Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Mehreen Saleem

Paragraph Story Mehreen Saleem ہوا کے دوش پر بدمست بادل چھا رہے تھے کوئ پونے پانچ کے قریب ٹائم ہونے والا تھا سردیوں کے دن تھے…. ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی وہ شام دسمبر کی ٹھنڈی شام تھی ۔۔۔۔ ریحان صاحب عصر کی نماز سے فارغ ہوکر اپنی گیلری میں جا کھڑے ہوئے اور سامنے ناگن کی طرح بل کھاتی سڑک سے آتی ہر گاڑی کو تکتے… کہیں وہ انکے بنگلے کے پاس تو نہیں رک رہی !! لیکن ہر گاڑی زناٹے سے چلی جاتی۔۔۔۔ وہ کبھی گھڑی کو دیکھتے…

Read More

Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Zaheera Jamshaid

Paragraph Story Zaheera Jamshaid یہ جنوری 1948ء کی یخ بستہ رات کا آخری پہر تھا۔حمیدہ سفید شرارہ پہنے اور گرم کالی شال اوڑھے حویلی کے آنگن میں ٹہل رہی تھی۔ نیند تو جیسے اس سے روٹھ چکی تھی۔شوہر کی جدائی نے اسے ہڈیوں کا پتلا بنا دیا تھا۔ رنگ زردی مائل ہو گیا تھا۔ ان سفید کپڑوں میں وہ اور بھی اوپری سی لگتی تھی۔ لیکن زندگی کی ہر خوشی کی طرح اس نے رنگوں کو بھی خود پہ حرام کر لیا تھا۔ آج پھر سارے لمحے کسی فلم کی…

Read More

Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Kanwal Ejaz

Paragraph Story Kanwal Ejaz سات سال……..کے طویل انتظار کے بعد وہ حویلی لوٹ آیا تھا……. وہی حویلی جہاں کی فضا میں بچپن کی حسیں یادیں بسی تھیں….. وہی حویلی جہاں دل نے الگ انداز سے دھڑکنا سیکھا تھا… وہی جہاں آنکھوں نے خواب چنے تھے…. وہی جہاں دل کی نگری اجڑی تھی…. وہی جہاں کے کونے کونے میں خوابوں کے ٹوٹے کانچ بکھرے تھے….. حویلی میں قدم رکھتے ہی کیا کیا نا یاد آیا تھا اسے….. .بعد ضبط بھی آنکھیں نم ہو گی تھیں… دل پھر سے رو رہا تھا……

Read More

Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Kainaat Maqsood

 Paragraph Story Kainaat Maqsood ابرش کیا ھوا رک کیوں گٸ؟نیہا نے اُسے یوں سڑک کے درمیان رکتے دیکھ کر پوچھا نیہا وہ یہاں ھے۔۔ابرش اِدھر اُدھر دیکھتے ھوۓ بولی کون ھے یہاں؟ کوٸی نہیں ھے چلو نیہا اسکا ہاتھ پکڑتے بولی وہ ھے یہاں میرا دل کی ڈھرکن دیکھو نیہا کا ھاتھ اپنے دل کے عین اوپر رکھتے بولی یہ تب ایسے ڈھرکتا جب وہ آس پاس ھوں۔۔انکی خوشبو ھے یہاں۔۔۔انکھوں سے موتیوں کی برسات جاری تھی۔۔ اچھا چلو اُسے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنتے ددیکھ کر نیہا بازو…

Read More