میں ان سب کے نام کی لسٹ دی تھی ۔
سوال : آپ شادی شدہ اور باقاعدہ نوکری کرتی ہیں پھر یہ لکھنا لکھانا کس طرح سنبھالتی ہیں؟؟
جواب : بس شوق کو ذمہ داری کے ساتھ لے کر چلنا بہت مشکل ہے ۔ لیکن میں سمجھتی ہوں ذمہ داریوں کے بوجھ کے نیچے دب کر شوق کا گلا نہیں گھونٹنا چاہیے ۔ اس لیے جیسے تیسے اپنے شوق کے لیے وقت نکال لیتی ہوں ۔ قارئین شاید تصور بھی نہیں کر سکتے کہ میں اپنے شوق کی خاطر کیسے کیسے وقت نکال کر لکھتی ہوں لیکن کیونکہ میں اپنے شوق کو چھوڑ نہیں سکتی اس لیے سب مشکلات برداشت کرتی ہوں ۔
سوال : آپ اسکول لائف اور کالج لائف کس کو دوبارہ جینا چاہتی ہیں؟؟
دونوں میں سے کسی لائف کو نہیں جینا چاہتی میں میں پڑھائی میں بہت اچھی ہونے کے باوجود پڑھنے کی شوقین نہیں تھی ۔ اس لیے میری یہ دونوں لائف کوئی خاص خوشگوار نہیں ہیں ۔ میں جب ایک دور سے نکل آتی ہوں ۔ میں اسے یاد نہیں کرتی خاص طور پر ایسا دور جس سے میری کچھ تلخ یادیں جڑ جائیں ۔ میں جس ادارے سے ایک دفعہ نکل جاؤں میں کبھی وہاں واپس جانا اور وہاں موجود لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتی ۔ مجھے معلوم ہے یہ میری عجیب عادت ہے لیکن ہاں میں لوگوں کو , اداروں کو , زندگی کے باب کو بالکل چھوڑ کر زندگی کا نیا باب شروع کرتی ہوں جس میں میری پرانی جھلک بالکل نہیں ہوتی ۔ میری شخصیت ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے اور پھر کچھ عرصے بعد میں اس شخصیت سے بیزار ہو کر ایک نئی شخصیت میں جینے لگتی ہوں جس کو میں اپنی غلطیوں سے اپ گریڈ کر لیتی ہوں ۔
اسکول کالج میں دوستوں کی طرف سے ملا کوئی مزاحیہ نام یا لقب جو ابھی بھی ہو ؟؟
دراصل میرا نام ہی بہت چھوٹا ہے اس لیے بہت کم لوگوں نے الٹا رکھا ہے ۔ ہاں لیکن میرے پرائمری سکول میں ایک بے حد بدتمیز بچہ تھا وہ مجھے ٹما کہا کرتا تھا ۔ ہما ٹما
سوال : ہما وقاص کیسی بچی تھی ؟ شرارتی ؟ خاموشی یا پھر باتونی بچہ؟ کوئی ایک شرارت جو ابھی بھی یاد ہو ؟؟
جواب : میں ان میں سے کچھ بھی نہیں تھی ۔ میں پرسرار , سوچ میں ڈوبے رہنے والی اور ضدی بچی تھی ۔ میں شرارت نہیں کرتی تھی میں پریشان کرتی تھی ۔ بہت سی ایسی حرکتیں یاد ہیں جن سے میں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بہت پریشان کیا لیکن ان میں سے ایک بہت ہائی لیول کی تھی اور وہ یہ کہ میں جب سات سال کی تھی تو ایک ماہ تک مسجد قرآن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلتی تھی لیکن میں مسجد جانے کے بجائے گھر کے پاس بنے تندرو کے پیچھے چھپ کر بیٹھ جاتی تھی اور جب چھٹی کا وقت ہو جاتا اور باقی بچے مسجد سے باہر نکلنا شروع ہوتے میں چپکے سے تندور کے پیچھے سے نکل کر گھر چلی جاتی تھی ۔ میں یہ سب کئی ہفتوں تک کرتی رہی تھی ۔ پھر پکڑی گئی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن پڑھانے والی مولانی گھر کا کام کرواتی تھی اور بہت مارتی تھی ۔
اگر آپ کو سوشل میڈیا کا MNA کا ٹکٹ دیا جائے آپ کس پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑیں گے۔؟؟
سیاست میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتی ۔ الیکشن لڑنے سے انکار کردوں گی ۔ ہاہا ہا
آپ کی کوئی ایک ایسی خواہش جو ابھی چاہیں کہ فوری پوری ہو ؟؟
الحمد اللہ ہر خواہش پوری ہوئی ہے اب تک لیکن ایک خواہش ہے کہ میں اپنے والدین کے نام کا عمرہ یا حج ادا کرنا چاہتی ہوں ۔
سوال : شہرت اور دولت میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو کیا ہوگا آپ کا فیصلہ؟؟
جواب : ویسے سچ پوچھیں تو دونوں ہی نہیں کیونکہ دونوں میں سکون غارت ہے لیکن اگر کرنا ہی پڑے مجبوری ہو تو شہرت کا کروں گی ۔ایسی شہرت جو میرے نام کو میرے مرنے کے بعد بھی اچھے لوگوں میں شمار کرے ۔
سوال : سردیاں پسند ہیں یا گرمیاں؟؟
جواب : مجھے بہار پسند ہے ۔
سوال : سیر و تفریح کی شوقین ہیں یا تنہائی پسند ؟؟
جواب : میرا مزاج بدلتا رہتا ہے ۔ کبھی بہت گھومتی ہوں تو کبھی بالکل خاموش الگ تھلگ ہو جاتی ہوں ۔ میں بہت زیادہ بھیڑ میں ہوں تو ڈر جاتی ہوں ۔ بہت زیادہ تنہا رہوں تو گھبرا جاتی ہوں ۔
سوال : وہ کونسا کھانا ہے / ڈش ہے جو ہما منٹ میں بنا سکتی؟
جواب : ویسے تو میں پکانے کی بالکل شوقین نہیں ۔ ہاں پلاؤ میں منٹوں میں بنا لیتی ہوں ۔
سوال : کھانا بنانے کی شوقین ہیں یا کھانے کی؟ اور پسندیدہ
کھانا / خوراک /۔ پھل کون سے ہیں ؟؟
میں نہ بنانے کی شوقین ہوں نہ کھانے کی ۔ سب کھا لیتی ہوں ۔ پھل سب ہی اچھے ہیں بشرطیکہ وہ مجھے چھیل کر کاٹ کر پیش کیا جائیں ۔
سوال : پسندیدہ ٹی وی شو کونسا ہے ؟
میں نے ٹی وی دیکھنا دو سال پہلے ترک کر دیا تھا ۔ مجھے کوئی شو نہیں پسند۔ میں صرف ایسی فلمیں دیکھتی ہوں جو سچی کہانیوں پر مبنی ہوں یا پھر سائنس فکشن جس میں عجیب ایجادات دکھائی گئی ہوں ۔
سوال : پاکستانی پسندیدہ ڈارمہ ؟؟
جواب : زندگی گلزار ہے , یقین کا سفر , داستان اور ہمسفر
سوال : کوئی ایسی مووی جو بار بار دیکھ سکتی ہیں؟؟
جواب : اب نہیں ہے ایسا ۔ کچھ سال پہلے تک ایسا تھا ۔ اب جو ایک دفعہ دیکھ لوں پھر نہیں دیکھتی ۔ ” ہم دل دے چکے صنم ” بہت دیکھی ہے ۔
سوال : ہما وقاص نے ابھی تک کوئی ہارر ناول / ناولٹ کیوں نہیں لکھا اور کیا وہ آگے لکھنا پسند کریں گی؟؟
جواب : میں شاید خود کو ہارر لکھنے کے لیے تیار نہیں سمجھتی ۔ اس کی وجہ شاید بہت زیادہ حقیقت پر مبنی لکھنا ہے یا کچھ اور لیکن میں ہارر لکھوں گی ضرور ۔ کب یہ نہیں پتا ۔
سوال : کوئی مزاحیہ کردار جس پر لکھ کر یا لکھنا پسند ہو ؟؟
جواب : جی میرا ناول انوکھی جیت اس میں لڑکی کی ماں کا کردار اور مقسوم میں ہیرو کے دوست کا کردار ۔
سوال : کن شخصیات سے ملاقات کا موقع ملے تو لازمی جائیں گی؟
جواب : مولانہ طارق جمیل ۔
سوال : ہما وقاص کی کہی جنرل باتوں یا پوسٹ کو لےکر ہنگامہ کیوں ہوجاتا ہے ؟ لوگ اس پر دوسرے لکھاریوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ ایسی کیا وجہ کہ آپ ہر وقت مین مدعا بنی رہتی ؟؟ یا تو آپ تلخ حقائق سامنے رکھتی ہیں یا سچ ۔۔ اس پر ذرا روشنی ڈالیں۔
جواب : ہا ہا ہا بہت گرم سوال ہے یہ تو ۔ اچھا بات صرف اتنی سی ہے کہ میں کہیں بھی جب بہت انوالو ہوتی ہوں تو وہاں کی گندگی میری برداشت سے باہر ہو جاتی ہے ۔ میں چپ بیٹھ کر تماشہ دیکھنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔ میں غلط کو غلط کہنے سے بالکل نہیں ڈرتی ۔ جو بات غلط ہے وہ غلط ہے ۔
میں صرف گندے مناظر لکھنے سے روکتی ہوں ۔ اور وہ پیغام سب کے لیے ہوتا ہے ۔ اب جب میں پوسٹ لگاتی ہوں اس بات کے خلاف تو اس پوسٹ کے کمنٹ میں لوگ کسی کا بھی نام لیں اس میں میرا قصور ہر گز نہیں ہوتا ۔ بات سیدھی سی ہے جب آپ پبلکلی کچھ بھی لکھ کر دھڑلے سے پوسٹ کر رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ اچھے ذہن ہضم نہیں کر سکیں گے ۔ اس کے خلاف بولیں گے تو پھر ان کے بولنے کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوئے پوسٹنگ کریں ۔
اب جو لوگ ایسا لکھ کر سستی شہرت کے تخت پر بیٹھ کر یہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اب بھی ان کی عزت ہی کرے تو وہ پھر میری اس سچی مگر کڑوی پوسٹ پر بھڑک اٹھتے ہیں اور سچی بات کرنے والے کو غلط قرار دے کر اپنی بے چین روح کو تسکین دینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ان کو اس پوسٹ کے بعد ملامت کرنے لگتی ہے اور میرا مقصد ان کی روح کو اور عقل کو جھنجوڑنا ہی ہوتا ہے ۔
چلیں اب چند ریڈرز کے سوال بھی شامل کرتے ہیں ۔
علی بابا کا آپ سے سوال ہے ۔
سوال : میں نے آپ کے تقریباً چند ناولز پڑھے ہیں اور میں حیران ہوں کہ اس قدر حیرت انگیز لکھنے کا انداز، سٹوری میں تسلسل، مناسب الفاظ کا استعمال، اور سب سے بڑھ کر آپ ایسا لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے کا ذہن آپ کے ناولز جکڑ لیتے ہیں۔۔۔۔ میں حیران ہوں کہ کہ ایسی لکھاری کیوں منظر عام پر نہیں آ رہی؟ آپ ڈائجسٹ میں کیوں نہیں لکھ رہیں؟ آپ نے اپنے ٹیلنٹ کو کیوں صرف اور صرف فیسبک تک محدود رکھا ہوا ہے؟ کیا آپ نہیں چاہتی کہ لوگوں کو آپ کے سطر سطر رنگ بدلتے یہ ناولز پڑھنے کو ملیں؟
جواب : علی پہلے تو بہت شکریہ اس پسندیدگی اور تعریف کے لیے ۔ دیکھیں ڈائجیسٹ میں کہانی لکھنے کے بہت اصول ہوتے ہیں ۔ جس میں وہ کہانی کے پلاٹ کے سے زیادہ اس کے لکھنے کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہیں اور اگر اصول کے خلاف لکھا ہوا ہو تو قبول نہیں کرتے ۔ مجھے یہ لگتا ہے میری اردو اتنی اچھی نہیں ہے میں جملوں کی ربط اپنے انداز میں لکھتی ہوں اور بھی بہت کچھ ایسا جو ان کے اصول پر چلتے ہوئے نہیں لکھتی ۔ میں صرف کہانی لکھتی ہوں اور ایسے لکھتی ہوں جیسے میرے ذہن میں چلتی ہے ۔ اس لئے مجھے لگتا ہے مجھے ڈائجسٹ میں لکھنے کے بجائے اس پلیٹ فارم پر اپنی الگ پہچان بنانی چاہیے اور یہیں سے الگ اپنی کتابیں پبلش کروانے کا سوچنا چاہیے کیونکہ اب لوگوں کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائلز آ گئے ہیں اس لیے وہ ڈائجیسٹ خریدنا کم کر چکے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ شاید ایک وقت ایسا آئے جب ڈائجیسٹ خود آن لائن آ جائیں ۔
بریرہ شیخ کا سوال :
آپ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتی ہیں ؟ بہت اچھی سوچ اور رائٹنگ سٹائل بہت اوسم ہے ۔ کیا آپ نے نمرہ احمد سے کلاس لی ہوئی ہے اور اتنا اچھا فری میں کیوں لکھ رہی ہیں ؟
جواب : بریرہ بہت شکریہ کے آپ کو میری لکھی کہانیاں اتنی پسند آتی ہیں ۔ میں نے نمرہ احمد کو کبھی نہیں پڑھا اور یہ بات سو فیصد سچ ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے لکھنے میں ان جیسا انداز بالکل نہیں ہے ۔ وہ تو ماشااللہ بہت بڑا نام ہے لیکن میں یہ سمجھتی ہوں یہ صلاحیت قدرتی ہو تو ہی آپ کو لکھنا چاہیے ۔ کلاس لے کر یا پھر کسی ایک لکھاری کا ناول پڑھ کر اس کے انداز اور اس کی کہانی کو ہی کچھ ردبدل سے لکھنا یہ آپکی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ مجھے ویسے اپنا لکھا بذات خود بہت اعلی نہیں لگتا لیکن میں ایک بات یقین سے کہہ سکتی ہوں میں نے لکھنے میں اپنے منفرد انداز سے ہی یہاں تک تھوڑی بہت پہچان بنائی ہے ۔
فری تو نہیں لکھ رہی اتنے لوگوں کی محبت اس کی بھی تو قیمت ہے ۔ ویب پر لکھنے کا سوچ رہی ہوں لیکن ابھی ڈائجیسٹ کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں ۔
حسنی حسین کا سوال : السلام علیکم!
میم آپ سے سوال ہے کہ آخر کیوں آپ نے آن لائن اور خاص طور پر ایف بی کے لیے لکھنے کا سوچا،جب کہ آپ اتنا اچھا اور معیاری کنٹینٹ لکھتی ہیں۔ ؟
جواب :
بہت شکریہ اتنی محبت کے لیے لیکن مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ میں ڈائجیسٹ لکھاری کی طرح رموز و اوقاف اور جملوں کے ربط کو نہیں لکھتی ۔ آن لائن صرف شوق کی خاطر آئی ۔ بک پبلش ان شا اللہ ضرور کرواؤں گی ۔
حفصہ احمد کا سوال :
آپ کا ناول چراغ شام سے پہلے بہت اچھا ہے ۔ کیا آپ کبھی اس پر ڈرامہ بنائیں گی؟
جواب :
نہیں ایسی قسمت کہاں کہ کوئی ڈرامہ نگار کی نظر میری تحریر پر پڑے ۔ دعا کریں اللہ پاک اتنی عزت دے شاید کبھی کوئی دیکھ لے اور اسے بھی آپ کی طرح میرا لکھا ہوا پسند آ جائے ۔ اگر ایسا ہوا تو ضرور بناؤں گی ۔ کیونکہ میری اس کہانی میں نئی جنریشن کے لئے بہت اہم پیغام ہے ۔
جیا انصاری کا سوال :
اتنے یونیق اور سٹینڈر آئیڈیاز , اتنی ٹف روٹین میں آپ کے ذہن میں کیسے آتے ہیں ؟
جواب : روٹین تو واقعی بہت ٹف ہے لیکن دراصل سوچنا میرا مشغلہ ہے ۔ سوچتے سوچتے خود ہی خیالات ایک کہانی کو جنم دیتے ہیں اور اکثر کچھ ایسا حقیقی زندگی میں نگاہوں کے سامنے سے گزرے تو لگتا ہے یہ کہانی بنے تو کیسی ہو اور اس کو میں کیسے لکھ سکتی ہوں کیا یہ لوگوں تک پہنچنی چاہیے ۔ کیا یہ بالکل الگ پہچان بنائے گی یہ گھسی پیٹی تو نہیں ہے ۔ بس ان سوالوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہانی کو لکھ دیتی ہوں ۔
چلیں قارئین کے اتنے سوال کافی ہیں ۔ اب پھر سے اپنے سوالوں کا سسلسلہ شروع کرتے ہیں ۔
سوال : آپ کو اپنا لکھا کونسا ناول پسند ہے ؟
جواب : مجھے ابھی تک اپنا لکھا کوئی ناول پسند نہیں ۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ ایسا لکھ سکی ہوں جو بہت متاثر کن ہو ۔ شاید زندگی میں کچھ ایسا لکھ لوں کبھی ۔
سوال : نئی لکھاریوں کے لئے پیغام ؟
جواب : تمام نئے لکھاریوں کو یہی کہوں گی کہ آپ کی قلم کا درست استعمال نسل کو سنوار دے گا اور غلط استعمال بگاڑ دے گا ۔ کچھ بھی لکھیں سوچ سمجھ کر لکھیں صرف لوگوں کو انٹرٹین کرنے کے لئے مت لکھیں ۔

 

Huma Waqas Novels