Ghamiz by Nazia Kamran Kashif
غامض – نازیہ کامران کاشف
قسط 1
Year – 1224
القیروان – تیونس
اس کے قدم تیزی سے سوق کی طرف بڑھ رہے تھے۔ استاد محترم کا بیان شروع ہونے والا تھا۔ آج اس نے جمعے کی نماز پڑھنے کے لئے جامع القیروان الاکبر جانے کا فیصلہ کیا تھا اور وہاں موجود جم غفیر کی وجہ سے اسے باہر نکلنے میں کافی دیر ہوگئ تھی۔ وہ اگلی صفوں میں بیٹھنے کا عادی تھا مگر آج یہ امر ناممکن لگ رہا تھا۔ اور سوق کے مرکزی چوک میں داخل ہوتے ہی اسکے خدشات سچ ثابت ہوۓ تھے۔ سوق میں بے پناہ رش تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارا تیونس نماز ادا کرتے ہی خریداری کے لیے سوق میں امڈ آیا تھا۔
سوق کی گلیوں میں خرید و فروخت کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ وہ اس ہجوم کو چیرتا ہوا مکتب کی طرف بڑھنے لگا مگر یہ اتنا آسان تو نہ تھا۔ وہ کتابیں بغل میں دباۓ بچتے بچاتے بمشکل ہی مکتب کی سیڑھیوں تک پہنچا تھا۔ اس نے سیڑھیوں پر رک کر اپنی سانس بحال کی اور جلدی سے مکتب میں داخل ہوگیا۔ اسکی توقع کے عین مطابق وہاں طالب علموں کی صفیں بھر چکی تھیں۔ وہ مایوسی سے سر ہلاتا پچھلی صفوں میں بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگا اور بالاخر اسے جگہ مل ہی گئی تھی۔
اس نے نیچے بیٹھ کر کتابیں اپنی گود میں رکھیں اور مکتب کا جائزہ لینے لگا۔ ایک عجیب سی کشش تھی اس مکتب میں۔ شاید علم کی طلب تھی یا استاد محترم کی شخصیت کا رعب ، وہ ہمیشہ ہی یہاں کھنچا چلا آتا تھا۔ دیوار گیر خانوں میں رکھی وہ بے شمار کتابیں ، علم کا خزانہ، مکتب کے فرش پر بچھے وہ ایرانی قالین ، پرانے کاغذوں کی مہک ، استاد محترم کی نشست پر رکھے انکے قلم اور دوات کی شیشیاں ، مختلف اقسام کے پودے، پھول، جڑی بوٹیاں اور حشرات الارض سے سجی وہ شیشیاں جن میں محلول ڈال کر استاد محترم نے انہیں اصلی حالت محفوظ کرلیا تھا۔ اسے ہر دفعہ دیکھنے پر یہ سب نیا معلوم ہوتا تھا۔ اور پھر لمبے چوغے اور سفید دستار پہنے وہ طالب علم! وہ بھی تو انہی میں سے ایک تھا۔ یہ اور بات تھی کہ وہ یہاں کئی سالوں سے آرہا تھا مگر علم کی طلب اسے کبھی بھی خود کو برتر سمجھنے پر اکساتی نہیں تھی۔ وہ عاجز تھا۔ اپنی اوقات جانتا تھا۔ کائنات کے مالک و خالق سے واقف تھا۔ بڑائی کا دعویٰ کرنے والوں سے ڈرتا تھا لہذا ہمیشہ کے لیے طالب علم کے درجے پر فائز ہوگیا تھا۔
اگلی صفوں میں موجود طالب علم احتراماً کھڑے ہو رہے تھے ۔ استاد محترم آچکے تھے۔ پچھلی صفوں نے بھی پیروی کی تھی۔ استاد محترم کے بیٹھتے ہی وہ سب بھی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے۔
“السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ !” انکے سلام کے جواب میں تمام طلب علموں نے یک زبان ہوکر سلام کا جواب دیا تھا۔
وہ شیخ عبد العزیز ابن ابوبکر المحدوی تھے۔ مغرب میں صوفیانہ سلسلے کے آغاز کی بنیاد رکھنے والی اہم کڑی۔ روحانی سفر پر انکے بیان اور کتابیں تیونس میں ایک انقلاب برپا کررہی تھیں۔ انہوں نے وہاں موجود طالب علموں پر گہری نظر ڈالی اور اپنے سامنے رکھے کاغذات کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
“گزشتہ روز ہم نے روح کے سفر پر بات کی۔ آج ہم اس سفر کی شروعات اور مقصد حیات پر بات کریں گے۔” وہ کاغذات کا جائزہ لیتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولے۔ طالب علموں نے ایک ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔ مکتب میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔ سب اپنے کاغذ قلم سنبھال چکے تھے۔
“جب تک بشر کا جسم اس دنیا میں موجود ہے اسکی روح کے سامنے ایک پردہ حائل رہے گا۔ روحانی سفر اللہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ ہے مگر دنیا اور غیب کے بیچ یہ پردہ ہمیشہ حائل رہنا ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ وہ ہر شے ہر قادر ہے۔ جب روح کی آزادی کا وقت آۓ گا اور وہ جسم کو چھوڑ کر عالم بالا کی طرف پرواز بھرے گی تب بھی صحیح وقت آنے تک آپ کے اور خالق کے بیچ ایک پردہ ہمیشہ حائل رہے گا۔ غامض ہیں اس کائنات کے راز اور ان رازوں پر قادر ہے اللہ کی ذات ہمیشہ سے اور ہمیشہ تک! تو بس ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنی حدود میں رہیں۔ ان رازوں کو حاصل کرنے کے لیے اتنا آگے نہ بڑھ جائیں کہ لوگ ہم سے ماضی و مستقبل کی معلومات حاصل کرنے آئیں۔ علم کے درجات ہیں، اقسام ہیں، یہ ان ذہنوں کو عطا کیا جاتا ہے جو اسکا حق ادا کرسکیں ، اسکا صحیح استعمال کرنا جانتے ہوں۔ دنیاوی علوم کی خواہش رکھنے والوں کو دنیاوی علوم اور علم فلکیات کی خواہش رکھنے والوں پر آسمانوں کے در وا کردئیے جاتے ہیں، خواہشات کی حد نہیں، طلب کی حد نہیں مگر ۔۔۔۔۔۔ اللہ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لیے ایک حد مقرر ہے۔ اس سے آگے کوئی بھی اللہ کہ مرضی کے بغیر نہیں پہنچ سکا۔ ہاں ذریعے ہیں اپنی بات اس بارگاہ تک اپنی آواز پہنچانے کے جیسے دعا، نماز، طواف، سجدے، مراقبہ، توبہ اور قرآن!
قرآن کا ایک ایک حرف، ایک ایک نقطہ معجزہ ہے، اسما الحسنی معجزہ ہیں۔ تو بس جب غیب سے مدد حاصل کرنی ہو اپنا مستقبل و حال بہتر بنانا ہو یا ماضی کی تلخیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو تو اللہ کو قرآن سے، اسما الحسنی سے پکارنا۔ دیکھنا معجزات اپنی آنکھوں سے، اپنے دل و دماغ کا سکون دیکھنا، رزق کی فراوانی دیکھنا، عزت و تکریم دیکھنا۔ یہ معجزات ہی تو ہیں۔ یہ بشر نہ جانے کونسے معجزات دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ تمہیں رزق دے رہا ہے، ناشکری کے باوجود ، تمہیں رازوں پر ، گناہوں پر پردہ ڈالے ہوۓ ہے، تمہیں نیند عطا کی، اولاد عطا کی، علم دیا، شعور دیا ، صحت مند جسم دیا، سوچنے والا دماغ دیا اور کن معجزات کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہو؟ کہاں تک پہنچنا چاہتے ہو ؟ جہاں بھیجے گئے ہو پہلے اسکو سنوارنے کی فکر کرو۔ وقت آنے پر سب ظاہر ہوگا۔ تم اپنا نام کاہنوں میں نہ لکھو الینا۔” وہ اپنی بات جاری رکھے ہوۓ تھے مگر اسکے ذہن کی سوئی انکے اس جملے کی بازگشت پر اٹک گئی تھی۔ اس نے اپنی گود میں رکھے کاغذات پر نظر ڈالی۔
“تم اپنا نام کاہنوں میں نہ لکھوالینا۔”
“تم اپنا نام کاہنوں میں نہ لکھوالینا۔”
“تم اپنا نام کاہنوں میں نہ لکھوالینا۔”
“ابو عباس! استاد محترم تم سے مخاطب ہیں۔” اسکے ساتھ بیٹھے نوجوان نے اسکے بازو کو چھو کر اسے مخاطب کیا تھا۔
وہ چونک کر سیدھا ہوا۔ طالب علم مکتب سے باہر نکل رہے تھے۔ شاید بیان ختم ہوچکا تھا۔ وہ نہ جانے کتنی دیر اسی طرح بیٹھا رہا تھا۔ استاد محترم کی نظریں اس پر تھیں۔ وہ جلدی سے اٹھ کر انکے قریب چلا آیا۔ انہوں نے ابو عباس کو پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کچھ طالب علموں کے سوالات کے جوابات دینے لگے۔ مکتب آہستہ آہستہ خالی ہورہا تھا۔ وہ خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔
شاید استاد محترم اس سے تنہائی میں بات کرنا چاہتے تھے ۔ اسکے کاندھوں پر منوں وزن آ پڑا تھا۔ کیا آج کا بیان اسکے لئیے تھا؟ اسکی برسوں کی محنت اور ریاضت اسے کاہنوں کی فہرست میں کھڑا کرنے والی تھی۔ اگر ایسا تھا تو شاید آج کے بعد وہ استاد محترم سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہتا۔
“کیسے ہو ابو عباس؟” وہ انکے شفقت بھرے لہجے پر سر اٹھانے کے قابل ہوا تھا۔
“الحمدللہ! استاد محترم۔” وہ دھیمی آواز میں بولا
“میں نے تمہاری کتاب کے مسودے کو پڑھا ہے۔ میں تمہارے علم سے متاثر ہوا ہوں۔ جیسا کہ ابھی میں نے کہا کہ علم بھی اسے ہی عطا کیا جاتا ہے جو اسے سنبھالنے کی طاقت رکھتا ہو۔ مگر مجھے علم سے زیادہ علم والے کی نیت جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے۔ تو ابو عباس مجھے اپنی نیت بتاؤ پھر میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا۔” شیخ عبد العزیز دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی آنکھوں کا جائزہ لیتے ہوئے بولے۔
ابو عباس کو انکی آنکھیں روح کے اندر جھانکتی محسوس ہوئیں تھیں۔ اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“استاد محترم! نیت اللہ کی قربت حاصل کرنا ہے۔ خلقت کی مدد اور تکالیف کو صرف اور صرف اللہ کی مدد سے حل کرنا ہے۔ کاہنوں جیسے فتنے سے انکو بچانا ہے جو دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔ جن مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ ان کاہنوں کی طرف رخ موڑ رہے انہیں وہ اللہ کی مدد سے خود بھی حل کرسکتے ہیں۔ خلقت کا رابطہ خالق سے کروانا ہے۔” وہ ٹہرے ہوۓ لہجے میں بولا۔
“ہممم ! خلقت کا رابطہ نماز کے ذریعے پہلے سے ہی خالق سے جوڑ دیا گیا ہے۔” وہ ابو عباس کی نیت سے مطمئن تھے مگر اسے تھوڑا اور آزمانا چاہتے تھے۔
“جی! کوئی شک نہیں استاد محترم! بس کچھ لوگ صبر کا مفہوم نہیں سمجھتے، مانگنے کا طریقہ نہیں جانتے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بھٹکیں نہیں۔ جو بھی طریقہ اختیار کریں اللہ کا پسندیدہ ہو۔” وہ با ادب لہجے میں ان سے مخاطب تھا۔
“ٹھیک ہے ابو عباس ۔ مگر ایک بات کا دھیان رکھنا۔ جیسے علم کے درجات ہیں ویسے ہی مخلوق کے بھی ہیں۔ انسان کو اسکے درجات کے حساب سے علم بانٹنے کی کوشش کرنا۔ ورنہ نقصان اٹھاؤگے۔ تم جن علوم پر کام کررہے ہو اس سے متعلقہ مدارس اور کتب مصر میں کثرت سے موجود ہیں۔ وہاں ان علوم پر بہت کام کیا گیا ہے۔ یا یوں سمجھ لو کہ مصر ان علوم کی ابتدا اور گڑھ ہے۔ تمہیں مصر کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ وہاں میرے ایک طالب علم اور عزیز ابو بکر محمد ابن عبداللہ ابن العربی سے جا کر ملو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں فرمائیں۔” وہ اپنی بات مکمل کرکے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“مصر؟ استاد محترم۔۔۔۔ میں آپ کے زیر سایہ اس کام کو انجام دینا چاہتا ہوں۔” ابو عباس ہچکچایا۔
“ابو عباس! میری طبیعت ناساز رہنے لگی ہے۔ تمہیں صحیح راستہ دکھانا میرا فرض ہے۔ ابن العربی میں اور مجھ میں فرق نہ سمجھنا۔ تیونس میں وہ خزانہ نہیں جسکی تمہیں تلاش ہے۔ سفر میں خیر ہے۔ تم بے فکر ہوکر جاؤ۔ فی امان اللہ!” وہ مسکرا کر مکتب سے ملحقہ کمرے میں داخل ہوگئے تھے۔
ابو عباس خاموشی سے وہیں کھڑا رہا۔ استاد محترم سے دوبارہ سوال جواب کرنے کی جرات اس میں نہیں تھی۔ تو کیا وہ مصر کا رخت سفر باندھے؟
وہ سوچ میں پڑ گیا۔ ویسے بھی تیونس میں اسکا کوئی نہیں تھا۔ والدین کے انتقال کے بعد اس نے اپنا وقت تعلیم کے لیے وقف کردیا تھا۔ یہاں بھی وہ اللہ کے بھروسے پر تھا اور مصر میں بھی اللہ کے بھروسے پر ہی جاتا۔
یہاں رکنے کی سب سے بڑی وجہ شیخ عبد العزیز ہی تھے۔ مگر یہ سچ تھا کہ انکی طبیعت اب اکثر ہی ناساز رہنے لگی تھی۔ مگر وہ ابو عباس کو دوسرا راستہ دکھا رہے تھے۔ ابو عباس نے ابوبکر محمد ابن عبداللہ ابن العربی کا نام سن رکھا تھا۔ استاد محترم کے حوالے سے وہ ان سے جا کر مل سکتا تھا۔
ابو عباس نے ایک تفصیلی نظر اس خالی مکتب پر ڈالی اور فیصلے پر پہنچ کر مکتب سے باہر نکل آیا تھا۔ سوق میں اب بھی ویسا ہی رش تھا۔ اسے القیروان کی یہ رونق یاد آنے والی تھی مگر اس نے قاہرہ کے بازاروں کی رونق کے بارے میں بھی کافی کچھ سن رکھا تھا۔
اس کے قدم تیزی سے اپنی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے لگے۔ اسے سفر کی تیاری کرنی۔ وہ فجر کے بعد ہی مصر کا سفر شروع کرنے والا تھا۔ یہ نیا ملک اسکے لئیے علم کے نئے در وا کرنے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Year 1573
راج گڑھ – راجھستان – ہندوستان
راج گڑھ پر رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اونچی نیچی پتھریلی چٹانیں جن پر دن میں چڑھنا بھی بے حد مشکل تھا۔ وہ اس گہری رات کے اندھیرے میں اپنے سیوکوں کے ساتھ اسے پار کرنے کی کوششوں میں ہلکان ہوۓ جارہے تھے۔
خار دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں نے یہ کوشش مزید مشقت طلب کردی تھی۔ ان کو عادت بھی تو نہیں رہی تھی۔ مہاراجہ کے تخت پر براجمان ہونے کے بعد انہیں انکی پرجا اور ریاست کے مسائل نے اس تخت سے اٹھنے ہی نہیں دیا تھا۔
اس طرح کے بھاگ دوڑ والے کام انکے مشیر، وزیر ہی کردیا کرتے تھے لہذا اپنے پیروں پر چل کر کسی کے در پر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور وہ بھی درخواست گزار بن کر۔
“سی ی ی ی ی ۔” انہیں کسی نوکدار چیز کے پیروں میں چبھنے کا احساس ہوا تھا۔ انکے منہ سے سسکاری نکل گئی۔
“کیا ہوا حضور۔” مشعل پکڑے آگے چلتا اشوک سنگھ فکرمندی سے پلٹا۔
اسکے رکتے ہی سپاہی اور دوسرے مشیر بھی چوکنے ہوکر انکی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
“شاید کوئی کیڑا کاٹ گیا ہے۔” وہ پاس موجود چٹان پر بیٹھ کر اپنا جوتا اتار کر جھاڑنے لگے۔
“حضور ہم اجازت لیکر آجاتے گرو جی سے۔ آپ کو یہ کٹھن اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔” کرشن کمار جو کہ انکا سپہ سالار بھی تھا رات کے اس پہر انکے محل سے باہر نکلنے پر راضی نہیں تھا مگر انکے حکم کی تعمیل کرنے پر مجبور تھا۔
“گرو جی کو ناراض نہیں کرسکتے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ چنتا کی کوئی بات نہیں۔ چلو۔” وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے تھے۔ باقی سب نے بھی انکی پیروی کی تھی۔
وہ امبر راج کے مہاراجہ بھگونت سنگھ تھے۔ دور تک پھیلا انکا راج اور پرجا کی خوشحالی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ ایک منصف حکمران تھے۔ اپنے مشیروں کے ساتھ وہ اکثر ہی مختلف علاقوں میں پڑاؤ ڈالتے تھے تاکہ ہر عام و خاص کے مسائل سے آگاہ رہیں اور انکا بروقت سدباب کیا جاسکے۔ اس بار بھی اسی نیت سے راج گڑھ میں پڑاؤ ڈالا گیا تھا مگر اس علاقے کی خوبصورتی، بلند و بالا سر سبز پہاڑوں نے انکا دل موہ لیا اور انہیں اپنی پتنی بھاگوتی دیوی سے کیا گیا وہ وعدہ یاد آیا۔ انہوں نے بھاگوتی سے اپنے بیٹے مدھو سنگھ کے لئیے ایک شاندار قلعہ بنوانے کا وعدہ کیا تھا۔ ایسا قلعہ جسکا پورے ہندوستان میں کوئی مقابلہ نہ ہوتا۔ طویل ترین، بلند و بالا اور پر وقار ۔
ایسے میں راج گڑھ بہترین انتخاب ثابت ہوا۔ انہوں نے پہاڑوں اور ہریالی سے بھرپور علاقے کا انتخاب کرکے قلعہ تعمیر کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے۔
اگلے کچھ دن کاریگروں اور نقشہ سازوں کے ساتھ مذاکرات میں گزرے تھے۔ قلعے کی بنیاد کے ادگھاٹن کے لئیے انہوں نے بھاگوتی کو بلوا بھیجا تھا۔ بھاگوتی پیغام ملتے ہی مدھو سنگھ کو ساتھ لئیے محل سے روانہ ہوگئی۔ مگر مہورت سے دو دن پہلے راج گڑھ کے تمام پنڈت انکے دربار میں ایک انوکھی سمسیا لیکر حاضر ہوۓ تھے۔ انکے مطابق قلعے کی زمین پر گرو بالو ناتھ کا بسیرا تھا۔ وہ کئی سالوں سے راج گڑھ کے ان پہاڑوں پر اپنی تپسیا پوری کررہے تھے اور انکی اجازت کے بغیر یہ تعمیراتی کام انکے شراپ کو دعوت دے سکتا تھا۔
بھگونت سنگھ یہ بات سن کر پریشان ہو گئے تھے۔ پنڈتوں کی باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ گرو بالو ناتھ بہت پہنچے ہوۓ سادھو ہیں۔ بھگونت سنگھ کے لئیے نہ صرف انکی اجازت بلکہ انکا آشیرواد لینا بھی ضروری ہوگیا تھا۔
مگر گرو جی اتنی آسانی سے کسی سے بھی ملنے کے لیے راضی نہیں ہوتے تھے۔ بالآخر سات پنڈتوں پر مشتمل ایک گروہ انکے پاس اجازت لینے کے لیے حاضر ہوا تھا اور انہوں نے مہورت سے ایک رات پہلے بھگونت سنگھ سے ملنے کی رضامندی ظاہر کردی تھی۔ وہ راج گڑھ کے سب سے اونچے پہاڑ پر ایک کٹیا میں مقیم تھے اور رات کے وقت ہی ملاقات کے لیے دستیاب ہوتے لہذا بھگونت سنگھ پیغام ملتے ہی بلا تاخیر اپنے مشیروں کے ہمراہ ان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔
ادگھاٹن میں ایک دن رہ گیا تھا۔ آگر وہ آج رات اجازت لئے بغیر ہی ادگھاٹن کردیتے تو تعمیراتی کام تیزی سے شروع ہوجاتا اور یہ اپ شگن ہوتا۔
جوتا جھاڑنے کے بعد سفر دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔ اور بالآخر پہاڑ کی چوٹی پر موجود گرو بالو ناتھ کی کٹیا کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے۔ یہ ٹاٹ اور سوکھی ٹہنیوں سے بنی ایک معمولی سی کٹیا تھی۔ کٹیا کے اندر جلتے دیئے کی مدھم لو نے انہیں کٹیا تک پہنچنے میں مدد دی تھی ورنہ تو وہ کٹیا اندھیرے کا حصہ ہی معلوم ہورہی تھی۔
بھگونت سنگھ کٹیا سے چند قدم دور رک کر اپنی سانس بحال کرنے لگے۔ پہاڑ کی چوٹی پر ویرانی کا راج تھا اور سردی بھی کافی بڑھ گئی تھی۔ انکے ساتھ آئے سپاہی چوکنا ہوکر اردگرد پہرا دینے لگے۔
اشوک سنگھ نے مشکیزے سے پانی نکال کر انکے حضور پیش کیا تھا۔ انہوں نے پانی کا پیالہ تھام لیا۔ اشوک سنگھ انکا سب سے پرانا ساتھی اور بھروسے مند وزیر تھا لہذا اسکے ہاتھ سے وہ کسی بھی چیز کو بغیر شک و شبہ کے کھا پی سکتے تھے۔ انہوں نے پانی ختم کرکے پیالہ اشوک سنگھ کی طرف بڑھایا اور کٹیا کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
“حضور پہلے میں اندر جاکر تسلی کرلوں پھر آپ اندر جائیں۔” کرشن کمار تیزی سے آگے بڑھا تھا۔
“نہیں۔ یہ وہ جگہ نہیں جہاں دربار جیسے ششتاچار اپناۓ جائیں۔ تم ٹہرو میں اجازت لیکر آتا ہوں۔” وہ تیزی سے کٹیا کی طرف بڑھ گئے۔
کرشن کمار نہ چاہتے ہوئے بھی حکم کی تعمیل کرنے پر مجبور تھا لہذا سپاہیوں کو کٹیا کے قریب کھڑے ہونے کی ہدایات جاری کرنے لگا۔
بھگونت سنگھ کٹیا کے قریب پہنچ کر رک گئے۔ کٹیا پر ٹاٹ کا پردہ ڈلا ہوا تھا۔
“گرو جی۔میں بھگونت سنگھ۔ آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتا ہوں۔” انہوں نے باہر کھڑے ہو کر آواز لگائی۔
“آجاؤ۔” اندر سے گھمبیر آواز میں اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے پلٹ کر اپنے سیوکوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور اکیلے ہی اندر داخل ہوگئے۔
اندر داخل ہوتے انکی نظر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے گرو جی پر پڑی تھی۔
چھوٹی سی کٹیا تھی۔ ایک طرف پانی کا مٹکا اور مٹی کا کٹورا ساتھ رکھا تھا۔ کٹیا کی زمین پر ایک پرانی چادر بچھی ہوئی تھی۔ جس پر گرو جی براجمان تھے۔ ایک طرف مٹی کا دیا جل رہا تھا۔ کٹیا میں اسکے علاوہ اور کوئی سامان نہ تھا۔
بھگونت سنگھ نے گروجی کے حلیے پر نظر ڈالی۔ کمزور سراپا، بدن پر لنگوٹ اور ایک ہلکی سی قمیض، بڑھے بال اور بڑھی داڑھی۔ آنکھوں میں سرخی کے ساتھ ساتھ زمانے کو جانچنے کی چمک بھی موجود تھی۔ وہ نظریں جھکا کر کھڑے ہوگئے۔ ان کے پرکھوں نے ہمیشہ پنڈتوں اور گروؤں کی عزت کی تھی تو یہ ان پر بھی لازم تھا کہ یہاں اپنی بڑائی بھول کر وہ سوالی بن جائیں اور گرو جی کا آشرواد ساتھ لیکر جائیں۔۔
“کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔” گرو جی کی آواز میں رعب نہیں تھا مگر آواز پاٹ دار تھی۔
“گرو جی میں اس راج کا راجہ بھگونت سنگھ ہوں۔ اپنے سیوکوں کے ساتھ راج گڑھ میں پڑاؤ ڈالا تو یہ علاقہ دل کو بھا گیا۔ اپنے راجکمار کے لیے یہاں ایک قلعہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ مگر راج گڑھ کے پنڈتوں کا کہنا ہے کہ آپ کی اجازت سے ہی یہ کام شروع کیا جاۓ لہذا آپ کے آشیرواد کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ ” انہوں نے جلدی جلدی اپنی بات مکمل کی۔
“یہاں قلعہ تعمیر نہیں ہوسکتا بھگونت۔ یہ شراپ کو دعوت دینے والی بات ہے۔” گرو بالو ناتھ کو یہ بات سن کر جھٹکا لگا تھا۔
“گرو جی۔ آپ اجازت دے دیں تو کیسا شراپ۔ اپنے در سے اس سوالی کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔ میں اپنی پتنی اور بیٹے سے وعدہ کرچکا ہوں۔” وہ لہجے کو حد درجہ مؤدبانہ کرچکے تھے۔
“میں شراپ نہیں دیا کرتا۔ بھگوان کے کام بھگوان ہی جانے۔ آج سے کئی سال پہلے یہاں ایک نحوست کے قدم پڑے تھے۔ اس نے یہیں بسیرا کرلیا۔ یہ اسکا علاقہ ہے۔ وہ یہاں کسی کو بسنے نہیں دیتا۔ بھگونت تو اپنا لشکر سمیٹ اور یہاں سے دور چلا جا۔ مت پڑ اس گورکھ دھندے میں۔” گرو جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے۔
“گرو جی آپ کے یہاں ہوتے کس نحوست کی جرات ہوگی جو وہ ہم پر اپنا سایہ ڈالے۔ میں آپ سے اجازت لئیے بغیر یہاں سے کہیں نہیں جاؤنگا۔” بھگونت انکے قدموں میں جا بیٹھا تھا۔
“بھگونت! ضد نہ کر۔ میں یہاں اس سے مقابلہ کرنے نہیں بلکہ لوگوں کو خبردار کرنے بیٹھا ہوں۔ اس قلعے کا خیال اپنے دل سے نکال دے۔” انہوں نے بات مکمل کرکے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھیں۔
“گرو جی میں اجازت لئیے بغیر کہیں نہیں جانے والا۔ میں اجازت ملنے تک یہیں بیٹھا رہونگا۔” وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئے تھے۔
گرو جی نے بات ان سنی کرکے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھیں۔ مگر بھگونت سنگھ بھی اپنی ضد کے پکے تھے۔ وہ گرو جی کو منا کر ہی واپس جانے والے تھے۔
اشوک سنگھ کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ بھگونت سنگھ کو کٹیا میں داخل ہوۓ کافی دیر ہوچکی تھی۔ مگر وہ باہر ہی انتظار کرنے پر مجبور تھا۔
رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔ گرو بالو ناتھ ، بھگونت کی موجودگی کو محسوس کر سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں نہ کھولیں۔ وہ ریاست کے راجہ کو جانتے بوجھتے موت کا راستہ نہیں دکھا سکتے تھے۔
بالآخر سورج نے ہی دونوں طرف کے انتظار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گرو جی نے سورۓنمشکار کے لیے آنکھیں کھولیں تو بھگونت کو ہاتھ جوڑے سامنے بیٹھا پایا۔ انکے منہ سے گہری سانس خارج ہوئی تھی۔
“بھگونت یہ ضد چھوڑ دے۔” اس بار انکے لہجے میں رعب تھا۔
“گرو جی میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جس زمین پر آپ کے قدم پڑے ہوں وہ منحوس ہو ہی نہیں سکتی۔” بھگونت التجا کررہا تھا۔
گرو بالو ناتھ بغیر کوئی جواب دئیے کٹیا سے باہر نکل آئے تھے مگر وہاں کھڑے سپاہیوں اور درباریوں کو دیکھ کر چونک پڑے۔ گویا یہ سب بھی رات سے باہر کھڑے بھگونت کا انتظار کررہے تھے۔ وہ سب گرو جی کو دیکھتے ہی ہاتھ جوڑ کر ادب سے کھڑے ہوگئے تھے۔
بھگونت کٹیا سے باہر نکل آیا۔ اسے صحیح سلامت نکلتا دیکھ کر اشوک اور کرشن نے چین کی سانس لی۔
گرو جی پہاڑ کے کنارے پر جاکر کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ سورے نمشکار کی تیاری کررہے تھے۔ بھگونت بھی انکے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا۔ ان سب نے گرو بالو ناتھ کے ساتھ سورے نمشکار کیا تھا۔ گرو جی نے سورج پر نظر ڈال کر بھگونت کی طرف دیکھا۔
“تو تم نہیں مانو گے” نہ جانے وہ اس سے پوچھ رہے تھے یا تنبیہہ کررہے تھے۔
“میں یہیں ہوں گرو جی اور آپکا آشرواد ملنے تک یہیں کھڑا رہونگا۔ چاہے مجھے سات جنموں تک یہیں رہنا پڑ جاۓ۔” وہ بھی ضد کے پکے تھے۔
گرو جی نے انکے سیوکوں پر نظر ڈالی۔ تو یہ انہونی بھی لکھی جاچکی تھی۔
وہ اس انہونی کو روک تو نہیں سکتے تھے مگر اس سے ہونے والی تباہی کو پھیلنے سے روک ضرور سکتے تھے۔
“میری بات غور سے سنو بھگونت۔ پہاڑ کے دائیں طرف تم جو چاہے تعمیر کرو۔
مگر وہ درمیان والی پہاڑی پر اس تعمیر کا سایہ بھی نہ پڑنے دینا۔ میں جانتا ہوں یہ مشکل ہوگا۔ مگر اس پہاڑ کو تم نے اپنے قلعے کے ساۓ سے بچانا ہے۔ ” گرو جی نے اپنی کٹیا سے کچھ دور موجود ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کیا۔
“تو کیا آپ کا آشرواد مجھے مل گیا؟” بھگونت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
“میری بات پر دھیان دو بھگونت۔ اس پہاڑ سے اونچا کچھ تعمیر نہ کرنا۔” گرو بالو ناتھ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی تھی۔
“گرو جی آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔” بھگونت سنگھ نے انکے چرن چھو لئیے تھے۔
“اب تم جاؤ۔ میری بات یاد رکھنا اور دوبارہ یہاں کبھی مت آنا۔” گرو جی یہ کہہ کر اپنی کٹیا میں داخل ہوگئے تھے۔
بھگونت سنگھ کے پیر خوشی کے مارے زمین پر نہیں پڑرہے تھے۔ انہیں گرو بالو ناتھ کا آشرواد جو مل گیا تھا۔ یہ قلعہ انکے لئیے خوشیوں کی نوید لیکر آنے والا تھا۔ وہ اپنے سیوکوں کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کرچکے تھے۔ انہیں شام کو ہونے والے ادگھاٹن کی تیاری بھی تو کرنی تھی۔ وہ اپنے راجکمار کو اسکی زندگی کا سب سے بہترین تحفہ دینے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Year 1773
الشورجہ- بغداد
عراق
سورج آج سوا نیزے پر تھا مگر بغداد کے بازاروں کی رونق میں کمی لانے میں ناکام رہا تھا۔ بغداد ویسے بھی بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ مختلف ممالک سے تاجر اور خریدار یہاں جوق در جوق پہنچتے تھے۔ ریشم ، قالین اور مویشیوں سے لیکر کھانوں میں استعمال ہونے والے تمام مصالحہ جات بغداد میں بآسانی دستیاب تھے۔ الشورجہ جو کہ بغداد کا سب سے قدیم اور اہم بازار تھا اسوقت کسی میدان جنگ کا منظر پیش کررہا تھا۔ ہر طرف سے چیزیں بیچنے والوں کی چیخ و پکار خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کررہی تھی۔ بھاؤ تاؤ کرنے والوں نے الگ ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ عیاد اپنے دوا خانے سے باہر نکل آیا۔ بازار میں اس وقت تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔
“بابا نے کیا سوچ کر یہاں دوا خانہ بنایا تھا۔ جبھی تو اتنی مختصر عمر پائی۔ اس شور ہنگامے سے تو انسان کی عمر تیزی سے ڈھلنا شروع ہوگی۔” وہ پیشانی مسلتے ہوئے بولا اور دوبارہ دواخانے کے اندر داخل ہوگیا تھا۔
یہ ایک چھوٹا سا دواخانہ تھا۔ دیوارگیر لکڑی کے خانوں میں ان گنت پرانی شیشاں، جن میں نہ جانے عیاد کے بابا نے کونسا محلول بھر رکھا تھا، پرانی کتابیں، کچھ سفوف کی شیشیاں اور ایک طرف لکڑی کی میز اور دو کرسیاں موجود تھیں۔ مکڑی کے بے شمار جالے دوا خانے کی خستہ حالت کا اعلان کررہے تھے۔ ایک طرف پگھلی ہوئی موم بتیوں کا ڈھیر لگا تھا۔ وہ کرسی پر واپس آبیٹھا اور میز پر رکھی کتاب سے گرد جھاڑ کر اسے دوبارہ اٹھالیا۔
اسکے بابا کی وفات کے بعد یہ دواخانہ اسے ہی سنبھالنا پڑرہا تھا۔ ماں کی وفات تو اسکے بچپن میں ہی ہوگئ تھی۔ وہ عراق کے بہترین اداروں سے تعلیم حاصل کرچکا تھا۔ بغداد کے ایک ایک مکتب کی ہر کتاب اسے زبانی یاد تھی۔ مگر علم کی پیاس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ اسکی طبیعت میں موجود تجسس نے اسے مخفی علوم کی تعلیم حاصل کرنے پر اکسایا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی رہا تھا۔ مگر کچھ حدود تھیں جنکی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ اور یہی تلاش اسے اس ذات کے قریب لے آئی تھی جو کائنات کا خالق و مالک تھا۔ وہ اللہ سے قریب تر قریب ہوتا چلا گیا۔ اسکی تیسری آنکھ کھول دی گئی تھی۔ پھر چاہے وہ علم اعداد ہو یا علم فلکیات وہ ایک کے بعد ایک میدان فتح کرتا چلا گیا اور مابعدالطبیعات پر آکر رکا۔ اس پر علم کے بے شمار در وا ہوۓ تھے اور اسی دوران اسکی ملاقات نیل سے ہوئی تھی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ راتوں کو اکثر ہی جاگنے لگا تھا۔ اسے رات کے آخری پہر کی عبادت بہت پسند تھی۔ اس رات بھی وہ تہجد پڑھنے کے بعد ایک کتاب اٹھا کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ یہ کتاب اس نے آج ہی کتب خانے سے لی تھی۔ ابھی فجر کی اذان میں وقت تھا لہذا اس نے یہ وقت کتاب پر صرف کرنے کا سوچا۔ کتاب میں کچھ نقوش بنے تھے۔ ساتھ ہی آتشی مخلوق کو قبضے میں کرنے کی ہدایات درج تھیں۔ علم اعدادوشمار کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے وہ کسی حد تک ان نقوش سے واقف تھا۔ وہ ان نقوش پر غور کرنے لگا مگر اچانک ہی چونکنے پر مجبور ہوا تھا۔ اسے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ اس نے کتاب ایک طرف رکھ کر گہری سانس لی۔ اسکا ارادہ ان کو دعوت دینے کا نہیں تھا مگر وہ بن بلاۓ ہی چلے آۓ تھے تو خوش آمدید کہنا بنتا تھا۔
“السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!” اس نے بغیر کسی خوف کے سلام کیا تھا۔ اسے واقعی ڈر نہیں لگا تھا۔ ڈرنا بنتا ہی نہیں تھا۔ وہ عیاد ابیب تھا۔ صرف اللہ کی ذات سے ڈرنے والا۔
سایہ خاموش کھڑا رہا۔
“کیا نام ہے تمہارا ؟ میں کسی کی تنہائی میں مخل ہونا پسند نہیں کرتا اسلئے دوسروں سے بھی یہی امید رکھتا ہوں۔” وہ سنجیدگی سے کہہ کر دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔
کتاب اسکے سامنے سے کھینچ لی گئی تھی۔
“دیکھو۔ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہیں بوتل میں بند کرلوں۔” عیاد اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔
سایہ سرگوشی میں ہنسا تھا اور کتاب اسکے سامنے رکھ دی گئی تھی۔
عیاد خاموشی سے بیٹھ کر کتاب کے صفحے پلٹنے لگا۔
“میں یہاں سے گزر رہا تھا تو تمہیں یہ کتاب پڑھتے دیکھا۔ ہم اسطرح قابو نہیں آتے اور نہ اتنی آسانی سے بوتل میں بند ہوجاتے ہیں۔” وہ اسکے سامنے ظاہر ہوگیا تھا۔
عیاد نے اسکے سراپے پر نظر ڈالی۔
“میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ تم اس طرح قابو نہیں آتے۔” وہ اطمینان سے بولا۔ اسے ڈر محسوس نہیں ہوا تھا۔ وہ آتشی مخلوقات کی شبیہہ اکثر کتابوں میں دیکھ چکا تھا۔ اور وہ باوضو تھا اسلئے جانتا تھا کہ اسے نقصان نہیں پہنچے گا۔
“تم بہادر ہو۔ مجھے پسند آۓ۔ تو بتاؤ کسطرح قابو میں آتے ہیں ہم۔” وہ انسانی شکل میں آتے ہوۓ بولا۔ جب یہ آدم زاد اس سے ڈر ہی نہیں رہا تھا تو وہ بھی اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرچکا تھا۔
“اگر مجھے تمہارا نام معلوم ہوجاۓ تو تم میرے قابو میں آسکتے ہو۔” عیاد اس وجیہہ نوجوان کو دیکھ کر مسکرایا۔
“تم غلط ہو۔” نوجوان کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا۔
“میں غلط نہیں ہوسکتا۔ میرے علم کے مطابق تم مصر سے یہاں آۓ ہو۔ تمہارا قبیلہ دریائے نیل کے کنارے آباد ہے اور تمہارے بابا عروخ کو اس دریا سے اتنی محبت ہے کہ انہوں نے تمہارا نام ہی “نیل” رکھ دیا ہے۔” عیاد نیل پر زور دیتے ہوۓ بولا۔
“تم کون ہو؟” نیل کی آواز لڑکھڑائی تھی۔ وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے صاحب علم سے ٹکرا چکا تھا۔ اسکے بابا نے اسے ہمیشہ رات کے آخری پہر جاگنے والوں کو ڈرانے سے منع کیا تھا۔ اب وہ ایک بندہ بشر کے قبضے میں جانے والا تھا۔
“میں اس رب کائنات کا ایک معمولی سا بندہ اور طالب علم ہوں۔ تم فکر مت کرو۔ مجھے کسی کو قید کرنے کا شوق نہیں۔ میں تو پرندوں کو قید نہیں کرتا۔ تو بھلا تمہیں کیسے تکلیف پہنچاسکتا ہوں۔” عیاد مسکرایا۔
نیل چند لمحے بے یقینی سے اسے دیکھتا رہا۔
“تم جانتے ہو ناں کہ ہمیں قید کرنے کے کیا فائدے ہیں؟” نیل حیرت سے بولا۔
“تم مجھے خود کو قید کرنے پر راغب کررہے ہو؟” عیاد نے بھنویں اچکائیں۔
“نہیں۔ مگر۔۔۔ ایسا موقع کون ہاتھ سے جانے دیتا ہے ؟” نیل کو جواب چاہیے تھا۔
“جو مجھے تم سے معلوم کروانا ہے وہ مجھے پہلے سے معلوم ہے۔ اب میری نماز کا وقت ہورہا ہے۔ تم جاؤ۔” عیاد کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ مگر جب وہ نماز پڑھ کر لوٹا تو نیل کو وہیں کھڑا پایا تھا۔
“ارے تم گئے نہیں؟” عیاد نے سر جھٹک کر دوبارہ کتاب اٹھا لی تھی۔
“مجھے تم سے دوستی کرنی ہے۔” نیل مسکرایا۔
“وہ کیوں؟” عیاد کو حیرت ہوئی۔
“تم ایک انوکھے بشر ہو۔ مجھے پسند آۓ ہو۔ ہم دوست بن سکتے ہیں۔ میں تم سے سیکھنا چاہتا ہوں۔” نیل اسکے قریب چلا آیا۔
“ابھی تو تم مجھے بتارہے تھے کہ تمہیں قابو کرکے بہت سی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور اب تم مجھ سے ہی سیکھنا چاہتے ہو۔ حیرت انگیز۔” عیاد ہنسنے لگا۔
نیل نے ناراضگی سے اسکی طرف دیکھا۔ نہ تو وہ اس سے ڈرا تھا ، نہ اسے قابو کرنے کے جتن کررہا تھا اور تو اور وہ اس سے دوستی بھی نہیں کرنا چایتا تھا۔
“اچھا۔ مجھ سے دوستی کرنے کی کچھ شرائط ہیں۔ نماز کی پابندی، رات کے وقت عبادت میں مخل ہونے پر پابندی اور میرے علاوہ کسی دوسرے پر ظاہر ہو کر اسے ڈرانے پر پابندی۔ یہاں تک کہ میری اجازت حاصل نہ کرلو ۔ اگر یہ شرائط منظور ہیں تو میں دوستی کرنے کے لیے تیار ہوں۔” عیاد نے اپنی شرائط سامنے رکھیں۔
“بہت مغرور ہو تم عیاد۔ مگر مجھ جیسا رحمدل دوست تمہیں عطا کردیا گیا ہے تو خوش ہوجاؤ۔ میں یہ شرائط ماننے کے لیے تیار ہوں۔ مگر یہ دوسروں کو ڈرانے والی شرط میں کچھ ڈھیل مل سکتی ہے؟” نیل مسکرایا۔
“بالکل نہیں۔ اور ہاں جا کر سب سے پہلے فجر ادا کرو۔ شرائط کا اطلاق آج اور ابھی سے ہوگا۔” عیاد نے اس پر رعب جمایا۔
نیل منہ بنا کر ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا۔ مگر اسکے بعد سے وہ ساۓ کی طرح عیاد کے ساتھ رہتا تھا۔ عیاد کے دوست نہیں تھے۔ حصول علم اور تنہائی کی خواہش نے کبھی یہ موقع ہی نہیں دیا مگر نیل کی صورت میں اسے دوست مل گیا تھا۔ فارغ اوقات میں وہ نیل سے باتیں کرلیتا اور نیل اسکے علم و فہم سے مستفید ہولیتا۔ انکی دوستی انوکھی اور مثالی تھی۔ نیل اسے اکثر ہی مصر کی سرزمین کے قصے سناتا۔ وہاں کے مکتب اور علم کے ان خزانوں کے بارے میں بتاتا جو اس سرزمین نے اپنے سینے میں چھپاۓ ہوۓ تھے۔ عیاد کے دل میں مصر کی طرف سفر کرنے کا خیال ابھرتا مگر بابا کی وجہ سے وہ اس خیال کو خیال تک ہی محدود رکھنا چاہتا تھا۔ بابا بغداد چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتے تھے۔ یہاں انکا دواخانہ تھا۔ انکے بزرگوں کی قبریں تھیں۔ وہ طبیب تھے اور انکے برسوں پرانے مریض صرف انہی کے ہاتھ سے شفایاب ہوتے تھے۔ انکے دواخانے پر رش لگا رہتا جسکی وجہ سے انکا وقت اچھا گزر جاتا تھا۔
عیاد انہیں مجبور نہیں کرنا چاہتا تھا لہذا درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگیا۔ اب اسکا زیادہ تر وقت طالب علموں کے ساتھ ہی گزرنے لگا۔ نیل کے لیے تو فاصلوں کی قید نہیں تھی۔ وہ عیاد کی پکار پر مصر سے بغداد پہنچنے میں دیر نہیں لگاتا تھا۔ شاید زندگی اسی طرح گزر جاتی مگر بابا کی اچانک وفات نے عیاد کو تنہا کردیا تھا۔ چھبیس سال کی عمر میں اسکے سر سے باپ کا سایہ بھی رخصت ہوگیا تھا۔ غم کے چند دن گزارنے کے بعد وہ بابا کے دواخانے کی طرف چلا آیا۔ طب کی تعلیم اس نے بابا سے حاصل کررکھی تھی۔ دواخانہ چلانا اتنا مشکل نہ تھا۔ عیاد کے وہاں بیٹھتے ہی دواخانے پر پھر سے رش بڑھنے لگا تھا مگر وہ ایک ہفتے میں ہی اس معمول سے اکتا چکا تھا۔ اسے پڑھنے کے لئے وقت نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لوگ دواخانے میں صرف وقت گزارنے آتے تھے۔ اپنے مسائل سناتے، بیماریوں کی ایک لمبی فہرست ساتھ لاتے مگر تشخیص کرنے پر عیاد کو یہ فرضی بیماریاں کہیں نظر نہ آتیں۔ نہ جانے بابا ان سب کو کیسے برداشت کررہے تھے۔ اور پھر الشورجہ جیسے بازار کا بے پناہ شور۔ وہ مطالعے کو ترسنے لگا تھا۔
اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔ وہ حبس سے گھبرا کر باہر نکلا تو شور نے اسکا استقبال کیا تھا۔ وہ اکتا کر دوبارہ اندر چلا آیا اور کتاب اٹھا کر بیٹھ گیا۔
“عیاد دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔” اچانک سے نیل کی آواز سنائی تھی۔
“السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ آتے ہی سلام کیا کرو۔” عیاد ناراض ہوا۔
“وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ ناراض مت ہو۔ میں بھول گیا تھا۔ مجھے پتہ ہے کہ تم بیزار ہوچکے ہو۔ ” نیل شرارت سے مسکرایا اور ایک خوبصورت سا جامنی اور نیلے رنگوں کے امتزاج والا پھول اسکے سامنے رکھ دیا۔
“یہ کونسا پھول ہے؟” عیاد نے اشتیاق سے اس پھول کو اٹھا لیا۔
“مصری کنول! قدیم مصری تحریروں میں یہ پھول مصری سپاہیوں کے پرچم پر کندہ ہے۔ اہراموں میں تمہیں یہ جگہ جگہ کندہ نظر آۓ گا۔ یہ انکا مقدس پھول ہے۔” نیل نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
“سبحان اللہ۔ بہت ہی حسین پھول ہے۔” عیاد اس پھول کی خوبصورتی کو سراہنے لگا۔ اچانک کسی نے دواخانے کے دروازے پر دستک دی تھی۔ عیاد نے نیل کو اشارہ کیا تو وہ سر ہلا کر ہوا میں تحلیل ہوگیا مگر وہیں کھڑا رہا۔
وہ آنے والے کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا مگر عیاد کے سامنے ظاہر تھا۔
اچانک ہی دروازے پر ابو عبید نمودار ہوا تھا اس نے اپنی جواں سال بیٹی کو تھام رکھا تھا۔ جو نڈھال سی اپنے باپ کے کاندھے پر سر ٹکاۓ آہستگی سے چل رہی تھی۔ نیل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ گزشتہ پانچ دنوں میں یہ ابو عبید کا تیسرا چکر تھا۔ بقول اسکے کہ اسکی بیٹی کو شدید بخار تھا جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ عیاد دوا دے دے کر تھک چکا تھا۔ ابو عبید کو ایک پھر دواخانے میں داخل ہوتے دیکھ کر اسے شدید مایوسی ہوئی تھی۔ اسے تو لگا تھا کہ کل جو اس نے دوائی بنائی تھی وہ لازمی اثر کرنے والی تھی۔ مگر یہاں تو معاملہ جوں کا توں تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے بغداد کی نوجوان لڑکیوں کو عجیب سے بخار نے گھیر رکھا تھا۔ بخار کی علامات بھی عجیب تھیں۔ جسم گرم ہونے کے بجاۓ عام درجہ حرارت پر تھا مگر مریض نڈھال سا ہو کر اس تک پہنچتا۔ وہ اندازے سے دوا دے رہا تھا مگر اب اسے بھی فکر ہورہی تھی۔
“السلام علیکم! عیاد تمہارے ہاتھ میں شفا نہیں۔ تمہارے بابا کی ایک خوراک سے انسان صحت مند ہوجاتا تھا مگر دیکھو یہاں تو چار خوراکوں کے بعد بھی بیمار پر اثر ہی نہیں ہورہا۔” ابو عبید ناراضگی سے بولا اور اپنی بیٹی کو سہارا دیکر کرسی پر بٹھا دیا۔
“وعلیکم السلام! معذرت چاہتا ہوں محترم۔ آپ انہیں کسی اور طبیب کو دکھادیں۔ شاید میں انکی بیماری سمجھنے سے قاصر ہوں۔” عیاد نے بھی ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
“نہیں نہیں! مجھے آپ کی دوا سے فرق پڑا ہے۔ بابا تو ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں۔ ایک دو مذید خوراکوں کہ بعد میں بالکل ٹھیک ہوجاؤنگی۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے۔” اچانک وہ نڈھال لڑکی سیدھی ہو بیٹھی تھی۔
عیاد نے حیرت سے اسے اور ابو عبید کو دیکھا جو خود بھی حیرت سے گنگ کھڑا تھا۔
نیل کا ہلکا سا قہقہہ نکل گیا۔ عیاد نے اسے گھورا۔
“آپ وہ کل والی دوا دوبارہ بنادیں۔” لڑکی نے عیاد کو مخاطب کیا تھا۔ عیاد کندھے اچکا کر دوائیوں کی شیشیاں اٹھا کر مختلف محلول ایک چھوٹی شیشی میں بھرنے لگا۔
“اف یہ سراپا، یہ لمبا قد، مضبوط جسم، یہ صاف رنگ، شہد جیسی آنکھیں اور گندم کے خوشوں جیسے چمکدار بال، جب مسکراتے ہو تو موتیوں جیسے دانت کتنے بھلے لگتے ہیں۔۔۔ چہرے پر یہ گندمی رنگ کی ہلکی داڑھی مونچھیں تو پورے بغداد میں کسی پر اتنی بھلی نہیں لگتیں۔۔۔ تم بشر ہو یا یونانی دیوتا۔۔ ” نیل نے حیرت سے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو محویت سے عیاد کی پشت کو تک رہی تھی۔ یہ الفاظ اس نے زبان سے ادا تو نہیں کئیے تھے مگر نیل اسکی سوچ پڑھ سکتا تھا۔ نیل نے ایک نظر عیاد پر ڈالی جو ان سوچوں سے بے خبر اپنے کام میں مصروف تھا۔ وہ بلاشبہ ایک وجیہہ مرد تھا۔ نیل نے بغداد تو کیا پورے مصر میں اس جیسا حسین و جمیل شخص نہیں دیکھا تھا۔ یقیناً یہ لڑکی عیاد کے عشق میں گرفتار ہوچکی تھی۔ اور عیاد؟ کیا عیاد بھی؟ نہیں اگر ایسا ہوتا تو نیل سے چھپا نہیں رہ سکتا تھا۔ بلکہ عیاد تو صنف نازک سے دور ہی رہتا تھا۔
“یہ لیجیے محترم ۔ یہ دوا انہیں مکمل شفا یاب کردے گی۔” عیاد نے ابو عبید کو شیشی پکڑائی اور اسکی بیٹی کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا۔
ابو عبید نے جیب سے چند سکے نکال کر اسے تھماۓ اور اپنی بیٹی کو تھام کر وہاں سے چلتا بنا۔
“اللہ تعالیٰ اسے شفا یاب کرے۔ آمین۔ نہ جانے میرے ہاتھ میں بابا جیسی شفا کیوں نہیں۔” عیاد دوبارہ کرسی پر آبیٹھا اور اس پھول کا جائزہ لینے لگا جو نیل لیکر آیا تھا۔
“اسکا علاج ناممکن ہے۔” نیل ہنس پڑا ۔
“ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟” عیاد نے ناراضگی سے اسے گھورا۔
“کیونکہ یہ عشق کا بخار ہے جو اتنی آسانی سے نہیں اترتا۔ ابو عبید کی بیٹی تمہیں دل دے بیٹھی ہے۔ میں نے اسکی سوچوں کو پڑھا تھا۔ اس نے تمہارے سراپے کی اس قدر تعریفیں کیں کہ مجھے جلن ہونے لگی۔” نیل قہقہے لگانے لگا۔
“فضول باتیں مت کرو۔” عیاد کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔
“یہ فضول باتیں نہیں۔ تم غور کرو ۔۔ جب سے تم اس دوا خانے میں بیٹھنا شروع ہوۓ ہو پورے بغداد کی نوجوان لڑکیوں کو ایک ہی جیسے بخار نے آلیا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو کس کس کا علاج کرو گے۔” نیل نے کڑی سے کڑی ملائی۔
عیاد بے یقینی سے سر ہلانے لگا۔ اس نے تو ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔
“اب کیا کروں؟” وہ نیل کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔
“ان میں سے کسی ایک سے نکاح کرلو۔” نیل نے مشورہ دیا۔
“ناممکن۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ کم از کم دو سال تک میں نکاح نہیں کرنا چاہتا۔” عیاد نے نفی میں سر ہلایا۔
“تم خود کو یہاں ضائع کررہے ہو۔ اس دوا خانے کو فروخت کرو اور میرے ساتھ مصر چلو۔ تمہاری جگہ وہاں ہے۔ اب تو بابا بھی حیات نہیں جو تم انکی وجہ سے یہیں رکے رہو۔ تمہیں جس علم کی تلاش ہے وہ تمہیں مصر کی سرزمین میں ملے گا۔ اور بہترین ذریعہ معاش بھی۔ وہاں کے مدارس کو تمہارے جیسے ذہین آدمی کی ضرورت ہے۔ ” نیل نے اپنا مطالبہ دہرایا۔ اور اس بار عیاد کو اسکی باتیں صحیح لگیں تھیں۔ بغداد میں اب کچھ نہیں بچا تھا۔
وہ سفر کرنا چاہتا تھا۔ نئی زبانیں، نئے علوم سیکھنا چاہتا تھا۔ اسے واقعی مصر جانا چائیے۔ وہ فیصلہ کرکے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کہاں جارہے ہو؟” نیل اسکی سوچ پڑھنے سے قاصر تھا۔ وہ چاہ کر بھی عیاد کے ذہن تک رسائی حاصل نہیں کرپاتا تھا۔
“دواخانے کو فروخت کرنے کے لیے بولی لگوانے۔ اس کے بعد مجھے مصر جانے کی تیاری کرنی ہے۔” عیاد نے مسکراتے ہوئے اپنا کوفیہ گلے میں ڈالا اور دواخانے سے باہر نکل گیا تھا۔ نیل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
بالآخر عیاد ابیب مصر کی سرزمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ ایک نئی تاریخ رقم ہونے والی تھی۔